Inquilab Logo Happiest Places to Work

قاتلانہ حملے کی دھمکیوں کے بعد ٹرمپ کا ’ایک ہزار میزائل بالکل تیار‘ رکھنے کا دعویٰ، جنگ بندی ختم

Updated: July 11, 2026, 6:02 PM IST | Washington

ٹرمپ نے تصدیق کی کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ سی این این نے رپورٹ کیا کہ قطری مذاکرات کاروں نے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت ایران کا سفر کیا۔ توقع ہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز کے حوالے سے گفتگو کیلئے عمان کا سفر کریں گے۔

Donald Trump. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

ایران کی جانب سے امریکی صدر پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنائے جانے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تہران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایات دے دی ہیں کہ اگر ان پر کوئی بھی حملہ کرنے کی کوشش کی گئی، تو وہ اس ملک پر ”ایسی شدت کے ساتھ بمباری کریں جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔“ جمعہ کے دن ’دی نیویارک پوسٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ”بس اتنی سی بات ہے کہ میں نے ہدایات دے دی ہیں، اگر کچھ بھی ہوتا ہے تو ان پر اس سطح پر بمباری کی جائے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔“

یہ بھی پڑھئے: ایران نے ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ بنا یا: وال اسٹریٹ جرنل

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل (Truth Social) پر ٹرمپ نے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے لکھا: ”اگر ایرانی حکومت امریکہ کے برسرِاقتدار صدر، جو کہ اس کیس میں ’میں‘ ہوں، کو قتل کرنے یا قتل کرنے کی کوشش کرنے کی اپنی اس دھمکی پر عمل کرتی ہے جس کا چرچہ دنیا کے کئی کونوں میں ہے، تو (میں انہیں بتا دوں کہ) ہمارے ایک ہزار میزائل بالکل تیار (Locked and Loaded) ہیں اور ان کا رخ اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف ہے، جبکہ ہزاروں مزید میزائل فوری طور پر ان کے پیچھے داغے جائیں گے!“ انہوں نے مزید کہا کہ اس کیلئے احکامات پہلے ہی دیئے جا چکے ہیں اور امریکی فوج ”ایک سال کی مدت کیلئے، جس میں توسیع کی جا سکتی ہے، ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر نیست و نابود اور تباہ کرنے کیلئے تیار اور اہل ہے۔“

ٹرمپ کی جانب سے یہ انتباہات جمعرات کے دن ایران کے آنجہانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر امریکہ مخالف نعروں کے بعد سامنے آئے، جس میں مظاہرین نے ایسے بینرز لہرا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ”ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے۔“ انقرہ میں نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ”ان کی ہر ایک ہٹ لسٹ“ پر موجود ہیں، انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اب تک ”تھوڑے خوش قسمت“ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آیت اللہ علی خامنہ ای کے راستے پر چلنے کا عزم

جنگ بندی ختم لیکن مذاکرات جاری رہیں گے

ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کا بھی اعلان کرتے ہوئے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ”امریکہ نے ان پر بالکل واضح الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے!“ بعد میں ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ سی این این نے رپورٹ کیا کہ قطری مذاکرات کاروں نے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت ایران کا سفر کیا ہے، توقع ہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز کے حوالے سے گفتگو کیلئے عمان کا سفر کریں گے۔

عراقچی نے ایکس پر ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ اس یادداشت مفاہمت کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس پر گزشتہ ماہ دونوں فریقوں نے دستخط کئے تھے، خاص طور پر اقتباس نمبر ۹ کی، جو حتمی معاہدے تک امریکہ کو نئی پابندیاں لگانے یا ایران کے قریب اضافی افواج تعینات کرنے سے روکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران میں دھماکے، امریکی فوج کی ملوث ہونے کی تردید

پاکستان کی ایران سے ’مشکل سے حاصل کردہ امن‘ کو برقرار رکھنے کی اپیل

پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو فون کیا اور حملوں کے اس نئے سلسلے کے بعد تحمل اور مذاکرات پر زور دیا۔ شریف نے ایکس پر پوسٹ کیا: ”ہم نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور حالیہ مہینوں میں حاصل ہونے والے امن کے ثمرات کے تحفظ کیلئے تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری کی ناگزیری پر زور دیا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کیلئے ”ایماندار اور مخلص ثالث“ کے طور پر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔ شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو بھی فون کیا تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ مصر اور قطر کے وزرائے خارجہ نے بھی الگ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قابو میں رکھنے اور تنازع کو پھیلنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK