Updated: April 02, 2026, 10:07 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی روحانی مشیر پولا وہائٹ کو ایک متنازع بیان کے بعد شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ٹرمپ کی مشکلات کا موازنہ مسیحا کی قربانی سے کیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے اسے توہین آمیز اور غیر مناسب قرار دیا۔ یہ بیان فوری طور پر وائرل ہو گیا اور مختلف حلقوں میں ان پر شدید تنقید کی گئی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
امریکہ میں ایک نیا تنازع اس وقت سامنے آیا جب ڈونالڈ ٹرمپ کی قریبی روحانی مشیر پولا وہائٹ نے ایک تقریر کے دوران ایسا بیان دیا جس نے سوشل میڈیا اور مذہبی حلقوں میں شدید ردعمل کو جنم دیا۔ بدھ کو دی گئی اس تقریر میں انہوں نے ٹرمپ کی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور الزامات کا موازنہ مسیحا کی قربانی اور آزمائشوں سے کیا، جسے کئی افراد نے حد سے زیادہ اور نامناسب قرار دیا۔ پولا وہائٹ نے کہا کہ ’’یسوع مسیح نے اپنی موت اور جی اٹھنے کے ذریعے ہمیں عظیم قیادت اور قربانی کا سبق دیا، اور جناب صدر، کسی نے بھی وہ قیمت ادا نہیں کی جو آپ نے ادا کی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کو ’’دھوکہ دیا گیا، گرفتار کیا گیا اور جھوٹے الزامات کا سامنا کرنا پڑا‘‘، جو ان کے بقول ایک ایسا نمونہ ہے جو مسیح کی زندگی سے مماثلت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز ہمارے کنٹرول میں، ٹرمپ کے اشاروں پر نہیں کھلے گی: آئی آر جی سی
انہوں نے اپنی تقریر میں مزید دعویٰ کیا کہ جس طرح مسیحا نے ’’تیسرے دن جی اٹھ کر برائی پر فتح حاصل کی‘‘، اسی طرح ٹرمپ بھی مشکلات سے ابھر کر کامیاب ہوں گے۔ ان کے مطابق، ’’خدا کا ایک منصوبہ ہے، اور آپ ہر اس چیز میں فتح حاصل کریں گے جس پر آپ ہاتھ ڈالیں گے۔‘‘ یہ بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد صارفین نے اسے ’’توہین آمیز‘‘، ’’مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا‘‘ اور ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’کسی سیاسی شخصیت کا یسوع مسیح سے موازنہ کرنا ناقابل قبول ہے‘‘، جبکہ دوسرے نے اسے ’’انتہائی غیر سنجیدہ اور خطرناک بیان‘‘ قرار دیا۔
مزید برآں، کچھ مذہبی مبصرین نے بھی اس بیان پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کے تقابل نہ صرف مذہبی حساسیت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر غلط پیغام بھی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مذہبی شخصیات کو سیاسی بیانیے میں اس انداز سے شامل کرنا تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ یہ ویڈیو چند گھنٹوں میں ہی لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہے اور اس پر ہزاروں تبصرے کیے گئے ہیں، جن میں اکثریت تنقیدی نوعیت کی ہے۔ تاہم کچھ حلقوں نے اس بیان کا دفاع بھی کیا اور اسے ’’روحانی تشبیہ‘‘ قرار دیا، اگرچہ یہ آوازیں نسبتاً کمزور نظر آئیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے دعوے پر ایران کی تردید، ہم نے کوئی تجویز پیش نہیں کی
واضح رہے کہ پولا ماضی میں بھی ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریبی تعلق اور مذہبی بیانات کے باعث خبروں میں رہی ہیں۔ وہ ٹرمپ کی صدارتی مہم اور دورِ صدارت کے دوران بھی ان کی نمایاں حامیوں میں شامل تھیں۔یہ تنازع اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مذہب اور سیاست کے امتزاج میں دیے جانے والے بیانات کس طرح فوری اور شدید ردعمل کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب وہ حساس مذہبی شخصیات سے متعلق ہوں۔