ابو مروان نے طب کے شعبے میں خوب شہرت حاصل کی

Updated: July 31, 2020, 7:17 PM IST | Mumbai

ابن زھر طب وادب، شعر وسیاست میں اندلس کے مشہور افراد میں سے ایک ہیں ۔ بنو زہر (اندلس کے معروف طبیب خانوادے کا نام) میں علم طب ۷؍ پشتوں تک جاری رہا تھا اور ابومروان اس خاندان کی تیسری پشت سے تعلق رکھتے تھے۔

Abu Marwan (left) Photo: INN
ابو مروان (بائیں جانب)۔ تصویر: آئی این این

ابن زھر طب وادب، شعر وسیاست میں اندلس کے مشہور افراد میں سے ایک ہیں ۔ بنو زہر (اندلس کے معروف طبیب خانوادے کا نام) میں علم طب ۷؍ پشتوں تک جاری رہا تھا اور ابومروان اس خاندان کی تیسری پشت سے تعلق رکھتے تھے۔ ابن زہر اپنے خاندان کے سب سے مشہور طبیب ہیں ۔ ان کا پورا نام ابو مروان عبد الملک ابن زہر تھا۔ وہ اپنے والد کی طرح فقیہ تھے مگر انہوں نے طب کے میدان میں زبردست شہرت پائی۔ ابن زہر۱۰۹۴ء میں اسپین میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ سڑک کے کنارے پڑے ایک انتہائی غریب مریض کا علاج کیا تھا۔ 
 وہ پہلے مسلمان طبیب تھے جنہوں نے اپنے آپ کو پوری طرح طب کیلئے وقف کردیا تھا۔ ان کی کتابوں میں ،ان کی کئی بڑی دریافتیں درج ہیں ۔ علم نفسیات پر ان کا ایک رسالہ بہت مشہور ہے جو اعضا اور ارواح کی اصلاح کے متعلق ایک معتدل راستہ تجویز کرتا ہے۔ ان کی کتاب الاغذیہ صحت پر پرہیزی غذاؤں ، مشروبات اور مسالوں کے اثرات بیان کرتی ہے۔ ان کی دریافتوں میں ایک مؤثر کارنامہ اس امر کا ثبوت پہنچانا تھا کہ خارش کا سبب چھوٹے کیڑے ہیں جو مریض کے بدن سے بغیر پاخانہ کے ختم کئے جاسکتے ہیں ۔ اسی طرح ان کیڑوں کو کسی بھی تکلیف پہنچانے والے طریقۂ علاج کے بغیر ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان کی اس دریافت نے میڈیکل سائنس میں انقلاب برپا کردیا تھا۔ ابن زہر نے یہ بھی لکھا کہ کس طرح غذا اور طرزِ حیات سے گردے کی پتھری بننے کے عمل کو روکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے اعصابی امراض کو درست طورپر تفصیلاً بیان کیا جیسے سرسام، کھوپڑی کے اندر کسی نالی کا ورم جس کے ساتھ خون کی رکاوٹ بھی ہو وغیرہ۔ ان کی کچھ جدید دریافتوں نے جدید علم الادویہ کے ایسے شعبے کی بنیاد ڈالی جو اعصاب کے مخصوص امراض اور ادویات پرمشتمل ہے۔ اس نے سب سے پہلے بڑی آنت کے سرطان کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔ ابن زہر ہی وہ پہلا طبیب ہے جس نے نرخرے کے ذریعے خوراک کی فراہمی کی وضاحت کی۔ ابن زہر نے سرجری میں تجرباتی طریقہ متعارف کرایا۔وہ جانوروں کی مردہ اجسام کو تجربات کیلئے بروئے کار لاتےتھے۔ کہتے ہیں کہ ابن زہر پہلا طبیب ہے جس نے انسانی لاش کا معائنہ کرنے کیلئے اس کی چیر پھاڑ کی تاکہ اپنی جراحتی طریقوں کی سمجھ بوجھ میں اضافہ کرسکے۔
 انہوں نے سرجری کو ایک علاحدہ شعبہ بنایا اور اس کیلئے ایک نصاب مقرر کیا بالخصوص مستقبل کے سرجنوں کیلئے جنہیں مشق کی اجازت سے پہلے اس نصاب کی تکمیل لازمی تھی۔ ابن زہر نے عام طبیب اور سرجن دونوں کے دائرئہ عمل کے درمیان ایک سرخ علامتی خطِ امتیاز کھینچا کہ ایک عام طبیب کو جراحتی کیفیت میں علاج سے دستبردار ہونا چاہئے اور اسی طرح سرجری کو ایک مخصوص طبی میدان قراردیا۔ وہ ان اولین معالجین میں سے ہیں جنہوں نے مصنوعی بیہوشی کا استعمال کیا تھا۔ ان کا انتقال ۱۱۶۲ء میں ۶۸؍ سال کی عمر میں اسپین ہی میں ہوا تھا۔
وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK