خواتین کرکٹ ٹیم نے آئچی کے نشین میں واقع کاروجی ایتھلیٹک پارک میں کھیلے گئے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر ہندوستان کو ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں پہلا طلائی تمغہ دلایا۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 4:59 PM IST | New Delhi
خواتین کرکٹ ٹیم نے آئچی کے نشین میں واقع کاروجی ایتھلیٹک پارک میں کھیلے گئے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر ہندوستان کو ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں پہلا طلائی تمغہ دلایا۔
خواتین کرکٹ ٹیم نے منگل کے روز آئچی کے نشین میں واقع کاروجی ایتھلیٹک پارک میں کھیلے گئے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر ہندوستان کو ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں پہلا طلائی تمغہ دلایا۔ ہانگژو ۲۰۲۳ء کے گولڈ میڈل میچ کی طرح ہی اس مقابلے میں بھی ہندوستانی خواتین نے ۱۴۷؍ رنز سے جیت حاصل کی اور ایشین گیمز کرکٹ چیمپئن کے طور پر اپنا دبدبہ برقرار رکھا۔ اسمرتی مندھانا نے ۴۵؍ گیندوں میں ۷۹؍ رنز بنائے، جس سے ہندوستان نے۲۱۶/۳؍کا اسکور کھڑا کیا۔ یہ ایشین گیمز میں خواتین ٹی ۲۰؍ کرکٹ کا سب سے بڑا اسکور ہے۔ دپتی شرما نے چھ رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں یہ ہندوستان کا پہلا گولڈ میڈل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایڈ شیرن جذباتی ہوگئے، کہا: دوستوں اور خاندان نے مجھے ’تنہا چھوڑ دیا‘
سری لنکا کی ٹیم کو مسلسل دوسرے ایڈیشن میں چاندی کے تمغے پر اکتفاکرنا پڑا جبکہ پاکستان نے بنگلہ دیش کو تیسرے مقام کے لیے ہوئے پلے آف میں ہرا کر کانسے کا تمغہ جیتا۔ہندوستانی کپتان ہرمن پریت کور نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسمرتی مندھانا کی ۴۵؍ گیندوں میں ۷۹؍ رنز کی طوفانی اننگز کی بدولت ہندوستان نے۲۱۶/۳؍ کا اسکور بنایا، جو اس برعظیم کے ٹورنامنٹ کا ایک ریکارڈ ہے۔ شیفالی ورما اور رچا گھوش دونوں ہی بدقسمت رہیں اور نصف سنچری بنانے سے چُوک گئیں۔ اس کے بعد ہندوستانی گیند بازوں نے سری لنکا کو ۶۹؍ رنز پر سمیٹ دیا اور آسانی سے جیت حاصل کر لی۔
Repeating a monumental feat 😌🤩#AsianGames Gold Medal successfully defended 🏅#TeamIndia pic.twitter.com/VGl2BX37TQ
— BCCI Women (@BCCIWomen) September 22, 2026
ہندوستانی اوپنر اسمرتی مندھانا اور شیفالی ورما نے شروعات سے ہی سری لنکن گیند بازوں کا ڈٹ کر سامنا کیا اور پاور پلے میں ۶۶؍ رنز جوڑے۔ شیفالی، جنہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف سیمی فائنل میں سنچری بنائی تھی، نے سری لنکا کی کپتان اور اسٹار آل راؤنڈر چماری اٹاپٹو کے پانچویں اوور میں تین چھکے جڑے۔ مندھانا نے ۳۰؍ گیندوں میں اپنی ۳۷؍ویں ٹی۲۰؍ ففٹی مکمل کی، جبکہ شیفالی (۴۸؍رن) ہاف سنچری سے دو رنز دور رہ گئیں؛ ۱۰؍ویں اوور میں ۱۷؍ سال کی اسپنر چمودی پربودھا نے انہیں آؤٹ کیا، تب ہندوستان کا اسکور ۹۸؍ رنز تھا۔
یہ بھی پڑھئے:پاکستان کی خواتین ٹیم نے ایشین گیمزکے کرکٹ مقابلے کا کانسے کا تمغہ جیتا
اس کے بعد ہرمن پریت نے اسمرتی کے ساتھ۴۲؍ رنز کی شاندار شراکت داری کی، لیکن ۱۵؍ویں اوور میں کویشا دلہاری نے ہندوستانی کپتان کو کیچ آؤٹ کرا دیا۔ اسمرتی بھی پوری اننگز نہیں کھیل سکیں؛ اسکورنگ ریٹ بڑھانے کی کوشش میں سوگندھیکا کماری کے ۱۷؍ویں اوور میں وہ آؤٹ ہو گئیں۔ تاہم، رچا گھوش کی طوفانی اننگز (۲۲؍ گیندوں میں ناٹ آؤٹ ۴۹؍ رن) اور سری لنکن گیند بازوں کی خراب گیند بازی کی بدولت ہندوستان نے۲۱۶/۳ کا اسکور بنایا - جو ایشیائی کھیلوں میں خواتین کرکٹ کا اب تک کا سب سے بڑا ٹیم اسکور ہے۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ ہانگ کانگ چین کے نام تھا، جس نے ہانگژو ۲۰۲۳ء میں کوارٹر فائنل کوالیفائر میں منگولیا کے خلاف ۲۰۲/۴؍رنز بنائے تھے۔
سری لنکا کی جانب سے چماری اٹاپٹو نے رن بنانے کی کوشش میں ٹیم کی کمان سنبھالی، لیکن ہندوستان کو شیفالی نے ابتدائی کامیابی دلائی؛ انہوں نے تیسرے اور پانچویں اوور میں بالترتیب امیشا دلانی اور ہسینی پریرا کو آؤٹ کیا۔ دپتی شرما نے سب سے اہم وکٹ حاصل کی اور پاور پلے کے ٹھیک بعد اٹاپٹو (۲۱؍ گیندوں میں ۲۹؍ رنز) کو آؤٹ کیا۔ اس وکٹ نے سری لنکن ٹیم کی امیدوں کو بڑا جھٹکا دیا۔ مسلسل وقفوں پر وکٹیں گرتی رہیں اور سری لنکن اننگز ۴ء۱۵؍ اوورز میں سمٹ گئی۔ دپتی ہندوستانی گیند بازوں میں سب سے کامیاب رہیں اور انہوں نے ۳/۶؍ کے اعداد و شمار درج کیے۔ شیفالی ورما، سری چرانی اور شریانکا پاٹل نے بھی دو دو وکٹیں حاصل کیں۔