• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پوتن اور امریکی ایلچیوں کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کی تجویز پر گفتگو

Updated: September 06, 2026, 7:02 PM IST | Kremlin

روس کے صدر پوتن اور امریکی ایلچیوں کے درمیان یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کی تجویز پر گفتگو ہوئی، روس کے معاون نے ماسکو مذاکرات کو ’انتہائی کھلا اور تعمیری‘ قرار دیا، جبکہ امریکی ایلچی کل یوکرین جائیں گے۔

Russian President Putin shaking hands with Jared Kushner. Photo: X
روسی صدر پوتن،جیرڈ کشنر سے مصافحہ کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین میں ماسکو کی چار سال سے زائد جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کے ایلچیوں سے ملاقات کی ہے۔اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سنیچرکو ماسکو پہنچنے کے بعد کریملن پہنچے۔ توقع ہے کہ یہ ایلچی اتوار کو یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچیں گے۔ پوتن نے دونوں کا استقبال ایک تقریب میں کیا جو روسی ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی، انہیں بتایا ”یقیناً صورتحال آسان نہیں ہے۔“ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے داماد کشنر اور ان کے خصوصی ایلچی اور کاروباری اتحادی وٹکوف ’جنگ ختم کرنے کی تجویز‘ لے کر جا رہے ہیں۔تین گھنٹے کی گفتگو کے بعد، سینئر روسی اہلکار کیریل دمتریف، جو ان ملاقاتوں کا حصہ بھی تھے، نے کہا کہ ایلچیوں کا ماسکو کا دورہ ’ایک اہم امن قائم کرنے والا دورہ‘ تھا۔روس اور یوکرین دونوں نے مذاکرات کے دوران تین دن تک ایک دوسرے کے دارالحکومتوں پر حملہ نہ کرنے کا عہد کیا، جبکہ واشنگٹن دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے بدترین تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔کریملن کے خارجہ پالیسی کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ’امن قیام کے لیے خیالات کا ایک پورا سلسلہ‘ تشکیل دیا گیا، جسے انہوں نے صحافیوں کو ’بامعنی، انتہائی کھلا اور تعمیری‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پوتن نے ایلچیوں کو بتایا کہ روس اپنے مقاصد حاصل کرے گا اور تنازع کی ’بنیادی وجوہات‘ کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی حمایت یافتہ اسرائیلی افسران ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹ: رپورٹ

بعد ازاں اوشاکوف نے کہا کہ ماسکو مشرقی یوکرین کے بقیہ حصے پر قبضہ کرنے کے اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے کے بارے میں ’پراعتماد‘ ہے۔اوشاکوف نے کہا کہ وٹکوف اور کشنر نے ’کیف میں اپنی بات چیت کے لیے پوتن کے جائزے لے جانے کا وعدہ کیا‘، اور دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ پوتن اور ٹرمپ رابطے میں رہیں گے۔وٹکوف نے پوتن کو بتایا کہ امریکی صدر نے نیک خواہشات بھیجی ہیں اور وفد کے دورے کے دوران محدود جنگ بندی کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ روسی صدر نے بھی ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو ثالثوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ماسکو سے الجزیرہ کی نامہ نگار یولیا شاپووالووا نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران کریملن کی جانب سے بات چیت کی پیشرفت کے حوالے سے ’کچھ کم و بیش پرامید رپورٹس‘ سامنے آئیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف پوتن کہتے ہیں کہ وہ ’عوامی سطح پر امن مذاکرات کے لیے کھلے ہیں‘، لیکن دوسری طرف ’یوکرین کی روس کے اندر گہرائی میں ڈرون کارروائیوں اور تیل کے بنیادی ڈھانچے اور آن لائن ریٹیلرز جیسے بڑے معاشی اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنانے کے بعد‘، وہ کسی بھی اہم مسئلے پر کوئی رعایت نہیں کریں گے، بڑے اختلافات برقرار ہیں، اور وہ ’دہشت گردوں‘ سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی اپنے بچوں کو اسرائیل کے کرائے کے فوجی نہ بننے دیں: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان

واضح رہے کہ یہ مذاکرات اس وقت ہوئے ہیں جب یہ جنگ جو فروری۲۰۲۲ء میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے سے شروع ہوئی گزشتہ چند مہینوں میں شہریوں کی اموات اور حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔مشرقی یوکرین کا بیشتر حصہ قبضے میں لینے اور اس پر قابض ہونے کے بعد، پوتن بارہا کہہ چکے ہیں کہ ماسکو اس کا بقیہ حصہ بھی لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔یوکرینی حکام کے مطابق، سنیچرکو یوکرین پر روسی حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں کیف کے مضافات بھی شامل ہیں۔دریں اثنا، مقامی حکام کے مطابق، روس کے بیلگوروڈ علاقے پر یوکرینی ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔کریملن نے کہا کہ وہ سنیچرکی آدھی رات سے کیف پر حملہ نہیں کرے گا، جبکہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا کہ وہ ’اب سے‘ پیر تک ماسکو پر حملے روک دیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: میرے جانے کے بعد کوئی یہ کام نہیں کریگا اسلئے ہر جگہ خود اپنا نام لگا رہا ہوں: ٹرمپ

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہایوکرینی لیڈر نے کہا کہ انہیں اتوار کو کیف میں امریکی اہلکاروں کی آمد کی توقع ہے۔یہ وٹکوف اور کشنر کا کیف کا پہلا دورہ ہوگا جب سے ٹرمپ نے گزشتہ سال تنازع حل کرنے کے وعدے کے ساتھ دوبارہ عہدہ سنبھالا تھا۔کیف سے الجزیرہ کی نامہ نگار آڈری میک ایلپائن نے بتایا کہ امریکی ایلچیوں کا یوکرین کا دورہ ملک میں ایک ’ سنگ میل‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، تاہم، اس دورے کو زیادہ رسمی سمجھا جا رہا ہے نہ کہ اس سے ’کسی حقیقی ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے، البتہ ہمیں ان ملاقاتوں کے نتائج کا انتظار کرنا ہوگا‘۔میک ایلپائن نے مزید کہا کہ یوکرین میں بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ ’غیر ملکی سفارت کاروں کو جنگ کی مکمل وسعت کو سمجھنے کے لیے یہاں آنا چاہیے، لہذا کل امریکی نمائندوں کا یہاں ہونا یوکرینی حکام کے لیے بہت اہم ہے۔‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK