• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’سلو اور یارکر گیندیں ڈالنے پر بھی محنت کر رہا ہوں‘‘

Updated: November 30, 2025, 2:04 PM IST | Agency | Kolkata

تیز گیندباز عمران ملک گھریلو کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوبارہ ٹیم انڈیا میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

Fast bowler Umran Malik bowls at a speed of 150 kilometers per hour. Picture: INN
تیز گیندباز عمران ملک ۱۵۰؍کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیندبازی کرتےہیں۔ تصویر:آئی این این
تیز گیند باز عمران ملک زخمی ہونے کے بعد اب پوری طرح صحتیاب ہو چکے ہیں اور وہ گھریلو کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  دوبارہ ہندوستانی ٹیم میں جگہ بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس کیلئے وہ ۱۵۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکنے کی اپنی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سلو گیند اور تیز یارکر جیسی نئی خوبیوں پر بھروسہ کر رہے ہیں۔  اور اس پر سخت محنت بھی کر رہے ہیں۔
ہندوستان کیلئے۱۰؍ یک روزہ بین الاقوامی اور۸؍ٹی۔۲۰؍بین الاقوامی میچوں میں ۲۴؍ وکٹیں لینے والے عمران کئی وجوہات کی بنا پر جولائی ۲۰۲۳ءسےہندوستانی ٹیم سے باہر ہیں لیکن ان جھٹکوں کا ان کے حوصلے پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ عمران نےگزشتہ روز اتر پردیش کے خلاف جموں اور کشمیر کے سید مشتاق علی ٹرافی میچ کے بعد نامہ نگاروں سے کہا’’میں آپ کو ایک بات بتا دوں کہ جو ۱۵۰؍کلومیٹر کی رفتار سے گیند بازی کرتے ہیں وہ سٹرائیک گیندباز نہیں ہوتے، وہ اٹیکنگ بولر ہوتے ہیں۔ وہ ۴؍ اوورز میں ۳۰؍ رن دیںگے  لیکن آپ کو وکٹ بھی  نکال کردیں گے۔ ایک تیز گیند باز ایسا ہی ہوتا ہے۔ اسے پتہ ہونا چاہیے کہ اسے کیا کرنا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا’’جو گیند باز ۱۵۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کرتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بادشاہ ہے اور اسے خود پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ ہر کوئی ۱۵۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی نہیں کر سکتا۔ ۱۵۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کرنے کیلئے اصل ہمت چاہیے اور میں پچھلے ۵؍ برسوں سے یہ کر رہا ہوں۔‘‘
عمران ملک نے اس بات پر زور دیا کہ اس رفتار کے ساتھ گیند بازی کرنا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے کوئی سخت محنت سے حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہ’’ ۱۵۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کرنا ایک فن ہے، آپ سیدھے ۱۳۷؍ سے ۱۴۵؍پر نہیں جا سکتے۔ ٹریننگ کرو، جو چاہو کرو ،یہ قدرتی ہے، یہ سب فطری ہے۔ آپ کو خود کو اسی حساب سے ٹرین کرنے، ٹھیک سے کھانے، ٹھیک سے آرام کرنے، اپنے جسم کو تازہ دم رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ کل کے عمل کیلئے تیار رہیں۔اور اپنی رفتار پر قابو رکھ سکیں۔
عمران ملک نے کہا’’رفتار میرا قدرتی پہلو ہے، میں اس سے کیسے سمجھوتہ کر سکتا ہوں؟ ٹریننگ، دوڑنا، کارڈیو ،آپ کو اسے برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ کوئی خاص خوراک نہیں ہے۔ رفتار میری طاقت ہے۔مجھے اپنی طاقت واپس حاصل کرنی ہے۔‘‘
  واضح رہے کہ عمران نے آئی پی ایل ۲۰۲۴ء  میں ۱۵۶ء۷ ؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کی تھی لیکن تب سے کئی چوٹوں اور بیماریوں سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی صلاحیت یا اپنے مستقبل پر کبھی شک نہیں ہوا۔انہوں نے کہا ’’ایسا نہیں ہے کہ میں ذہنی طور پر خراب محسوس کر رہا تھا۔ مجھے پتہ ہے کہ میں اب اچھا کروں گا۔ میں ہندوستانی ٹیم میں واپس آؤں گا۔ مجھے خود پر بھروسہ ہے کیونکہ میں اکیلا ہوں جو ۱۵۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کرتا ہے۔‘‘عمران نے مزید کہا’’لیکن اب میں سست گیند بھی ڈال رہا ہوں جس پر میں کام کر رہا ہوں اور یارکرز پر بھی۔ میں سرخ گیند کے فارمیٹ میں بھی ایسا کر رہا ہوں اور سخت محنت کر رہا ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK