برطانیہ کے میٹ ویسٹن نے اپنی ۲۵؍ سالہ ساتھی ٹبی اسٹوئیکر کے ساتھ مل کر افتتاحی اولمپک مکسڈ ٹیم اسکیلیٹن ریس ایک منٹ ۵۹ء۳۶؍سیکنڈ کے مجموعی وقت میں جیتی۔
EPAPER
Updated: February 17, 2026, 11:06 AM IST | Agency | Milan
برطانیہ کے میٹ ویسٹن نے اپنی ۲۵؍ سالہ ساتھی ٹبی اسٹوئیکر کے ساتھ مل کر افتتاحی اولمپک مکسڈ ٹیم اسکیلیٹن ریس ایک منٹ ۵۹ء۳۶؍سیکنڈ کے مجموعی وقت میں جیتی۔
۲۸؍سالہ ویسٹن ونٹر اولمپکس کی تاریخ میں ایک ہی مقابلوں میں دو طلائی تمغے جیتنے والے پہلے برطانوی ایتھلیٹ بن گئے، جب انہوں نے اپنی ۲۵؍ سالہ ساتھی ٹبی اسٹوئیکر کے ساتھ مل کر افتتاحی اولمپک مکسڈ ٹیم اسکیلیٹن ریس ایک منٹ ۵۹ء۳۶؍سیکنڈ کے مجموعی وقت میں جیتی، جو جرمن جوڑی ایگزل جنگک اور سوزین کریہر ۰ء۱۷؍سیکنڈ کم تھا۔
مکسڈ ٹیم ایونٹ اولمپکس میں نیا شامل کیا گیا کھیل ہے۔ ہر ملک کے تیز ترین مرد اور خاتون کھلاڑیوں کو جوڑا بنایا جاتا ہے اور وہ یکے بعد دیگرے ٹریک پر دوڑ کر مجموعی وقت مکمل کرتے ہیں۔ عام ریس سے بنیادی فرق یہ ہے کہ مکسڈ ٹیم ایونٹ میں ’’ری ایکشن اسٹارٹ‘‘ استعمال ہوتا ہے، جس میں کھلاڑیوں کو جیسے ہی بے ترتیب انداز میں لائٹ بند ہوتی ہے فوراً روانہ ہونا ہوتا ہے۔ ۱۵؍ ٹیموں میں سے برطانوی ٹیم نے دو بار غلط آغاز کیا، لیکن اس کا ویسٹن پر زیادہ اثر نہیں پڑا، جو پورے ہفتے اس میدان میں چھائے رہے۔
یہ بھی پڑھئے:جرمنی میں ۱۴؍سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز
ویسٹن نے کہاکہ ’’میں گزشتہ چند دنوں میں اپنی کامیابیوں پر بے حد فخر محسوس کر رہا ہوں، خاص طور پر پہلے ٹیم ایونٹ کو جیتنا ناقابلِ یقین ہے۔ یہ بالکل شاندار ہے، میں خوشی سے سرشار ہوں، جوش میں ہوں اور سچ کہوں تو مجھے نہیں معلوم ہوگیا ہے کہ کیا ہوگا۔ شاید پب ہی چلے جائیں۔‘‘ان کے پاس جشن منانے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ویسٹن اور اسٹوئیکر ایک دوسرے کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہیں۔ ویسٹن نے کہاکہ ’’یہ واقعی ایک خاندان کی طرح ہے، کیونکہ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:داداصاحب پھالکے نےہندوستانی فلم سازی میں اہم رول نبھایا
اسٹوئیکر نے بجلی کی سی تیز شروعات کی، لیکن اپنے رن کے دوسرے حصے میں چند غلطیاں کر بیٹھیں، جس کی وجہ سے ویسٹن کو جرمن جوڑی سے آگے نکلنے کے لیے ۳؍دسویں سیکنڈ کا فرق پورا کرنا تھا۔ یہ سننے میں پلک جھپکنے جتنا وقت لگتا ہے، لیکن اس کھیل میں جہاں فیصلے سیکنڈ کے سوویں حصے پر ہوتے ہیں، یہ بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔اسٹوئیکر نے کہاکہ ’’مجھے ان پر بہت اعتماد ہے۔ وہ انفرادی اولمپک چمپئن ہیں۔‘‘