اتر پردیش کے ضلع ہمیرپور میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ شدید طوفان کے باعث زیرِ تعمیر پل کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر چھ مزدور ہلاک ہو گئے۔
EPAPER
Updated: May 29, 2026, 12:16 PM IST | Hamirpur
اتر پردیش کے ضلع ہمیرپور میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ شدید طوفان کے باعث زیرِ تعمیر پل کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر چھ مزدور ہلاک ہو گئے۔
اتر پردیش کے ضلع ہمیرپور میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ شدید طوفان کے باعث زیرِ تعمیر پل کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر چھ مزدور ہلاک ہو گئے، جبکہ کئی دیگر افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور مقامی لوگ موقع پر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آریاناگرانڈے کو بچانے پرسینتیا اریوو ٹرولنگ کا شکار
ہمیرپور کے اے ایس پی اروند کمار ورما نے بتایاکہ ’’۲۸؍اور ۲۹؍مئی کی درمیانی شب تقریباً ۲؍بجے اطلاع ملی کہ تھانہ لالپور علاقے میں موراکندر اور کرارا کی موائی جار کو جوڑنے کے لیے بننے والے پل کا سلیب گر گیا ہے، جس کے نیچے کچھ لوگ دب گئے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور ہم سب فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ اس وقت تین افراد ستون پر پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں بچانے کے لیے ایس ڈی آر ایف اور ہماری ٹیم مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ چھ افراد کے ملبے میں دبے ہونے کی اطلاع ہے، جن میں سے پانچ کی شناخت ہو چکی ہے۔ سلیب ہٹا کر انہیں باہر نکالا جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:کوالیفائر ۲؍ میں مداحوں کی نظریں سوریا ونشی کی جارحانہ بلے بازی پر مرکوز
اطلاعات کے مطابق، بیتوا ندی پر بننے والے اس زیرِ تعمیر پل کا ایک بڑا حصہ گر گیا۔ حادثے کے وقت کئی مزدور پل کے نیچے سو رہے تھے، جو ملبے تلے دب گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں باندا اور ہمیرپور اضلاع کے مزدور شامل بتائے جا رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس پل کی تعمیر راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ بابو رام نشاد کی کوششوں سے کی جا رہی تھی۔حکام نے موقع پر پہنچ کر راحت اور بچاؤ کاموں کا جائزہ لیا ہے۔ فی الحال ترجیح ملبے میں پھنسے افراد کو محفوظ طریقے سے نکالنے پر دی جا رہی ہے۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی ٹیم کو بھی طلب کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پل کے معیار میں کوئی کمی تھی یا اس کے گرنے کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔ ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔ جائے حادثہ پر بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں اور پولیس اور انتظامیہ کے سینئر افسران بھی موقع پر موجود ہیں۔ انتظامیہ ہلاک اور زخمی افراد کی شناخت کی کوشش کر رہی ہے۔