• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزویلا پر حملے کےبعد ٹرمپ نے کولمبیا، کیوبا، میکسیکو اور گرین لینڈ کو دھمکیاں دیں، ڈنمارک کا ردعمل

Updated: January 05, 2026, 9:04 PM IST | Washington

ٹرمپ نے میکسیکو کے متعلق دعویٰ کیا کہ منشیات کی تجارت کرنے والے گروپس عملی طور پر ملک ’چلا‘ رہے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر میکسیکو کے حکام ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے تو واشنگٹن مداخلت پر مجبور ہو سکتا ہے۔

Donald Trump. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں واشنگٹن کے ڈرامائی آپریشن کے بعد اب کولمبیا، کیوبا، میکسیکو اور گرین لینڈ کو نئی دھمکیاں دی ہیں۔ ٹرمپ نے ’ایئرفورس ون‘ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان ممالک کو دھمکیاں دیں جس کے بعد لاطینی امریکہ اور یورپ میں غم و غصہ پھیل گیا ہے۔

ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو کو واضح طور پر نشانہ بنایا اور انہیں ”بیمار آدمی“ قرار دیا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ کولمبیا، امریکہ میں کوکین کی اسمگلنگ میں سہولت پیدا کررہا ہے۔ واضح رہے کہ کولمبیا اور دیگر لاطینی امریکی ممالک نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کی مذمت کی ہے جس کے بعد ٹرمپ کے تبصرے سامنے آئے ہیں۔ اس آپریشن میں وینزویلین صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی کو اغوا کرلیا گیا۔ مادورو کی گرفتاری سے قبل ہوئے حملے میں مبینہ طور پر ۸۰ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا کی حمایت میں عالمی برادری نےآواز بلند کی

ٹرمپ نے میکسیکو کے متعلق دعویٰ کیا کہ منشیات کی تجارت کرنے والے گروپس عملی طور پر ملک ’چلا‘ رہے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر میکسیکو کے حکام ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے تو واشنگٹن مداخلت پر مجبور ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمیں کچھ کرنا پڑے گا۔“ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ پسند کرے گا کہ میکسیکو خود اس مسئلے سے نمٹے۔ کیوبا کے حوالے سے ٹرمپ نے پیش گوئی کی کہ امریکی مداخلت کے بغیر ہی وہاں کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے لاطینی امریکی ملک کو باکسنگ میچ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ہوانا (کیوبا کا دارالحکومت) کا زوال ناگزیر ہے۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ اب وینزویلا کا ”انچارج“ امریکہ ہے، حالانکہ وہاں کی سپریم کورٹ نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری لیڈر مقرر کیا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر روڈریگز نے امریکی مطالبات پر عمل نہ کیا تو انہیں `مادورو سے بھی بدتر“ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ روڈریگز نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں امریکی کارروائی کو ”صیہونی رنگ“ کا حامل قرار دیا اور عہد کیا کہ اس جارحیت کے پیچھے موجود افراد کا احتساب کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: کارگزار صدر ڈیلسی روڈریگز کی امریکہ کو تعاون کی دعوت

ٹرمپ کے بیان کے بعد گرین لینڈ معاملے پر تناؤ میں اضافہ

ٹرمپ کے تبصروں نے ڈنمارک کے ساتھ گرین لینڈ کے معاملے پر بھی تناؤ کو دوبارہ ہوا دی ہے، جو ڈنمارک کے تحت ایک خود مختار جزیرہ ہے۔ ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹ فریڈرکسن نے ٹرمپ کے دعوؤں کی سختی سے تردید کی کہ امریکہ کو قومی سلامتی کیلئے گرین لینڈ کی ’ضرورت‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”امریکہ کو ڈینش مملکت کے کسی بھی حصے پر قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔“ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ایک قریبی اتحادی کو دھمکیاں دینا بند کرے۔ 

گرین لینڈ کے وزیرِ اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے بھی اس تنقید کی حمایت کی۔ انہوں نے امریکہ سے وابستہ ان سوشل میڈیا پوسٹس کو ”تہذیب کے خلاف“ قرار دیا جن میں دنیا کے سب سے بڑے جزیرے پر امریکی قبضے کی تائید کی گئی تھی، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گرین لینڈ ’فروخت کیلئے نہیں ہے۔‘ 

یہ بھی پڑھئے: ۴سربراہان مملکت جنہیں امریکہ نے عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر ’’گرفتار‘‘ کیا

واضح رہے کہ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ دلیل دیتے آئے ہیں کہ آرکٹک میں واقع گرین لینڈ اپنے محلِ وقوع، معدنی دولت کے باعث اور خاص طور پر خطے میں بڑھتی ہوئی روسی اور چینی سرگرمیوں کے پیشِ نظر امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے۔ ان کی انتظامیہ نے حال ہی میں لوزیانا کے گورنر جیف لینڈری کو گرین لینڈ کیلئے خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے، جس نے کوپن ہیگن کو مزید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK