Updated: February 19, 2026, 9:34 PM IST
| London
حکام ان دعوؤں کی تفتیش کررہے ہیں کہ اینڈریو نے برطانیہ کے تجارتی مندوب کی حیثیت سے اپنی مدتِ ملازمت کے دوران ایپسٹین کے ساتھ خفیہ تفصیلات شیئر کی ہوگی۔ برطانوی پولیس کی ۹ سے زائد ٹیمیں، ایپسٹین سے متعلق تازہ ترین انکشافات میں سامنے آنے والی معلومات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
سابق برطانوی شہزادے اینڈریو۔ تصویر: ایکس
برطانوی شاہی خاندان کے رکن اور شاہ چارلس سوم کے بھائی اینڈریو، جن کا پورا نام اینڈریو ماؤنٹ بیٹن-ونڈسر ہے، کو جمعرات کے روز عوامی عہدے کے غلط استعمال کے شبہ میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے مبینہ روابط کی جانچ پڑتال کے دوران عمل میں آئی ہے۔
ٹیمز ویلی پولیس نے ۶۶ سالہ اینڈریو کو ان سے وابستہ املاک، جس میں نورفولک میں سینڈرنگھم اسٹیٹ اور برکشائر کا گھر شامل ہے، کی مربوط تلاشی کے بعد حراست میں لیا۔ یہ کارروائی امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین سے جڑی نئی فائلز جاری کئے جانے کے بعد کی گئی۔ ان دستاویزات میں ایسی ای میلز اور تصاویر شامل ہیں جن کے بارے میں تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ وہ اس کیس سے متعلق ہوسکتی ہیں۔ حکام ان دعوؤں کی تفتیش کررہے ہیں کہ اینڈریو نے برطانیہ کے تجارتی مندوب کی حیثیت سے اپنی مدتِ ملازمت کے دوران ایپسٹین کے ساتھ خفیہ تفصیلات شیئر کی ہوگی۔ برطانوی پولیس کی ۹ سے زائد ٹیمیں، ایپسٹین سے متعلق تازہ ترین انکشافات میں سامنے آنے والی معلومات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: نئی دستاویز میں ۳۰۵؍ بااثر اور مشہور شخصیات کے نام شامل، فہرست جاری
برطانوی بادشاہت کی حالیہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب شاہی خاندان سے جڑے کسی فرد کو گرفتار کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، مبینہ طور پر بکنگھم پیلس کو پولیس کی اس کارروائی کے بارے میں پہلے سے مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ اینڈریو کو اس وقت ایک نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے جہاں تفتیش کار ایپسٹین فائلز سے وابستہ شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اینڈریو پر لگائے گئے سنگین الزامات
حال ہی میں ریلیز کی گئی ایپسٹین فائلز میں ایسے ای میلز شامل ہے جس میں ایپسٹین نے اینڈریو کے ساتھ ملاقاتوں اور عشائیوں کے بارے میں بات کی تھی، جن میں ہمراہ آنے والے مہمانوں کے حوالے بھی موجود ہیں۔ ان انکشافات کے سلسلے میں گردش کرنے والی تصاویر نے ایک بار پھر عوامی توجہ حاصل کر لی ہے، اگرچہ ان کا سیاق و سباق تاحال واضح نہیں ہے۔ اینڈریو نے بارہا کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔
یاد رہے کہ سابق شہزادے کے خلاف عوامی رائے پہلے ہی شدید خراب ہو چکی تھی۔ ایپسٹین کے ساتھ ان کی وابستگی اور ورجینیا گیوفری کے الزامات سے جڑے برسوں کے تنازعات کے چلتے سروے رپورٹس میں ان کے بارے میں انتہائی منفی تاثرات سامنے آئے ہیں۔ بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر گزشتہ سال ان سے شاہی القابات واپس لے لئے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: یو این کا ایپسٹین فائلز کی آزادانہ تحقیقات پر زور، انسانیت کے خلاف جرائم کے ممکنہ خطرے سے خبردار کیا
شاہ چارلس سوم کا اینڈریو کی گرفتاری پر ردِعمل
اپنے بھائی اینڈریو کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد، شاہ چارلس سوم نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ تحقیقات کسی مداخلت کے بغیر آگے بڑھنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو متعلقہ حکام کی سربراہی میں ”مکمل، منصفانہ اور مناسب عمل“ کے ذریعے نمٹایا جائے گا۔ بکنگھم پیلس سے جاری کردہ بیان میں چارلس سوم نے اصرار کیا کہ ”قانون کو اپنا راستہ بنانا چاہئے۔“ انہوں نے پولیس کے ساتھ شاہی خاندان کے تعاون کی تصدیق کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک تحقیقات جاری ہیں، اس پر مزید تبصرہ کرنا نامناسب ہوگا۔ وہ اور ان کا خاندان اپنی سرکاری ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔