امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ حماس غیر مسلح ہوجائے گا، انہوں نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا محصور غزہ کے لیے مکمل منصوبہ حماس کے غیر مسلح ہونے پر منحصر ہے۔
EPAPER
Updated: April 28, 2026, 4:03 PM IST | Washington
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ حماس غیر مسلح ہوجائے گا، انہوں نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا محصور غزہ کے لیے مکمل منصوبہ حماس کے غیر مسلح ہونے پر منحصر ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا کہ’’ فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے غیر مسلح ہونے کے امید افزا امکانات‘‘ نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا محصور غزہ کے لیے مکمل منصوبہ اسی اقدام (حماس کے غیر مسلح ہونے) پر منحصر ہے۔روبیو کا کہنا تھا کہ مصر اور ترکیہ اس عمل میں شامل ہیں، اور گزشتہ ہفتے کے دوران کچھ امید افزا آثار نظر آئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ’’اگر حماس ہتھیار نہ ڈالے تو کیا امریکہ اسرائیل کی غزہ پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کرے گا، تو روبیو نے کہا کہ وہ اس بارے میں قیاس آرائی نہیں کریں گے، اور مطلوبہ نتیجہ یہی ہے کہ حماس غیر مسلح ہو اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی مدد سے فلسطینی سیکیورٹی فورس غزہ کو محفوظ بنائے۔
دریں اثناءحماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ غیر مسلح کرنے پر اصرار اور غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کی شرائط کو نظرانداز کرنا ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا دوسرے مرحلے پر مذاکرات کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔تاہم حماس نے مطالبہ کیا کہ مزید کسی بحث سے قبل پہلے مرحلے کی ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔مزید برآں حماس کا کہنا ہے کہ جہاں اس نے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرکے پہلے مرحلے کی شرائط پوری کیں، وہیں اسرائیل نے اپنی انسانی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور حملے جاری رکھے، جس سے ۷۸۶؍فلسطینی شہید اور۲۲۱۷؍ زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے وسیع انخلاء، تعمیر نو، اور حماس کے غیر مسلح ہونے کا آغاز شامل ہے، جبکہ اسرائیل اب بھی غزہ کے۵۰؍ فیصد سے زیادہ حصے پر قابض ہے۔ بعد ازاںحماس نے اسرائیلی دھمکیوں کو ’’دباؤ کے ہتھیار ‘‘ قرار دیا جو ناکام ہوں گے۔