اس جنگ بندی کا اطلاق ۹؍ مئی سے ہوچکا ہے، اس مدت میںہرقسم کی فوجی کارروائی رُ کی رہے گی، دونوں ممالک کے درمیان ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ ہوگا، مستقل جنگ بندی کیلئے مذاکرات جاری۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 11:06 AM IST | Washington
اس جنگ بندی کا اطلاق ۹؍ مئی سے ہوچکا ہے، اس مدت میںہرقسم کی فوجی کارروائی رُ کی رہے گی، دونوں ممالک کے درمیان ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ ہوگا، مستقل جنگ بندی کیلئے مذاکرات جاری۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز روس اور یوکرین کے درمیان سہ روزہ جنگ بندی کا اعلان کردیا جو۹؍ مئی سے ۱۱؍ مئی تک جاری رہے گی۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ اس جنگ بندی کے دوران تمام فوجی کارروائیاں روک دی جائیں گی، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ایک طویل، خونریز اور مشکل جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہوگی۔امریکی صدر کے مطابق جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات میں مسلسل پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کے لیے قانونی نظام کا بل تیار ہے: سینئر ایرانی قانون ساز
ماسکو نے بھی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی
دوسری جانب روس نے بھی جنگ بندی اور یوکرین کے ساتھ بڑی تعداد میں قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کر دی ہے۔کریملن کے مشیر برائے خارجہ پالیسی یوری اوشاکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ روسی فریق نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اس تجویز کو قبول کر لیا ہے جو روس اور یوکرین کے درمیان جنگی قیدیوں کے تبادلے کیلئے جنگ بندی سے متعلق ہے۔‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ کیف کے ساتھ اس جنگ بندی کی تجویز روسی یومِ فتح کی تقریبات کے دوران سامنے آئی جو حال ہی میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد طے پائی۔
روس اور یوکرین کے درمیان ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ
یوکرینی صدر زیلنسکی نے بھی جمعہ کے روز روس کے سا تھ تین روزہ جنگ بندی کی تصدیق کر دی، جو جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں کے تحت طے پائی ہے۔زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ایک ہزارجنگی قیدیوں کا تبادلہ کریں گے جبکہ انسانی مسائل یوکرین کی اولین ترجیح رہیں گے ۔انہوں نے لکھا’’اسی لئے ہمیں آج امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کے دوران روس کی جانب ہزارکے بدلے ہزار قیدیوں کے تبادلے پر رضامندی موصول ہوئی ہے۔
یوکرین کے فوجی کمانڈ کو حکم
اس سلسلے میں زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ روس کے یومِ فتح (دوسری جنگ ِ عظیم میں فتح کی یادگار) کے موقع پر۹؍ مئی کو ماسکو میں ہونے والی پریڈ کے دوران ریڈ اسکوائر کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ صدارتی ویب سائٹ پر جاری ایک فرمان میںکہا گیا تھا کہ ۹؍ مئی ۲۰۲۶ء کو صبح ۱۰؍ (کیف وقت کے مطابق) سے پریڈ کے دوران ریڈ اسکوائر کے علاقے کو یوکرینی ہتھیاروں کے استعمال کی منصوبہ بندی سے خارج رکھا جائے۔
الزامات کا تبادلہ
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر ۲؍ روزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جو ماسکو نے نازی جرمنی پر فتح کی سالگرہ کے موقع پر نافذ کی تھی۔روسی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس نے۹؍ مئی کی صبح کے ابتدائی گھنٹوں میں ۲۶۴؍یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا۔ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق روسی دارالحکومت کو بھی حملے کا سامنا کرنا پڑا۔اسی طرح روسی حکام نے بتایا کہ یورال پہاڑی علاقے میں واقع پرم خطہ بھی ڈرون حملے کی زد میں آیا۔
یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کو اسرائیل جلد رہا کرے گا
۱۴۰؍سے زائد حملے
اس کے برعکس یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ روسی افواج نے رات بھر یوکرینی ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ روس نے ان کے مطابق جنگ بندی روکنے کی کوئی بھی علامتی کوشش تک نہیں کی۔انہوں نے مزید بتایا کہ کیف کے محاذ پر صبح۷؍بجے (مقامی وقت، گرینچ کے مطابق۴؍ بجے) تک روس نے ۱۴۰؍ سے زائد حملے کئے۔زیلنسکی کے مطابق روسی افواج نے رات کے دوران۱۰؍ حملے کئے اور۸۵۰؍سے زائد ڈرون حملے بھی کیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین اسی طرح جواب دے گا ، جیسے ہم گزشتہ۲۴؍گھنٹوں میں کر چکے ہیں، آج بھی یوکرین اسی طرح جواب دے گا۔ ہم اپنے ٹھکانوں اور اپنے لوگوں کی جانوں کا دفاع کریں گے۔یاد رہے کہ روس نے۸؍ سے۱۰؍مئی کے دوران جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، کیونکہ اس دوران وہ دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی پر فتح کی سالگرہ مناتا ہے اور ماسکو میں فوجی پریڈ کا انعقاد کرتا ہے۔روس نے خبردار کیا تھا کہ اگر یوکرین نے تقریبات میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو کیف پر میزائل حملے مزید تیز کیے جائیں گے اور غیر ملکی سفارتکاروں کو ممکنہ ردعمل کے پیش نظر دارالحکومت چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔دوسری جانب زیلنسکی نے روسی اعلان کے جواب میں کچھ دن قبل۶؍ مئی سے غیر معینہ جنگ بندی کی تجویز دی تھی، لیکن ان کے مطابق روس نے اسے بھی توڑ دیا۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی تجاویز قبول نہیں کیں۔