ابوالقاسم فردوسی کا شمار ایران کے عظیم شعراء میں ہوتا ہے

Updated: June 12, 2020, 7:47 PM IST | Mumbai

حکیم ابوالقاسم حسن پور علی طوسی جو فردوسی کے نام سے مشہور ہیں ، ۱۰؍ ویں صدی کے نامور فارسی شاعر ہیں جو ۹۴۰ء میں ایران کے علاقے خراسان کے شہر طوس کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

حکیم ابوالقاسم حسن پور علی طوسی جو فردوسی کے نام سے مشہور ہیں ، ۱۰؍ ویں صدی کے نامور فارسی شاعر ہیں جو ۹۴۰ء میں ایران کے علاقے خراسان کے شہر طوس کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا شاہکار ’’شاہنامہ‘‘ ہے جس کی وجہ سے آپ نے دنیائے شاعری میں لازوال مقام حاصل کیا۔ شاہنامہ جس کا لفظی مطلب شاہ کے بارے میں یا کارنامہ ہے۔ شاہنامہ، فارسی ادب میں ممتاز مقام رکھنے والی شاعرانہ تصنیف ہے جو فارسی شاعر فردوسی نے تقریباً۱۰۰۰ء میں لکھی۔ اس شعری مجموعہ میں ’’عظیم فارس‘‘ کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ مجموعہ تقریباً ۶۰؍ ہزار سے زائد اشعار پر مشتمل ہے۔ اس ادبی شاہکارمیں ایرانی داستانیں اور ایرانی سلطنت کی تاریخ شاعرانہ انداز میں بیان کی گئی ہیں اور اس میں عظیم فارس سے لے کر اسلامی سلطنت کے قیام تک کے واقعات، تہذیب، تمدن اور ثقافت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ادب و تہذیب سے تعلق رکھنے والے فردوسی کو یونانی شاعر ہومر کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں ۔ فردوسی کے والد زمیندار تھے۔ یوں تو فردوسی کی ابتدائی زندگی کے تعلق سے زیادہ معلومات نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ ان کی بیوی بھی زمینداروں کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ۔ ان کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا انتقال ۳۷؍ سال کی عمر میں ہوگیا تھا۔ اس کا ذکر ’’شاہنامہ‘‘ میں موجود ہے۔ 
 فرودسی کا انتقال ۸۰؍ سال کی عمر میں ۱۰۲۰ء میں ہوا۔ بعض روایات میں ان کا سالِ وفات ۱۰۲۵ء اور عمر ۸۵؍ سال بھی ملتی ہے۔ فردسی کا مزار فارسی ادب اور ثقافت میں دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے جو پاژ نامی گاؤں کے قریب میں واقع ہے۔ فردوسی کا مزار گزشتہ ہزار برسوں سے اب تک بار بار قدرتی آفات اور تاریخی واقعات کا شکار ہوا ہے مگر اسے ہر بار از سرنو تعمیر کیا گیا ہے۔ ۱۹۳۳ء میں فردوسی کے نئے مزار کی تعمیر کا آغاز کیا گیا جس کا رقبہ ۳۰؍ ہزار میٹرکیوبک ہے۔ نامور ایرانی شاعر کے مزار کے قریب ایک میوزیم اور لائبریری بھی موجود ہیں ۔
 کہتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی نے فردوسی کو پیشکش کی تھی کہ شاہنامہ کا ایک شعر لکھنے کیلئے وہ انہیں سونے کی ایک اشرفی دیں گے۔ لیکن فردوسی نے کہا کہ شاہنامہ کے مکمل ہونے پر انہیں پوری رقم ایک ساتھ ادا کی جائے۔ شاہنامہ مکمل ہونے پر محمود غزنوی نے انہیں ۶۰؍ ہزار سونے کے سکے بھجوائے مگر جس سے سکے بھجوائے گئے تھے ا س نے خیانت کی اور اس طرح فردوسی، محمود غزنوی سے بد ظن ہوگئے۔ حقیقت معلوم ہونے پر سلطان نے انہیں دوبارہ ۶۰؍ ہزار سونے کے سکے بھجوائے لیکن جب ان کا کارواں طوس میں داخل ہوا ، اسی وقت لوگ فردوسی کا جنازہ قبرستان لے کر جارہے تھے جن کا دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوچکی تھی۔
وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK