Inquilab Logo Happiest Places to Work

معروف امریکی مصنفہ شرلی جیکسن جدید ہارر ادب کی معمار ہیں

Updated: July 24, 2026, 8:01 PM IST | Mumbai

Shirley Jacksonکےناول اور افسانے منفرد اسلوب، علامت نگاری اور سماجی تنقید کی بدولت آج بھی عالمی ادب میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

Shirley Jackson`s style is simple, fluid and realistic. Photo: INN
شرلی جیکسن اسلوب سادہ، رواں اور حقیقت پسندانہ ہے۔ تصویر: آئی این این

شرلی جیکسن بیسویں صدی کی ممتاز امریکی ناول نگار، افسانہ نگار اور مضمون نگار تھیں جو بنیادی طور پر ہارر اور پراسرار (مسٹری) ادب کی تخلیقات کیلئے مشہور تھیں۔ ان کا ادبی سفر دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط رہا۔ اس دوران انہوں نے ۶؍ ناول، دو یادداشتیں (میموائرز) اور دو سو سے زیادہ مختصر افسانے تحریر کئے۔ 
شرلی جیکسن۱۴؍ دسمبر۱۹۱۶ء کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق ایک متوسط مگر تعلیم یافتہ خاندان سے تھا۔ بچپن ہی سے انہیں مطالعے اور کہانیاں لکھنے کا شوق تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کیلیفورنیا میں حاصل کی اور بعد ازاں سائراکیز یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور نمایاں رہیں۔ شرلی جیکسن کا ادبی سفر مختصر کہانیوں سے شروع ہوا، لیکن انہیں عالمی شہرت۱۹۴۸ء میں شائع ہونے والی مختصر کہانی’’ دی لاٹری‘‘(The Lottery)سے ملی۔ یہ کہانی معروف امریکی جریدے’’ دی نیویارکر‘‘ میں شائع ہوئی اور اپنی غیر متوقع انجام، علامتی اسلوب اور سماجی تنقید کی وجہ سے ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ بہت سے قارئین نے اس کہانی کو خوفناک، چونکا دینے والی اور متنازع قرار دیا مگر ناقدین نے اسے بیسویں صدی کی بہترین مختصر کہانیوں میں شمار کیا۔ آج بھی دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں اس کہانی کو سماجی نفسیات، اجتماعی رویوں اور اندھی روایات پر تنقید کی بہترین مثال کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جرمن ریاضی داں رچرڈ ڈیڈکائنڈ محقق، معلم اور مصنف بھی تھے

شرلی جیکسن نے صرف مختصر افسانوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ کئی کامیاب ناول بھی تحریر کئے۔ ان کا شہرۂ آفاق ناول ’’دی ہنٹنگ آف ہل ہاؤس‘‘(۱۹۵۹ء) انگریزی ادب کے بہترین مافوق الفطرت اور نفسیاتی خوف (Psychological Horror) پر مبنی ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ان کا دوسرا ناول ’’We Have Always Lived in the Castle‘‘ (۱۹۶۲ء) بھی اپنی پراسرار فضا، نفسیاتی کردار نگاری اور منفرد اسلوب کی وجہ سے کلاسیکی ادب کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کے دیگر اہم ناولوں میں ’’ہینگسامین‘‘، ’’دی وال‘‘ اور’’ دی سن ڈائل‘‘ شامل ہیں۔ 
شرلی جیکسن نے صرف سنجیدہ ادب ہی نہیں لکھا بلکہ خاندانی زندگی پر مبنی مزاحیہ اور ہلکے پھلکے مضامین بھی تحریر کئے۔ ان کی کتابیں ’’لائف امونگ دی سیویجز‘‘ اور’’رائزنگ ڈیمَنز‘‘ ان کے گھریلو تجربات، بچوں کی پرورش اور روزمرہ زندگی کے دلچسپ واقعات پر مبنی ہیں۔ ان کتابوں سے ان کی شگفتہ مزاجی، مشاہدے کی قوت اور مزاح نگاری کی صلاحیت بھی نمایاں ہوتی ہے جو ان کی خوف اور نفسیاتی کہانیوں سے بالکل مختلف پہلو پیش کرتی ہے۔ ان کی کہانیوں اور ناولوں پر متعدد فلمیں، ٹیلی ویژن سیریز اور ڈرامے بھی بنائے گئے ہیں۔ جس سے نئی نسل بھی ان کے ادب سے متعارف ہوئی۔ ان کی تحریریں آج بھی امریکی اور انٹر نیشنل یونیورسٹیز کے نصاب کا اہم حصہ ہیں۔ شرلی جیکسن کا انتقال۸؍ اگست ۱۹۶۵ء کو امریکہ میں ہوا تھا۔ 
( وکی پیڈیا اوربرٹانیکا ڈاٹ کام)
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK