Inquilab Logo Happiest Places to Work

یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ نے روس اور بیلاروس کے پہلوانوں پر عائد پابندی ختم کر دی

Updated: May 15, 2026, 8:06 PM IST | New York

یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ (یو ڈبلیو ڈبلیو) نے اعلان کیا ہے کہ روس اور بیلاروس کے پہلوانوں کو فوری طور پر یو ڈبلیو ڈبلیو مقابلوں میں بغیر کسی پابندی کے حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

Russian Wrestler.Photo:INN
روسی پہلوان۔تصویر:آئی این این

یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ (یو ڈبلیو ڈبلیو) نے اعلان کیا ہے کہ روس اور بیلاروس کے پہلوانوں کو فوری طور پر یو ڈبلیو ڈبلیو مقابلوں میں بغیر کسی پابندی کے حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔یو ڈبلیو ڈبلیو کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے پہلوان اب سینئر سطح کے مقابلوں سمیت تمام زمروں میں اپنے قومی پرچم کے تحت حصہ لیں گے۔ کھلاڑیوں اور ٹیم اسٹاف کو اپنے یونیفارم پر روس اور بیلاروس کے مختصر نام (شارٹ فارم) دکھانے کی بھی اجازت ہوگی۔ اگر روس اور بیلاروس کے پہلوان گولڈ میڈل جیتتے ہیں یا ان کی ٹیمیں چیمپئن شپ ٹائٹل حاصل کرتی ہیں تو میڈل تقریب کے دوران ان کا قومی ترانہ بجایا جائے گا۔ یو ڈبلیو ڈبلیو نے کہا کہ باقی تمام مقابلوں کے طریقہ کار اور پروٹوکول بین الاقوامی ریسلنگ (کُشتی) کے معیاری قوانین کے مطابق ہی رہیں گے۔یہ نیا قدم یو ڈبلیو ڈبلیو کے مؤقف میں ایک بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ ۲۰۲۲ء میں یوکرین کے گرد جغرافیائی سیاسی تنازع کے بعد پہلی بار پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ اسی سال مارچ میں ریسلنگ کی گورننگ باڈی نے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی سفارشات کے مطابق روسی اور بیلاروسی پہلوانوں اور آفیشلز کو یو ڈبلیو ڈبلیو کیلنڈر کے ایونٹس میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔
 پچھلے دو برسوں میں یو ڈبلیو ڈبلیو نے بتدریج ان پابندیوں میں نرمی کی ہے۔ اپریل ۲۰۲۳ء میں فیڈریشن نے آئی او سی کی لیڈروں کے تحت ایک آزاد پینل بنایا تاکہ روس اور بیلاروس کے پہلوانوں کی اہلیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اسی دوران دونوں ممالک کے انڈر۱۵؍ اور انڈر۱۷؍ کھلاڑیوں کو غیر جانبدار ایتھلیٹس کے طور پر بین الاقوامی سطح پر مقابلے کی اجازت دی گئی۔

یہ بھی پڑھئے:تبو نے عمر، صنفی تعصب اور فلمی صنعت کے دباؤ پر کھل کر بات کی


اس سال جنوری میں مزید نرمی اس وقت کی گئی جب یو ڈبلیو ڈبلیو نے انڈر۲۳؍ عمر کے گروپ تک روسی اور بیلاروسی پہلوانوں کو اپنے قومی پرچم کے تحت حصہ لینے کی اجازت دی۔ یہ فیصلہ آئی او سی کی ایک سفارش کے بعد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ روسی یا بیلاروسی پاسپورٹ رکھنے والے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی اسپورٹس ایونٹس میں پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:ممبئی انڈینز کی سنسنی خیز جیت، پنجاب کنگز کو مسلسل پانچویں ہار کا سامنا


یو ڈبلیو ڈبلیو نے ستمبر ۲۰۲۴ء میں اپنے اہلیت کے فریم ورک میں بھی تبدیلی کی  اور فروری ۲۰۲۵ء میں مزید ترمیم کی، جس کے بعد دونوں ممالک کے اہل کھلاڑیوں کو انفرادی غیر جانبدار ایتھلیٹس کے بجائے یو ڈبلیو ڈبلیو پرچم کے تحت مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ تاہم یو ڈبلیو ڈبلیو نے بیلاروس اور روس کے قومی ترانے، پرچم، نشانات یا کوٹ آف آرمز کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی۔ نئی پالیسی کے تحت تمام پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، جس سے روس اور بیلاروس کے پہلوانوں کی یو ڈبلیو ڈبلیو مقابلوں میں شرکت یقینی ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK