دفتر ِ انقلاب میں ’عالمی یوم ِ خواتین‘ کی مناسبت سے منعقدہ مباحثے میں مدعو خواتین کی گفتگو کا لب لباب یہی تھا۔ ذیل میں ملاحظہ کیجئے۔ گفتگو کے چند اقتباسات:
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 2:05 PM IST | Saima Shaikh | Mumbai
دفتر ِ انقلاب میں ’عالمی یوم ِ خواتین‘ کی مناسبت سے منعقدہ مباحثے میں مدعو خواتین کی گفتگو کا لب لباب یہی تھا۔ ذیل میں ملاحظہ کیجئے۔ گفتگو کے چند اقتباسات:
انقلاب نے حسب ِ سابق، عالمی یوم ِ خواتین کیلئے ایک مباحثے کا انعقاد کیا جس میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی پانچ خواتین کو مدعو کیا گیا تھا۔ مباحثہ ۲؍ گھنٹے تک جاری رہا جسے جوں کا توں پیش کرنا ممکن نہیں اس لئے اقتباسات پیش کئے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے ان خواتین کا تعارف:
مونسہ بشریٰ عابدی: مہاراشٹر کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس میں فزکس کی لیکچرار رہ چکی ہیں۔ رواں برس وہ یہاں سےسبکدوش ہوئی ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کی رکن بھی ہیں۔ انہوں نے ممبئی یونیورسٹی سے نیوکلیئر فزکس سے ایم ایس سی اور ایم اے (عربی) کیا ہے۔ دونوں ہی کورسیز میں وہ یونیورسٹی ٹاپر تھیں۔ انہوں نےجرنلزم میں ڈپلوما اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے بھی کیا ہے۔
فرح جبین،: انجمن اسلام گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج (باندرہ) میں آئی ٹی ٹیچر ہیں۔ وہ بصیرت آن لائن نیوز پورٹل کیلئے بحیثیت رپورٹر اور سب ایڈیٹر بھی اپنی خدمات دے رہی ہیں۔ انہوں نے ممبئی یونیورسٹی سے بی اے،ایم اے (اردو ادب)، اور اُردو جرنلزم اینڈ ماس میڈیا کمیونی کیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔
ارم ریحان انصاری: پیشے سے پیتھالوجسٹ ہیں۔ انہوں نے میڈیکل لیب ٹیکنالوجی (ناسک) سے بی ایس سی کیا ہے اور مہاراشٹر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (جے جے کمپاؤنڈ) سے ایڈوانس ڈپلوما ان میڈیکل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ ایم جی ایم اسپتال کے پیتھالوجی ڈپارٹمنٹ سے انٹرن شپ کرنے کے بعد سینٹرل ڈائیگنوسٹک کلینک میں بحیثیت لیب ٹیکنی شین اپنی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ فی الوقت وہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ (باندرہ) سے بطورلیکچرار وابستہ ہیں۔
ثناء رفیق بیگروڈیا: اپنے والد کی کمپنی ایس آر کنسٹرکشن سے بطور منیجنگ ہیڈ وابستہ ہیں۔ انہوں نے ایم ایس سی اور بی ایڈ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سینئر سیکنڈری بورڈ کی ایگزامنر بھی ہیں۔ فی الوقت این ایچ انگلش اکیڈمی (میرا روڈ) کے سائنس شعبے کی سربراہ ہیں۔ روبینہ خان حق نے ایڈورٹائزنگ میں گریجویشن کیا ہے۔ انہوں نے ماس کمیونی کیشن اینڈ جرنلزم کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ ۲۰۱۳ء سے آل انڈیا ریڈیو میں براڈکاسٹ اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ ۷؍ سال سے ’’سُر الاپ ایوینٹس اینڈ انٹرٹینمنٹ‘‘ کے لئے ایونٹس کا بھی انعقاد کر رہی ہیں۔ وہ مختلف کالجز میں لیکچرار بھی ہیں۔
انقلاب: یوم ِ خواتین ،خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، آپ کی نظر میں بااختیار ہونے کا کیا معنی ہے؟
مونسہ بشریٰ عابدی: اللہ تعالیٰ نے ہر فرد کو بااختیار بنایا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں خواتین جتنی بااختیار تھیں، آج اتنی نہیں ہیں۔ سرکارِ دو عالمؐ نے ایک صحابیہ سے کہا تھا کہ تمہارے شوہر تمہارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔ اس پر انہوں نے آپؐ سے دریافت کیا کہ کیا آپؐ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ تو آپؐ نے کہا، نہیں مَیں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ لیکن وہ آزاد غلام تھیں، انہوں نے کہا، مَیں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ اس مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک خاتون نے اپنا حق استعمال کیا اور وہ زیادہ بااختیار تھی۔ خاتون ہر صورت میں بااختیار ہونی چاہئے، چاہے وہ ماں ہو، بیٹی ہو، بیوی ہو، بہن ہو۔ لیکن یہ اختیار اسے دوسروں کے حقوق کی پامالی کرکے نہیں ملنا چاہئے۔ بیوی شوہر کے اختیار پر قابو پانے کی کوشش نہ کرے، ماں اپنے بچوں کے اختیار نہ چھینے۔ سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاتون کو کسی کے توسط میں پیدا نہیں کیا ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے الرجال قوام النساء فرمایا ہے، مردوں کو عورتوں پر قوام بنایا ہے لیکن قوام کا مطلب بہت سے لوگوں کو نہیں معلوم۔ اس کا معنی ہے قائم رکھنے والا، نگہبان، سرپرست۔ ایک مرد کو ’’سپورٹر‘‘ بنایا گیا ہے نہ کہ حکمراں۔ اسے خاتون کا خیال رکھنے کے لئے بنایا گیا ہے اور یہی احترام عورت کو شوہر کے تئیں ظاہر کرنا چاہئے۔
روبینہ خان حق: ہم سب اپنے حقوق کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ بحیثیت شہری آپ کو اپنے حقوق کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے۔ بحیثیت خاتون اگر مَیں چاہتی ہوں کہ مَیں بااختیار رہوں جبکہ میرے اوپر گھر کی بھی ذمہ داری ہے، اگر مَیں اس ذمہ داری کو بھول کر باہر کے کاموں پر توجہ دوں تو یہ غلط ہوگا۔ لیکن اگر مَیں گھر کی ذمہ داری بھی بخوبی نبھا سکتی ہوں اور باہر کے کام بھی اچھی طرح کرسکتی ہوں تو اس صورتحال میں مجھے آگے بڑھنا چاہئے۔ ایسی صورتحال میں آپ کو کوئی روکتا ہے تو ان سے کہئے کہ مجھے نہ روکیں۔ ثابت کیجئے کہ آپ تمام ذمہ داریاں نبھا سکتی ہیں۔ میرے خیال میں وومن امپاورمنٹ خود ایک خاتون کے ہاتھ میں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ اس اختیار کا استعمال کیسے کرتی ہیں۔ اپنے حقوق اور اختیارات جانیں۔بعض خواتین خانہ ایسی ہیں جو گھر میں رہتے ہوئے بھی اپنے حقوق جانتی ہیں اور ان کا استعمال بھی کرتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو پہلے ہی ہتھیار ڈال کر خود کو کمزور کر لیتی ہیں۔جب عورت گھر اور باہر، دونوں ذمہ داری بہتر انداز میں نبھاتی ہے تو ’’امپاورڈ‘‘ کہلاتی ہے۔
فرح جبین: جب تک ہمیں اپنے اختیارات کے بارے میں معلوم نہیں ہوگا، ہم بااختیار نہیں ہوسکتے۔ خود کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہم یہی نہیں سمجھ پاتے کہ ہمیں اپنے مسائل کیسے حل کرنے ہیں۔ ہمیں مردوں کے ساتھ مقابلہ نہیں کرنا ہے بلکہ اپنی شناخت بنانی ہے۔ ارم ریحان انصاری ایک عورت کو اپنی پہچان نہیں کھونا چاہئے۔ عورت چاہے خاتون ِ خانہ ہو یا کسی ادارے کے اعلیٰ عہدےپر فائز، اسے اپنی شناخت ضرور بنانا چاہئے۔ میرے خیال میں خاتون ہر روپ میں بااختیار ہوتی ہے، صرف اسے اپنے حقوق اور اختیارات سے آگاہی ہونا چاہئے۔
انقلاب: روبینہ، آپ بیک وقت کئی پیشے سے وابستہ رہی ہیں، ان شعبوں میں خواتین کی کتنی شمولیت ہے، اور ان کے لئے کیا مواقع ہیں؟
روبینہ خان حق: ریڈیو، لیکچرار شپ اور ایونٹ انڈسٹری کے علاوہ تقریباً ہر شعبے میں خواتین پیش پیش ہیں۔ اگر کوئی خاتون ایونٹ مینج کرتی ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ یہ کام نہیں کرپائے گی۔ کسی بھی شعبے میں کامیاب ہونے کیلئے آپ کو خود کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگااور پھر اپنی اہمیت کو ثابت کرنا ہوگا۔ مَیں جس ادارہ سے وابستہ رہی، وہاں کوئی خاتون ملازمت نہیں کرتی تھی مگر اب وہاں ۲۰؍ لڑکیاں کام کررہی ہیں۔
انقلاب: پیتھالوجسٹ کے شعبے میں خواتین کی کتنی شمولیت ہیں؟ اور انہیں یہ شعبہ کیوں اپنانا چاہئے؟
ارم ریحان انصاری: اس شعبے میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ کووڈ کے بعد سے ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ شعبہ خواتین کے لئے بہترین ہے۔ بحیثیت خاتون مَیں بیک وقت کئی ذمہ داریاں ادا کررہی ہوں لیکن مجھے اپنی شناخت نہیں کھونا ہے اس لئے ایک پیتھالوجسٹ کے طور پر اب لیکچر دینا شروع کیا ہے۔ مَیں ایک اچھی ہوم میکر ہوں مگر اپنی پہچان برقرار رکھنا چاہتی ہوں۔ میراحجاب کبھی میری کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا۔ جو خواتین گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ملازمت کرنا چاہتی ہیں تو وہ پیتھالوجسٹ کے شعبہ میں قسمت آزما سکتی ہیں۔ جو طالبات ڈاکٹر بننے کی خواہشمند ہوتی ہیں مگر مالی دشواریوں کے سبب ان کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں، ان کیلئے پیرامیڈیکل ایک اچھا متبادل ہے۔ وہ ڈاکٹر نہیں کہلائیں گی مگر ’’ہینڈ آف ڈاکٹر‘‘ ضرور کہلائیں گی کیونکہ آج ہر مرض کی تشخیص کے لئے متعدد ٹیسٹ لازمی ہوچکے ہیں۔
انقلاب: ثناء، آپ اپنے والد کا کنسٹرکشن کا کاروبار دیکھتی ہیں۔ کیا یہ شعبہ خواتین کے لئے ایک چیلنج ہے؟
ثناء رفیق بیگروڈیا: جی ہاں! یہ شعبہ محنت طلب ہے کیونکہ آپ کے ذمہ کئی کام ہوتے ہیں۔ میرا تعلق ایک راجپوت گھرانے سے ہے جہاں لڑکیوں کو بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی کافی جدوجہد کرنی پڑتی ہے مگر مَیں خوش نصیب ہوں کہ مجھے تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ مَیں نے نویں جماعت سے کاروبار میں والد کا ہاتھ بٹانا شروع کیا تھا۔ اس وقت میں کوٹیشن اور بل وغیرہ بناتی تھی۔ دھیرے دھیرے ان کاکاروبار پھیلتا گیا۔اب ہم فارماکمپنیوں کے لئے فیکٹریاں بھی تعمیر کرتے ہیں۔ جیسے جیسے کام بڑھتا گیا، ذمہ داریاں بھی بڑھتی گئیں، ساتھ ہی میری دلچسپی میں اضافہ بھی ہوتا گیا۔ مَیں نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔ ایک دن مجھے احساس ہوا کہ والد کے کاروبار کے علاوہ میری کیا پہچان ہے؟ لہٰذا مَیں درس و تدریس سے وابستہ ہوئی۔ میں نے آرکیٹکچر اور انجینئرنگ نہیں کی۔ مگر میں نے آئی آئی ٹی کا سرٹیفکیٹ کورس کیا۔ مَیں سائٹس پر محنت طلب کام بھی کرتی تھی۔ مجھے خاتون مزدوروں سے بھی کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
انقلاب: آج لڑکیاں ٹاک ٹاک جیسے ایپس کے ذریعے اپنی شناخت بنارہی ہیں، باحجاب رہتے ہوئے ہماری بچیاں کس طرح اپنی شناخت بنائیں؟
فرح جبین: لڑکیاں اپنا جائزہ لیں۔ اگر آپ میں بولنے اور لکھنے کی صلاحیت ہے تو آپ یقیناً اینکر بن سکتی ہیں۔ آج کل کئی لڑکیاں سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعے اپنی بات کہہ رہی ہیں۔ اینکر بننے کے ساتھ اپنا وقار قائم رکھیں۔ حجاب ہماری شناخت ہے۔ باحجاب لڑکیاں مختلف شعبوں میں اپنی پہچان بنائیں۔ صلاحیتوں کے مطابق شعبے کا انتخاب کریں۔
انقلاب: کیا لڑکیاں بحیثیت اینکر سماج کے لئے کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں؟
فرح جبین: ضرور کاآمد ثابت ہوسکتی ہیں۔ اپنی آواز کو مضبوط اوراپنے جملوں کو بااثر بنائیں۔ ارونا آصف علی اور اندرا گاندھی کی مثال آپ کے سامنے ہے جو بہت اچھی مقررہ بھی تھیں۔ اینکرنگ کے علاوہ لڑکیاں ریڈیو جاکی بھی بن سکتی ہیں۔ٹی وی ہوسٹ بھی اچھا متبادل ہے۔
روبینہ خان حق: مَیں ریڈیو انڈسٹری سے ہوں اسلئے کہنا چاہتی ہوں کہ سب سے اچھا وائس موڈولیشن خواتین کاہوتا ہے۔ مردوں کی آواز بھاری ہوتی ہے لیکن عورتوں کی آواز زیادہ صاف ہوتی ہے اس لئے لوگ آسانی سے سمجھ پاتے ہیں۔ موجودہ دور میں خاتون اینکر کو ترجیح دی جاتی ہے۔
انقلاب: حالیہ حجاب تنازع سے ہمارے معاشرے کو نقصان پہنچا ہے، اس کی بھرپائی کیسے کی جائے؟
روبینہ خان حق: حجاب تنازع کے سبب ہمیں کافی نقصان ہوا ہے۔ہمیں حجاب کے مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کرنا چاہئے۔ حجاب لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ساتھ ہی جلد کے مسائل سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ یہ جدید دور ہے اسلئے کسی چیز کی افادیت کو سائنسی نظریے سے بھی سمجھا جائے۔
ثناء رفیق بیگروڈیا : ہندوستان میں مذہب کے علاوہ سب سے اہم آئین ہے۔ دستورِ ہند میں اپنی پسند کے مطابق کپڑے پہننے کا حق ہے۔ مساوات اور آزادی کے حقوق آپ کے پاس ہیں۔ اس لئے کوئی بھی آپ کے لباس پر اعتراض نہیں کرسکتا۔ اگر آپ بیدار ہیں، اور اپنی بات منوانا جانتی ہیں تو کوئی بھی آپ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ ہماری خواتین کو یہ سمجھنا ہوگا۔ انسان کے لباس سے اس کی شناخت نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے علم سے ہوتی ہے۔
انقلاب: کیا لڑکیاں کنسٹرکشن کے شعبے میں اپنا کریئر بنا سکتی ہیں؟
ثناء رفیق بیگروڈیا : یقیناً! اس شعبے میں ان کے لئے کئی مواقع ہیں۔ ہماری کمپنی کی آرکیٹکٹ خاتون ہیں۔
ارم ریحان انصاری: اگر خواتین گھر چلا سکتی ہیں تو مکان بنا کیوں نہیں سکتیں؟ ایک خاتون گھر کو گھر بناتی ہے اسی لئے ’’ہوم میکر‘‘ کہلاتی ہے۔ مونسہ بشریٰ عابدی نہ صرف کنسٹرکشن بلکہ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں خواتین کی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔ سماج میں تبدیلی آئی ہے لیکن مزید تبدیلی درکار ہے۔
تقریب کے اختتام پر مدیر ِ انقلاب شاہد لطیف نے خواتین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب کا یہ سلسلہ یوم خواتین تک محدود نہیں ہے۔ ہم ایسی محفلیں منعقد کرتے رہتے ہیں تاکہ خواتین کی باتیں، خواتین کے ذریعہ، خواتین کے ایک بڑے طبقے تک پہنچیں۔ گزشتہ سال کورونا کے باوجود یوم خواتین کی اس محفل کو ملتوی نہیں کیا گیا بلکہ اس کا آن لائن انعقاد کیا گیا تھا۔ ہم اس جانب غور کرتے رہتے ہیں کہ ہم اپنی قوم کو کیا دے سکتے ہیں۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر اب سے ۱۵؍ سال پہلے انقلاب میں خواتین کے لئے ایک خاص صفحہ ’’اوڑھنی‘‘ شروع کیا گیا۔ اس صفحے کے ذریعے اگر ہم خواتین کی ذہن سازی کرنے میں کامیاب ہوگئے توہم گھروں کو ٹھیک کر پائیں گے۔ گھر ٹھیک ہوگا تو خاندان ٹھیک ہوگا، خاندان ٹھیک ہوگا تو معاشرہ ٹھیک ہوگا۔ اس صفحے کی اشاعت کا مقصد بھی یہی تھا۔