ہماری ہی طرح برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والے چند دیگر ممالک

Updated: August 14, 2020, 6:11 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

ہندوستان کے عظیم رہنماؤں اور لیڈروں نے ہمارے ملک کو انگریزوں سے آزاد کروانے کیلئے تقریباً ۱۰۰؍ سال تک جنگ کی تھی۔ اس دوران کئی اہم لیڈران نے جیلوں کی صعوبتیں بھی جھیلیں اور کئی شہید بھی ہوگئے۔ برسوں کی جدوجہد کی بعد ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہمارا ملک آزاد ہوا۔ اس دن ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے دہلی میں واقع لال قلعہ کے لاہوری دروازہ پر ہندوستان کا نیا پرچم لہرایا تھا۔ تب سے آج تک ہر سال جشن آزادی بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo PTI
علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی

ہندوستان کے عظیم رہنماؤں اور لیڈروں نے ہمارے ملک کو انگریزوں سے آزاد کروانے کیلئے تقریباً ۱۰۰؍ سال تک جنگ کی تھی۔ اس دوران کئی اہم لیڈران نے جیلوں کی صعوبتیں بھی جھیلیں اور کئی شہید بھی ہوگئے۔ برسوں کی جدوجہد کی بعد ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہمارا ملک آزاد ہوا۔ اس دن ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے دہلی میں واقع لال قلعہ کے لاہوری دروازہ پر ہندوستان کا نیا پرچم لہرایا تھا۔ تب سے آج تک ہر سال جشن آزادی بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔امسال کورونا وائرس کی وباء کے سبب ملک میں جشن کا ماحول مختلف ہوگا، اس موقع پر روایتی سرگرمیاں کم نظر آئیں گی اور طلبہ ہر سال کی طرح اس سال اپنے اپنے اسکول میں آزادی کا جشن نہیں مناسکیں گے مگر آزادی پر فخروانبساط کم نہیں ہوگا۔ جس طرح ہمارے ملک نے برطانویوں سے آزادی حاصل کی اسی طرح کئی دیگر ملکوں نے بھی برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی۔ ہندوستان واحد ملک نہیں ہے جو ۱۵؍ اگست کو اپنا یوم آزادی مناتا ہے۔ ہمارے ملک کے علاوہ، کوریا، بحرین اور لیختینستائنبھی ۱۵؍ اگست کو اپنا یوم آزادی مناتے ہیں ۔ ’’مینٹل فلاس‘‘ نامی ویب سائٹ کے مطابق برطانیہ نے دیگر ممالک پر قبضہ کرنے کا آغاز ۱۷؍ ویں صدی سے کیا تھا اور اس نے اقوام متحدہ کے موجودہ ۲۰۰؍ ممبرممالک میں سے ۱۷۱؍ پر حکومت کی ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ برطانوی حکومت کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ پڑھئے برطانیہ کے زیر اقتدار رہنے والے ۵؍ ممالک کے بارے میں ۔
کویت
یوم آزادی: ۲۵؍ فروری ۱۹۶۱ء: ۱۶۰۰ء کی دہائی میں سلطنت عثمانیہ نے کویت کی سیاست اور کاروبار میں عمل دخل شروع کیا تھا۔ ۱۸۹۹ء میں کویت نے اس کا تسلط کم کرنے کیلئے برطانویوں سے معاہدہ کر لیا جس کے تحت برطانیہ اسے سلطنت عثمانیہ کی بڑھتی ہوئی طاقت سے محفوظ رکھتا اور بدلے میں اس کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرتا۔اس معاہدے کے تحت برطانیہ کو تیل کی دولت سے مالا مال کویت میں داخل ہونے کا موقع مل گیا۔ برطانیہ نے یہاں کے اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے ساتھ مل کراپنی کمپنیاں قائم کیں ۔ اس طرح برطانیہ کو بہت فائدہ ہوا جبکہ کویت کے عوام کا معیار زندگی بہتر ہوا۔ ۱۹۵۱ء کی دہائی میں کویت کے شیخ (ملک کا سربراہ) نے برطانیہ کے تسلط سے نکلنے کیلئے اس معاہدہ کو ختم کرنے کی جدوجہد شروع کر دی اور بالآخر جون ۱۹۶۱ء میں اس نے اس معاہدہ سے چھٹکارا حاصل کرلیا۔اس کے بعد تقریباً ۲؍ سال تک کویت کا یوم آزادی جون ہی میں منایا گیا۔ چونکہ اس مہینے میں یہاں بہت گرمی ہوتی ہے اس لئے یوم آزادی کے جشن کیلئے ۲۵؍ فروری کا انتخاب کیا گیا۔ 
اُردن
یوم آزادی: ۲۵؍ مئی ۱۹۴۶ء: اس علاقہ پر بھی سلطنت عثمانیہ کا قبضہ تھا۔ لیکن پہلی عالمی جنگ کے بعد یہ زوال پذیر ہوگئی۔ اس کے زوال کے بعد کویت ہی کی طرح اُردن نے بھی برطانیہ سے معاہدہ کیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام تک یہ علاقہ برطانیہ کے زیر انتظام تھا۔ برٹانیکا ڈاٹ کام کے مطابق ۱۹۴۶ء میں برطانویوں نے اقوامِ متحدہ سے درخواست کی کہ وہ اردن کو آزاد کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کے بعد ۲۵؍ مئی کو معاہدہ منسوخ کیا گیا اور یہاں کی پارلیمان نے شاہ عبدا للہ کو ہاشمی بادشاہت کے سلسلے کا پہلا حکمران منتخب کیا جو ۱۹۹۵ء تک یہاں کے حکمران رہے۔
ملائیشیا
یوم آزادی: ۳۱؍ اگست ۱۹۵۷ء: برطانیہ نے ۱۷۸۶ء میں ملائیشیا میں ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی تھی۔ ۱۸۷۰ء کی دہائی میں سلطان کے دربار میں برطانوی مشیروں کا عمل دخل شروع ہوگیا جنہوں نے چند برسوں ہی میں ملائیشیا کے کئی علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔ تاہم، جاپان نے ۱۹۴۲ء میں برطانیہ سے جنگ کی اور سنگاپور کو آزاد کروالیا۔ لیکن ملائیشیا میں آزادی کی جدوجہد نے ۱۹۴۸ء کی جنگ کے بعد زور پکڑا اور فیڈریشن آف ملایا کا قیام عمل میں آیا۔ ملک کو آزاد کروانے میں یہاں کے لیڈروں نے کافی جدوجہد کی۔ بالآخر ۱۹۵۷ء میں ملائیشیا نے آزادی حاصل کرلی اور تونکو عبدالرحمٰن کو ملک کا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا گیا۔ انہیں ’’بابائے ملائیشیا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
کینیڈا
یوم آزادی: یکم جولائی ۱۸۶۷ء: کینیڈا کےدریائے سینٹ لارنس کے علاقے پر۱۶۰۵ء میں فرانسیسیوں نے اپنی کالونی بسائی اور ۱۶۱۰ء میں برطانوی اپنی ۱۳؍ کالونیوں کے ساتھ جنوبی حصہ پر آباد ہوگئے۔ دونوں ممالک یہاں برسوں قابض رہے۔اس کے بعد یہاں کے کچھ علاقوں پر امریکہ نے بھی قبضہ کرلیا۔ چند برسوں بعد ان کے اور مقامی باشندوں کے درمیان چھڑ گئی۔ مقامی باشندوں نے آزادی کیلئے برسوں جدوجہد کی۔ ۱۸۶۶ء میں شمالی امریکہ ایکٹ کے تحت امریکہ نے یہاں کینیڈا ڈومینن بنادیا پھر مقامی لیڈران نے آہستہ آہستہ اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا اور ایک ایک کرکے علاقے ان ممالک سے لینے شروع کردیئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی ملکہ ایلزبتھ اس ملک کی کوئین ہیں لیکن یہاں کا وزیر اعظم ملک کے تمام انتظامات سنبھالتا ہے۔
جنوبی افریقہ
یوم آزادی: ۳۱؍ مئی ۱۹۶۱ء: جنوبی افریقہ پر کئی ممالک نے حکومت کی ہے۔اس پر کبھی ہالینڈ نے قبضہ کیا تو کبھی پرتگالیوں نے۔ دراصل براعظم افریقہ کے تقریباً تمام ممالک کسی نہ کسی یورپی ملک کے زیر انتظام تھے۔ ۱۸۸۷ء میں ہالینڈ کے حکمراں نے جنوبی افریقہ میں موجود اپنی کالونی کو برطانیہ کو ۶۰؍ لاکھ پونڈ میں فروخت کردی تھی۔ اس طرح یہ ملک برسوں برطانیہ کے زیر تسلط رہا۔برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کیلئے یہاں کے لیڈران نے بہت قربانیاں دیں اور اس کے ایک بڑے حصے کو ۱۹۶۱ء میں آزادی ملی۔ تاہم، ۱۹۹۴ء تک تمام علاقے آزاد ہوگئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK