Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہیسر موری کے قریب مسلح ہجوم کا ۲؍ مسلم نوجوانوں پر حملہ

Updated: May 15, 2026, 8:07 PM IST | Mumbai

ممبئی پونے روڈ پر دہیسر موری کے قریب معمولی تکرار نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کرلیا جب مسلح ہجوم نے دو مسلم نوجوانوں پر مبینہ طور پر حملہ کردیا۔

The injured youth is undergoing treatment in the hospital. Photo: INN
زخمی نوجوان اسپتال میں زیر علاج ہے۔ تسویر: آئی این این

ممبئی پونے روڈ پر دہیسر موری کے قریب معمولی تکرار نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کرلیا جب مسلح ہجوم نے دو مسلم نوجوانوں پر مبینہ طور پر حملہ کردیا۔حملہ آوروں نے نہ صرف نوجوانوں کو زد و کوب کا نشانہ بنایا بلکہ ایک نوجوان کے گلے سے سونے کی چین اور نقد رقم بھی لوٹ لی۔ متاثرہ نوجوانوں کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے معاملے میں غیر جانبدارانہ کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ملزمین کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جس پر اہل خانہ میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے سخت قانونی چارہ جوئی کریں گے۔تفصیلات کے مطابق ۱۱؍مئی کی شب تقریبا ۲؍ بجے امان انصاری (۵۲؍سال) اور ایان انصاری (۱۶؍ سال) تلوجہ سے واشی جارہے تھے جب ان کی کار کیدارناتھ پیٹرول پمپ کے پاس سے گزررہی تھی تب ایک دوسری کار نے انہیں پیچھے سے ٹکر ماری۔گاڑی کو پہنچنے والے نقصان پر جب امان نے سوال کیا تو ملزمین نے مشتعل ہو کر ۸ ؍سے ۱۰؍ افراد کے مسلح ہجوم کو بلا لیا۔لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے لیس اس ٹولے نے دونوں بھائیوں پر وحشیانہ حملہ کرکے انہیں شدید زخمی کر دیا۔ حملے کے دوران ملزمین نے امان کے گلے سے سونے کی زنجیر اور پرس میں موجود ۷۵ ہزار روپے نقد بھی لوٹ لیے۔

یہ بھی پڑھئے : بیسٹ کی ۴؍ بسیں ٹکرا گئیں، کنڈکٹر کی موت

اس معاملے میں قابل افسوس پہلو تلوجہ ایم آئی ڈی سی پولیس کا رویہ رہا ۔ متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ پولیس افسر وکاس سبھاش پاتھرڈے نے دانستہ طور پر ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی تاکہ نشے میں دھت ملزمین کا طبی معائنہ نارمل آ سکے۔ مزید برآں یہ سنگین انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پولیس نے ملزمین کو تھانے بلا کر بغیر کسی کارروائی کے رہا کر دیا۔اس معاملے میں اہل خانہ نے ایڈوکیٹ شبنم شیخ کے ذریعے نوی ممبئی پولیس کمشنر کو دی گئی درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈیوٹی میں غفلت برتنے والے افسر کے بجائے کسی ایماندار افسر سےمکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔ متاثرہ نوجوانوں کی والدہ کنیزہ انصاری نے بتایا کہ واردات کو ۴؍ دن گزر گئے ہیں، اس کے باوجود پولیس نے ہنوز معاملہ درج نہیں کیا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ملزمین کے خلاف آرمس ایکٹ کی دفعات کے تحت فوری کارروائی نہ ہوئی تو وہ بامبے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گی۔اس بارے میں سینئر پولیس انسپکٹر وکاس  پاٹھڑے سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کال ریسیو نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK