Updated: February 17, 2026, 10:10 AM IST
|
Agency
| Berlin
عمر کی لازمی تصدیق بھی شامل، پالیسی کے مطابق۱۴؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی-
کئی ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پرپابندی زیر غور ہے۔ تصویر:آئی این این
جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے۱۴؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جرمنی کی حکمراں اتحادی جماعت نے یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ عمر کی تصدیق کو لازمی بنایا جائے اور اس کے لئے ’یورپی ڈیجیٹل شناختی والٹ ایپ‘ استعمال کی جائے۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد کم عمر بچوں پر مرحلہ وار ضابطہ بندی نافذ کرنا ہے۔ اس پالیسی کے مطابق۱۴؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ آپریٹر کمپنیوں کو تکنیکی اقدامات کے ذریعے رسائی روکنا لازم ہوگا۔
خلاف ورزی کرنے والے پلیٹ فارمز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی جس میں فوری احکامات، سخت جرمانے، عارضی پابندیاں اور آخری چارۂ کار کے طور پر سروس بلاک کرنا شامل ہو سکتا ہے۔اس کے تحت پلیٹ فارمز کو ۱۶؍سال سے کم عمر صارفین کیلئے الگ ورژن متعارف کرانا ہوگا۔ اس ورژن میں ایسی خصوصیات شامل نہیں ہوں گی جو لت میں اضافہ کریں، مثلاً لامحدود اسکرولنگ، خودکار ویڈیو پلے یا ایسے نظام جو مسلسل یا حد سے زیادہ استعمال کی ترغیب دیتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مستقبل میں۱۶؍ سال سے کم عمر نوجوانوں کو انسٹاگرام اور اسی طرح کی ایپس تک رسائی صرف اپنے والدین کے یورپی ڈیجیٹل شناختی والٹ کے ذریعے حاصل ہوگی۔ یہ ایپ ایک ڈیجیٹل والٹ ہے جس میں والدین کے شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس سمیت اہم دستاویزات محفوظ کئے جا سکتے ہیں۔
برطانیہ : ۱۶؍سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کی پابندی کا عندیہ
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے نئی حکومتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے انٹرنیٹ تک رسائی کو منظم کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت آسٹریلیا کی طرز پر۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔وزیر اعظم آن لائن رسائی کو ریگولیٹ کرنے کے لئے مزید انتظامی اختیارات حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیو