Inquilab Logo Happiest Places to Work

وجے کی آخری فلم ’’جنا نائیگن ‘‘کو A سرٹیفکیٹ، کئی مناظر پر سینسر بورڈ کی قینچی

Updated: July 11, 2026, 3:16 PM IST | Chennai

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور سپر اسٹار وجے کی آخری فلم ’’جنا نائیگن‘ نے کئی ماہ کی تاخیر کے بعد بالآخر سینسر بورڈ کی منظوری حاصل کر لی ہے۔ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) نے فلم کو ’’اے‘‘ (صرف بالغوں کے لیے) سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے، تاہم منظوری سے قبل فلم میں متعدد اہم تبدیلیاں کی گئیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

تمل سپر اسٹار اور تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے کی بطور اداکار آخری فلم ’’جنا نائیگن‘‘ نے طویل انتظار اور متعدد تاخیر کے بعد بالآخر سینسر بورڈ کا مرحلہ عبور کر لیا ہے۔ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) نے فلم کو ’’اے‘‘ (صرف بالغ ناظرین) کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے، تاہم اس منظوری سے قبل فلم میں کئی اہم ترامیم کی گئیں، جن میں سب سے نمایاں وجے کی سیاسی جماعت تملگا ویٹری کزگم (TVK) سے متعلق حوالوں کو حذف کرنا ہے۔ یہ فلم ابتدا میں جنوری ۲۰۲۶ء میں سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی تھی، لیکن مختلف وجوہات کے باعث اس کی نمائش کئی مرتبہ مؤخر ہوتی رہی۔ اب سینسر بورڈ کی منظوری کے بعد فلم کی ریلیز کی راہ ہموار ہو گئی ہے، اگرچہ پروڈیوسرز نے ابھی تک نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کو ۲۴؍  جولائی کو ریلیز کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق کا انتظار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فلم’ستیہ‘ میں شیفالی شاہ کو شامل کروانے کیلئے منوج باجپئی نےڈائریکٹر کو منایا تھا

رپورٹس کے مطابق فلم میں وجے کے کردار کا نام ’’تھلاپتی ویٹری کونڈن‘‘ رکھا گیا ہے، جس کے ابتدائی حروف TVK بنتے ہیں۔ یہی مخفف وجے کی سیاسی جماعت تمل گا ویٹری کزگم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے سینسر بورڈ نے فلم میں موجود اس حوالے پر اعتراض کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کے ایک اہم منظر میں موجود مکالمہ ’’امبیڈکر ستم… سے… TVK ستم‘‘ کو خاموش کر دیا گیا اور آڈیو و ویژول دونوں ٹریکس سے اس کا حوالہ حذف کر دیا گیا۔ یہ تبدیلی فلم کے مجموعی دورانیے میں کسی کمی کے بغیر کی گئی۔ سرٹیفیکیشن نوٹ کے مطابق فلم میں کئی دیگر حساس مکالموں اور مناظر میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔ ایک مکالمے کو تبدیل کر کے ’’امبیڈکر جہاں کہیں بھی نظر آتے ہیں، وہ کتاب کے سرورق پر دکھائے جاتے ہیں‘‘ کر دیا گیا، جبکہ ایک ایسا منظر بھی ہٹا دیا گیا جس میں ہندوستانی قومی پرچم کو زمین پر گرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ۸۰ء کی دہائی کے لور بوائےکمارگورو آج فلموں سے دور ہیں

اسی طرح متعدد الفاظ اور جملوں کو بھی خاموش کیا گیا، جن میں ’’بھگواتم‘‘، ’’رنگناتھر‘‘، ’’تھیویدیا پائیا‘‘ اور ’’اوتھا‘‘ شامل ہیں۔ سینسر بورڈ نے فلم میں موجود لفظ ’’او ایم‘‘ کی تمام مثالیں بھی حذف کر دیں، جبکہ ’’نیو انڈیا‘‘ کی اصطلاح کو بھی فلم سے نکال دیا گیا۔ مزید برآں ایک ایسے مکالمے میں بھی ترمیم کی گئی جس میں صدام حسین کی پھانسی کا حوالہ موجود تھا۔ اسی طرح ایک منظر، جس میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے بیج کو توہین آمیز انداز میں نیچے اتارتے ہوئے دکھایا گیا تھا، اسے بھی تبدیل کر دیا گیا۔ سرٹیفکیشن نوٹ کے مطابق مزید چند مکالموں کو خاموش کیا گیا، جبکہ ایک ایسے منظر کو بھی ہٹا دیا گیا جس میں ایک بچے کو جلائے جانے کی تصویر کشی کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ’’سلوویلا‘‘ کا لفظ بھی خاموش کر دیا گیا اور فلم میں جہاں جہاں ’’شیلا رانی‘‘ کا نام استعمال کیا گیا تھا، اسے بھی تبدیل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: امیتابھ بچن نے ایودھیا میں ۱۵؍ کروڑ کا پلاٹ کیسے خریدا؟ ابھینندن لودھا کا انکشاف

ان تمام ترامیم کے بعد فلم کا منظور شدہ دورانیہ ۳؍ گھنٹے اور ۳؍  منٹ رکھا گیا ہے۔’’جنا نائیگن‘‘ کو وجے کے فلمی کریئر کی آخری فلم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے مکمل طور پر سیاست پر توجہ مرکوز کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس فلم کی ہدایت کاری ایچ ونوتھ نے کی ہے، جبکہ اس میں پوجا ہیگڑے، بوبی دیول، ممیتھا بیجو، گوتم واسودیو مینن اور پرکاش راج بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وجے کی فلمی رخصتی اور ان کے سیاسی سفر کے تناظر میں ’’جنا نائیگن‘‘ کو سال کی اہم ترین تمل فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث شائقین اس کی ریلیز کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK