پرِنگلس کے تمام چپس ایک ہی شکل کے ہوتے ہیں ، کیوں ؟

Updated: December 10, 2021, 7:10 AM IST | Mumbai

آلو کے چپس یا ویفر بیشتر افراد کو پسند ہیں ۔ آج کل بازار میں مختلف برانڈز اور ذائقے کے چپس دستیاب ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ مشہور ’’پرنگلس‘‘ ہے۔ آپ نے مال یا دکان میں یہ چپس ضرور دیکھے ہوں گے۔ یہ چپس ایک لمبے سلنڈر نما ڈبے میں بند ہوتے ہیں ۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آلو کے چپس یا ویفر بیشتر افراد کو پسند ہیں ۔ آج کل بازار میں مختلف برانڈز اور ذائقے کے چپس دستیاب ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ مشہور ’’پرنگلس‘‘  ہے۔ آپ نے مال یا دکان میں یہ چپس ضرور دیکھے ہوں گے۔ یہ چپس ایک لمبے سلنڈر نما ڈبے میں بند ہوتے ہیں ۔
  دلچسپ بات یہ ہےکہ پرنگلس کے تمام ویفر ایک جیسے نظر آتے ہیں یعنی ان کا ’’سائز اور شیپ‘‘ یکساں ہوتا ہے۔ تمام ویفر ترتیب وار سلنڈر نما ڈبے میں بند کئے جاتے ہیں ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب آلو مختلف شکل کے ہوتے ہیں تو آخر پرنگلس کے تمام ویفر یکساں کیوں نظر آتے ہیں ؟ یا انہیں اس طرح رکھنے کا راز کیا ہے؟
 ۱۹۵۶ء میں صارفین کی جانب سے یہ شکایت ملنے پر کہ پیکٹ میں انہیں آلو کے ٹوٹے ہوئے چپس ملتے ہیں پی اینڈ جی کمپنی نے انجینئرز کو کہا کہ وہ ایسے چپس بنائیں جو ٹوٹے نہ انہیں پلاسٹک کے بیگ میں پیک کیا جائے۔ چنانچہ انجینئرز نے ایک عرصہ بعد پرنگلس بنانے میں کامیابی حاصل کی۔
 واضح ہو کہ پرنگلس کے ویفر ’’سیڈل‘‘ (گھوڑے کی زین) شکل کی طرح نظر آتے ہیں ۔ سائنسی زبان میں اس شکل کو ’’ہائپر بولک پیرا بولائیڈ‘‘ کہتے ہیں ۔
 پرنگلس کی یہ مخصوص شکل صرف اسے جاذب نظر بنانے کیلئے نہیں ہے بلکہ اسے سلنڈریکل شکل کے ٹیوب میں اچھے طریقے سے محفوظ کرنا بھی ہوتا ہے۔ اس شکل کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ نقل و حمل کے دوران یہ چپس کے ٹوٹنے کے امکان کو کم کرتا ہے کیونکہ تمام چپس ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں اور ڈبہ اچھے سے بند ہوتا ہے۔ پرنگلس چپ کا دوہرا گھماؤ بھی اسے بہت پتلا ہونے کے باوجود اسے ثابت رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
 علاوہ ازیں ، حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پرنگلس کے چپس مکمل طور پر آلو سے نہیں بنتے بلکہ چپس کو مختلف اجزاء جیسے مکئی، آلو اور چاول کے آٹے میں ایک خاص پاؤڈر ملاکر بنایا جاتا ہے۔ اس آمیزے میں حسب ضرورت پانی ملایا جاتا ہے۔ اسے اچھی طرح مکس کرکے زائد پانی کو نچوڑ لیا جاتا ہے ، پھر اسے فیکٹری میں موجود مشینری کی مدد سے ’’سیڈل‘‘ کی شکل دی جاتی ہے، اور پھر مختلف مرحلوں سے گزرتا ہوا یہ ویفر سلنڈریکل ڈبے میں پیک کرکے بازار میں پہنچایا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK