Updated: November 29, 2025, 10:50 AM IST
| New York
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے حالیہ آئینی ترامیم کو عدلیہ کی آزادی کیلئے نقصان دہ قرار دیا۔
یو این کے ہائی کمشنر۔ تصویر:آئی این این
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے پاکستان میں حالیہ آئینی ترامیم کو عدلیہ کی آزادی کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے عسکری حکام کے احتساب اور قانون کی حکمرانی سے متعلق گہری تشویش نے جنم لیا ہے۔
ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال آئین میں ۲۶؍ ویں ترمیم کی طرح حالیہ۲۷؍ویں ترمیم بھی قانونی شعبے اور سول سوسائٹی کے ساتھ وسیع تر مشورے اور ضروری بحث و مباحثے کے بغیر منظور کی گئی ہے۔ یہ ترامیم اختیارات کی عدم مرکزیت کے اصول سے متصادم ہیں جو ملک میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔
عدالتوں کے ججوں کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن سے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔۱۳؍ نومبر کو ہونے والی آئینی ترامیم کے تحت ایک نئی وفاقی آئینی عدالت بھی تشکیل دی گئی ہے جو آئینی مقدمات پر فیصلہ کرے گی جبکہ سپریم کورٹ اب صرف شہری اور فوجداری مقدمات سنے گی۔
ہائی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ ان تبدیلیوں سے عدلیہ میں سیاسی مداخلت اور اس کے انتظامیہ کے تابع ہو جانے کا خطرہ ہے۔ نہ تو انتظامیہ اور نہ ہی مقننہ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے یا اس کی سمت متعین کرنے کا اختیار ہونا چاہئے۔ عدلیہ کو اپنے فیصلوں میں ہر طرح کی سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
عدلیہ کی آزادی کا بنیادی پیمانہ یہ ہے کہ وہ حکومت کی سیاسی مداخلت سے آزاد ہو۔ ماضی کے تجربات سے ثابت ہے کہ اگر جج آزاد نہ ہوں تو انہیں قانون کے یکساں نفاذ اور انسانی حقوق کے تحفظ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
وولکر ترک نے کہا ہے کہ حالیہ ترمیم ملک کے صدر، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو فوجداری مقدمات سے دائمی استثنیٰ دیتی ہے جنہیں نہ تو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسا وسیع تر استثنیٰ احتساب کے عمل کو کمزور کرتا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ ترامیم پاکستان کے عوام کے لئے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سے متعلق دور رس منفی نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔