Updated: July 11, 2026, 5:05 PM IST
| Mumbai
ہالی ووڈ کے معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولن کی انتہائی متوقع فلم ’’دی اوڈیسی‘‘ کو ہندوستان میں سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) نے بغیر کسی کٹ یا ترمیم کے نمائش کی اجازت دے دی ہے۔ فلم کو A (صرف بالغوں کے لیے) سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ اس کا دورانیہ ۲؍ گھنٹے، ۵۲؍ منٹ اور ۳۳؍ سیکنڈ مقرر کیا گیا ہے۔
ہالی ووڈ کے معروف فلم ساز کرسٹوفر نولن کی نئی اور انتہائی متوقع فلم ’’دی اوڈیسی‘‘ (The Odyssey) کو ہندوستان میں سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) نے بغیر کسی کٹ یا ترمیم کے نمائش کی اجازت دے دی ہے۔ بورڈ نے فلم کو اس کے اصل ورژن میں منظور کرتے ہوئے A (صرف بالغ ناظرین) کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سینسر بورڈ نے فلم کے کسی بھی منظر، مکالمے یا بصری حصے میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی، جس کے باعث ہندوستانی ناظرین کو فلم مکمل طور پر اسی شکل میں دیکھنے کا موقع ملے گا جس طرح اسے تیار کیا گیا ہے۔ سینسر سرٹیفکیٹ کے مطابق ۹؍ جولائی کو جاری کی گئی منظوری میں فلم کا باضابطہ دورانیہ ۱۷۲؍ منٹ اور ۳۳؍ سیکنڈ، یعنی ۲؍ گھنٹے، ۵۲؍ منٹ اور ۳۳؍ سیکنڈ درج کیا گیا ہے۔ اگرچہ فلم میں کوئی کٹ نہیں لگائی گئی، تاہم اسے صرف ۱۸؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کے ناظرین کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دی اوڈیسی‘‘ کا بخار: بلیک مارکیٹ میں ایک ٹکٹ ۴۵۰؍ ڈالر تک فروخت
’’دی اوڈیسی‘‘ کو بغیر کسی ترمیم کے منظوری ملنا اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ کرسٹوفر نولن کی گزشتہ فلم ’’اوپن ہائمر‘‘ کی ہندوستانی ریلیز کے دوران ایک مخصوص منظر پر خاصا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ ۲۰۲۳ء میں ریلیز ہونے والی ’’اوپن ہائمر‘‘ کے ہندوستانی ورژن میں اداکارہ فلورنس پگ کے ایک برہنہ منظر کو سی جی آئی کے ذریعے ڈجیٹل طور پر تبدیل کر کے اس میں سیاہ لباس شامل کیا گیا تھا۔ اس تبدیلی پر سوشل میڈیا پر وسیع بحث ہوئی تھی، جہاں متعدد صارفین نے اسے سینسر بورڈ کی پابندی کے بجائے فلم سازوں کی جانب سے ازخود کی گئی احتیاط قرار دیا تھا۔ اس وقت سامنے آنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ترمیم وارنر برادرز ڈسکوری اور فلم کی تخلیقی ٹیم نے ممکنہ سینسر اعتراضات سے بچنے کے لیے رضاکارانہ طور پر کی تھی، نہ کہ یہ تبدیلی CBFC کی جانب سے لازمی قرار دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: عامر خان، کبیر خان اور آسٹریلوی پروڈیوسرز کا ’’سلکیارا۴۱‘‘ بنانے کا اعلان
سرکاری طور پر سینسر بورڈ نے ’’اوپن ہائمر‘‘ کے لیے صرف چند محدود تبدیلیاں تجویز کی تھیں، جن میں قانونی تقاضے کے مطابق اینٹی اسموکنگ وارننگ شامل کرنا اور ایک مخصوص نازیبا لفظ کو خاموش کرکے سب ٹائٹلز سے حذف کرنا شامل تھا۔ اس کے باوجود ’’اوپن ہائمر‘‘ میں سیلین مرفی اور فلورنس پگ کے ایک مباشرت منظر کے دوران بھگود گیتا کی آیات پڑھے جانے پر ہندوستان میں تنازع پیدا ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پر بعض حلقوں نے اس منظر کو مذہبی جذبات سے متصادم قرار دیتے ہوئے شدید اعتراضات بھی اٹھائے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: فلم ساتھ ساتھ کا گیت’تم کو دیکھا تو…‘جاوید اخترنےمحض ۹؍منٹ میں لکھ دیا تھا
نئی فلم ’’دی اوڈیسی‘‘ میں ہالی ووڈ کی بڑی اسٹار کاسٹ شامل ہے، جن میں میٹ ڈیمن، اینی ہیتھ وے، زینڈایا، لوپیتا نیونگ، رابرٹ پیٹنسن، ٹام ہالینڈ اور بینی سیفڈی نمایاں ہیں۔ یہ فلم یونانی شاعر ہومر کی شہرۂ آفاق رزمیہ داستان ’’اوڈیسی‘‘ پر مبنی ہے، جس میں افسانوی بادشاہ اوڈیسیئس کی ٹروجن جنگ کے بعد اپنے وطن ایتھاکا واپس پہنچنے کی دس سالہ خطرناک مہم کو بڑے پیمانے پر پیش کیا گیا ہے۔ اس سفر کے دوران وہ دیومالائی مخلوقات، طاقتور دیوتاؤں اور بے شمار جان لیوا آزمائشوں کا سامنا کرتا ہے، جو اس کی ہمت، ذہانت اور استقامت کا امتحان لیتی ہیں۔ کرسٹوفر نولن کی یہ فلم جدید IMAX ٹیکنالوجی پر مبنی ایک بصری شاہکار قرار دی جا رہی ہے، جس کا دنیا بھر کے شائقین بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ ’’دی اوڈیسی‘‘ ۱۷؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو دنیا بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز ہوگی۔