Inquilab Logo Happiest Places to Work

مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی امریکی وفد کی قیادت وینس کے سپرد

Updated: April 15, 2026, 2:59 PM IST | New York

امریکی ٹی وی سی این این نے کہا ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امریکی وفد کی قیادت بھی نائب صدر جے ڈی وینس کے سپرد رہے گی۔

J D Vance.Photo:PTI
جے ڈے وینس۔ تصویر:پی ٹی آئی

 امریکی ٹی وی سی این این نے کہا ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امریکی وفد کی قیادت بھی نائب صدر جے ڈی وینس کے سپرد رہے گی۔ 
سی این این کے مطابق ممکنہ مذاکرات کے سلسلے میں ذرائع نے بتایا کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے سے قبل اگلے ہفتے کوئی ملاقات ہوتی ہے تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے حکام کے ساتھ مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کی قیادت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی کسی ممکنہ دوسرے اجلاس میں شرکت کریں گے، جو جنگ سے قبل سے سفارتی بات چیت کی قیادت کرتے آ رہے ہیں۔ 
ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ دوسری ملاقات کے لیے تفصیلات پر تبادلہ خیال کر رہی ہے، صدر ٹرمپ نے اپنے ۳؍ اعلیٰ مشیروں کو جنگ سے نکلنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہوں گے، صدر اب بھی ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:۲۰۲۷ء میں ’’فورس ۳‘‘ریلیز ہوگی، جان کے ساتھ ہرش وردھن بھی ہو ں گے


جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کو ہونے والے ۲۱؍ گھنٹے طویل اجلاس کے بعد سے ایرانی حکام اور ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ سی این این کے مطابق اس سے قبل بھی رپورٹ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ دوسرے اجلاس کی تفصیلات پر اندرونی سطح پر غور کر رہی ہے، تاہم منگل کی شام تک یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ آیا یہ ملاقات واقعی ہو پائے گی یا نہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:اسلام مخاچیف اٹلی کے سفر کے دوران لوٹ لیے گئے، نایاب تحفہ واپس کرنے کی اپیل


صدر ٹرمپ نے منگل کے روز نیویارک پوسٹ کو بتایا تھا کہ آئندہ دو دنوں میں پاکستان میں کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے کیوں کہ امریکہ اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ مستقبل کے مذاکرات زیرِ غور ہیں، تاہم اس وقت تک کوئی باضابطہ شیڈول طے نہیں کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK