Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں عوام فیفا ورلڈ کپ دیکھ پائیں گے یا نہیں، نشریات کے حقوق اب تک فروخت نہیں ہوئے

Updated: April 23, 2026, 12:22 PM IST | Agency | New Delhi

فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں صرف۵۰؍ دن باقی ہیں۔ جیسے جیسے یہ بڑا ٹورنامنٹ قریب آ رہا ہے، دنیا بھر میں فٹ بال کے شائقین کا جوش بڑھتا جا رہا ہے لیکن ہندوستان میں ایک بڑا سوال کھڑا ہوگیا ہے۔

Fifa World Cup.Photo:INN
فیفا ورلڈ کپ ۔تصویر:آئی این این
فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء  میں صرف۵۰؍ دن باقی ہیں۔ جیسے جیسے یہ بڑا ٹورنامنٹ قریب آ رہا ہے، دنیا بھر میں فٹ بال کے شائقین کا جوش بڑھتا جا رہا ہے لیکن ہندوستان میں ایک بڑا سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس میگا ایونٹ کے نشریاتی حقوق ابھی تک فروخت کیوں نہیں ہوئے؟عام طور پر ایسے بڑے ٹورنامنٹ کیلئے ٹی وی اور ڈیجیٹل رائٹس کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا ہے لیکن اس بار صورت حال کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ۱۱؍ جون سے شروع ہونے والا ہے۔ اس سال، ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ ۴۸؍ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور اس کی میزبانی ریاستہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کریں گے۔حالیہ برسوں میں ہندوستان میں فٹ بال کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یورپی لیگز سے لے کر ورلڈ کپ تک ناظرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ جیسے باوقار ٹورنامنٹ کی نشریات  سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ہندوستانی فٹ بال برادری کیلئے تشویش کا باعث بن گیا ہے ۔ اس صورتحال نے اس وقت کی یادیں بھی تازہ کر دی ہیں جب انڈین سپر لیگ کی میزبانی پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی تھی جس نے ملک کے فٹ بال کلچر کو دھچکا پہنچایا تھا۔
معاہدہ کیوں پھنس گیا؟
اس پورے معاملے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ نشریاتی حقوق کی بلند قیمت ہے ۔ اطلاعات کے مطابق فیفا نے ہندوستان کیلئے جو قیمت مقرر کی ہے وہ مقامی نشریاتی اداروں کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔فیفا نے نشریاتی حقوق کی قیمت تقریباً۱۰۰؍ ملین ڈالر سے کم کر کے ۳۵؍ سے۴۰؍ملین ڈالر کر دی ہےمگر ابھی تک کوئی براڈکاسٹر معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے آگے نہیں آیا ہے۔ سونی اسپورٹس نیٹ ورک اور جیو اسٹار جیسے بڑے کھلاڑی دوڑ میں شامل ہیں، لیکن فی الحال وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔  سرمایہ کاری پر منافع (آر او آئی) اور کرکٹ پرزیادہ سرمایہ کاری جیسے مسائل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
 
 
کرکٹ کے مقابلے اشتہارات بھی کم ہیں
کرکٹ کے مقابلے فٹ بال میں تشہیر کے مواقع محدود ہیں کیونکہ یہ ایک مسلسل کھیل ہے جس میں وقفے کم ہوتے ہیں۔مزید برآں، ہندوستانی ٹیم کی غیر موجودگی مشتہرین کو بڑی رقم کی سرمایہ کاری کرنے سے روکتی ہے۔ نتیجتاً، براڈکاسٹر اس ڈیل کو منافع بخش نہیں پا رہے ہیں۔
وقت بھی مسئلہ ہے
۲۰۲۶ء کا ورلڈ کپ امریکہ میں کھیلا جائے گا، جس سے میچوں کا وقت ہندوستانی ناظرین کیلئے مشکل ہوگا۔ میچز ہندوستانی وقت کے مطابق آدھی رات سے صبح تک کھیلے جائیں گے۔ اگرچہ فٹ بال کے شائقین ومداح کسی بھی وقت میچ دیکھنے کیلئے تیار ہوتے ہیں لیکن یہ وقت کام کرنے والے لوگوں اور عام ناظرین کے لیے آسان نہیں ہے۔ یہ براہ راست ناظرین کو متاثر کر سکتا ہے، اور کم ناظرین کا مطلب کم اشتہاری آمدنی ہے۔ 
 
 
 
کیا حکومت مداخلت کر سکتی ہے؟
ہندوستان میں اسپورٹس براڈکاسٹنگ سگنلز ایکٹ کے تحت قومی اہمیت کے کھیلوں  کو عوامی نشریاتی اداروں کے ساتھ جوڑنا  ضروری ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ اصول عام طور پر ہندوستان میں شامل میچوں پر لاگو ہوتا ہے، اگر کوئی نجی براڈکاسٹر حقوق نہیں خریدتا ہے تو حکومت دوردرشن کے ذریعے نشریات کو یقینی بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پرسار بھارتی ان حقوق کے حصول کے لیے ایک آپشن کے طور پر سامنے آئی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK