Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈ بینک نے ہندوستان کی معاشی ترقی کیلئے ۱ء۵؍ بلین دالر کے قرض کو منظوری دی

Updated: June 23, 2026, 1:07 PM IST | Agency | New York

ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرس کے بورڈ نے ہندوستان میں نجی شعبے کی قیادت میں روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کیلئے ۱ء۵؍ ارب ڈالر کے قرض کو منظوری دیدی ہے۔

World Bank.Photo:INN
ورلڈ بینک۔ تصویر:آئی این این
ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرس کے بورڈ نے  ہندوستان  میں نجی شعبے کی قیادت میں روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کیلئے ۱ء۵؍ ارب ڈالر  کے قرض کو منظوری دیدی ہے۔ یہ رقم ’’بوسٹنگ جاب کری ایشن اِن دی پرائیویٹ سیکٹر ڈیولپمنٹ پالیسی فنانسنگ (ڈی پی ایف)‘‘ پروگرام کے تحت فراہم کی جائے گی۔
 
 
ورلڈ بینک کے بیان کے مطابق، اس پروگرام کے ذریعے آئندہ ۲؍ دہائیوں میں ہر سال لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے والے تقریباً ایک کروڑ۱۰؍لاکھ نوجوانوں کیلئے  روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ڈی پی ایف پروگرام حالیہ برسوں میں کی متعدد ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مبنی ہے، جن میں ٹیکس نظام کو آسان بنانا، عالمی تجارت سےہم آہنگی   اور کاروبار کرنے اور روزمرہ زندگی کو سہل بنانے کیلئے قانونی و ضابطہ جاتی اصلاحات شامل ہیں۔یہ پروگرام کاروبار شروع کرنے میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے کیلئے ٹیکس اور ضابطہ جاتی اصلاحات، خواتین کی رسمی شعبے میں شمولیت آسان بنانے کیلئےلیبر قوانین میں تبدیلی، تجارت اور سرمایہ کاری کے نظام کو ہموار کرنے اور سرمایہ کے حصول کو آسان بنانے کے اقدامات کی بھی حمایت کرتا ہے۔
 
 
حکومتی اندازوں کے مطابق ملک میں روزگار حاصل کرنے والوں کی تعداد۱۸-۲۰۱۷ء میں ۴۵؍ کروڑ ۲۰؍لاکھ سے بڑھ کر۲۴-۲۰۲۳ء میں۶۰؍کروڑ۴۰؍لاکھ تک پہنچ گئی، یعنی ۶؍  برسوں  میں۱۵؍کروڑ سے زیادہ نئے روزگار پیدا ہوئے۔  حکومت کا دعویٰ ہے کہ اسی عرصے  میں  بیروزگاری کی شرح۶؍ فیصد سے کم ہو کر۳ء۲؍ فیصد رہ گئی اور تقریباً۹۰؍لاکھ خواتین مستقل تنخواہ والی ملازمتوں  سے وابستہ ہوئیں۔بیان میں کہا گیا کہ یہ اصلاحات شفافیت، پیش گوئی کی صلاحیت اور طویل مدتی معاشی استحکام پر مبنی نتائج پر مرکوز حکمرانی کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK