Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمن چانسلر مرز کا بیان: میں اپنے بچوں کو امریکہ میں پڑھنے یا کام کرنے کا مشورہ نہیں دوں گا

Updated: May 15, 2026, 8:02 PM IST | Berlin

مرز کے مطابق، امریکہ میں سماجی ماحول نمایاں طور پر تبدیل ہوچکا ہے۔ اب وہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد کو بھی ملازمتیں تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے جمعہ کے دن بیان دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں سمیت جرمن نوجوانوں کو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یا وہاں کریئر بنانے کا مشورہ نہیں دیں گے۔ انہوں نے اس کی وجہ وہاں کے بدلتے ہوئے سماجی ماحول اور ملازمتوں کے گرتے ہوئے امکانات کو قرار دیا۔

وورزبورگ (Wurzburg) میں جرمن کیتھولک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر نے کہا کہ ”آج، میں اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کیلئے امریکہ جانے کا مشورہ نہیں دوں گا۔“ قدامت پسند لیڈر نے اس کی وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں سماجی ماحول نمایاں طور پر تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب امریکہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد کو بھی ملازمتیں تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تقریب میں موجود نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے، مرز نے دلیل دی کہ جنگوں اور بین الاقوامی تنازعات کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی سطح کے معاشی دباؤ کے باوجود جرمنی اب بھی مضبوط طویل مدتی مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے جرمنی کی سماجی مارکیٹ معیشت، ملازمین کے مالکانہ حقوق اور کام کی جگہ پر نمائندگی کو ملکی نظام کی اہم طاقتوں کے طور پر پیش کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ’’غیر قانونی جنگ‘‘ نے امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا: چک شومر

مرز نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جرمنی کے مستقبل کے بارے میں پرامید رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی اب بھی نوجوان نسلوں کیلئے دنیا میں بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”میں ہم سب کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں پرامید رہنا چاہئے، بہت سے چیلنجز کے باوجود، ہم اسے ممکن بنا سکتے ہیں۔“ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”مجھے پختہ یقین ہے کہ دنیا میں ایسے بہت کم ممالک ہیں جو نوجوانوں کیلئے اتنے شاندار مواقع پیش کرتے ہیں، جتنے جرمنی کرتا ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK