Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسپین: غزہ امدادی بحری قافلے پر حملہ،اسرائیلی فوجی حکام کے خلاف تحقیقات کا آغاز

Updated: July 11, 2026, 5:11 PM IST | Madrid

اسپین نے غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے پر حملے کے سلسلے میں اسرائیلی فوجی حکام کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، یہ تحقیقات اسرائیلی فوج کے سربراہ اور بحریہ کے کمانڈر کے ذریعے ہسپانوی جھنڈے والے جہازوں پر مبینہ غیرقانونی حراستوں کے خلاف ہورہی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسپین کی قومی عدالت نے غزہ پٹی میں امداد لے جانے والے بحری قافلے (فلوٹیلا) کی اسرائیلی افواج کی جانب سے روک تھام کے واقعے کے سلسلے میں اسرائیلی فوجی حکام کے خلاف تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ تحقیقات اسرائیلی فوج کے سربراہ اور بحریہ کے کمانڈر کے  ذریعے ہسپانوی جھنڈے والے جہازوں پر مبینہ غیرقانونی حراستوں کے خلاف ہورہی ہے۔ اخبار ’’ایل پائیس‘‘ کے جمعہ کو شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، جج فرانسسکو دے خورخے نے اسپین کی کمیونسٹ پارٹی، متحدہ بائیں بازو کی وفاق اور متعدد کارکنوں کی طرف سے اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضامیر اور اسرائیلی بحریہ کے کمانڈر رام روتھ برگ کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کو قبول کر لیا۔یہ درخواستیں گلوبل صمود بحری قافلے میں شامل کشتیوں پر حملے سے متعلق ہیں، جو غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد لے جا رہہ تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی اسرائیل کو وارننگ ، اب حملہ کیا تووجود مٹادیں گے

عدالتی حکم کے مطابق، اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں ساحل سے تقریباً۷۰؍ سمندری میل کے فاصلے پر متعدد جہازوں جن میں ہسپانوی جھنڈے والے بحری جہاز بھی شامل تھے پر قبضہ کر لیا۔جج نے کہا کہ درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی اہلکاروں نے زبردستی ان جہازوں کا کنٹرول سنبھالا، املاک کو نقصان پہنچایا، اور عملے کے اراکین جن میں درجنوں ہسپانوی شہری بھی شامل تھے کو غیرقانونی طور پر حراست میں لے لیا۔علاوہ ازیںعدالتی حکم کے مطابق، درخواست گزاروں نے مزید دعویٰ کیا کہ حراست میں لیے گئے افراد کو بعد میں اسرائیل کی ’’کیتزیوٹ‘‘ جیل میں رکھا گیا، جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں قانونی اور سفارتی مدد سے محروم رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: جانئے ترک صدر اردگان نے ناٹو لیڈروں کو تحفے میں ریوالور ہی کیوں دیا؟

بعد ازاں جج دے خورخے نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دفترِ پراسیکیوٹر سے بھی یہ وضاحت طلب کی کہ آیا یہ مبینہ غیرقانونی حرکتیں فلسطینی علاقوں میں مبینہ اسرائیلی نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، یا پھر اسپین کی یہ کارروائی ان تحقیقات سے متصادم ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK