ایک دن کا ’’وزیر اعظم‘‘ ہو یا ’’وزیر اعلیٰ‘‘، قابلیت اور محنت شرط ہے

Updated: October 16, 2020, 6:58 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

فن لینڈ کی ایک دن کی وزیر اعظم بننے والی ۱۶؍ سالہ ایوا مورتو ابھی تعلیم حاصل کررہی ہیں ، مہاراشٹر کے شہباز منیار جو چھتیس گڑھ کے ایک دن کے وزیر اعلیٰ بنے تھے نے ابھی یو پی ایس سی کا امتحان دیا ہے۔کہتے ہیں کہ عمر صرف ایک ہندسہ ہے، جنہیں دنیا کو مسخر کرنا ہوتا ہے، وہ کسی بھی عمر میں اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر آگے بڑھ کر کامیابی حاصل کرلیتے ہیں ۔ ایسا ہی ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۰ء کو ہوا تھا۔ اِس دن ایوا مورتو نامی ایک ۱۶؍ سالہ طالبہ کوبراعظم یورپ کے ایک چھوٹے مگر خوبصورت ملک فن لینڈ کی ایک دن کی وزیر اعظم بنایا گیا تھا۔

Sana Marin, withAava Morto. Photo: INN
سنا مارین، ایوا مورتو کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

 کہتے ہیں کہ عمر صرف ایک ہندسہ ہے، جنہیں دنیا کو مسخر کرنا ہوتا ہے، وہ کسی بھی عمر میں اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر آگے بڑھ کر کامیابی حاصل کرلیتے ہیں ۔ ایسا ہی ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۰ء کو ہوا تھا۔ اِس دن ایوا مورتو نامی ایک ۱۶؍ سالہ طالبہ کوبراعظم یورپ کے ایک چھوٹے مگر خوبصورت ملک فن لینڈ کی ایک دن کی وزیر اعظم بنایا گیا تھا۔اہم بات یہ ہے کہ اس ملک کی موجودہ وزیر اعظم سنا مارین دنیا کی سب سے کم عمر وزیر اعظم ہیں ۔ایوا مورتو کو اقوام متحدہ (یو این، یونائیٹڈ نیشنز) کی جانب سے شروع کئے گئے پروگرام ’’گرلز ٹیک اوور‘‘، جو لڑکیوں کے عالمی دن کی مناسبت سے شروع کیا گیا ہے اور یہ دن ہر سال ۱۱؍ اکتوبر کو منایا جاتا ہے، اس کے تحت فن لینڈ کی ایک دن کی وزیر اعظم بنایا گیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد دنیا بھر میں صنفی مساوات کو فروغ دینا ہے۔ اس دن سنا مارین نے ایک دن کیلئے اپنا عہدہ نوجوان ایوا مورتو کے حوالے کردیا۔ ایوا نے وزیر اعظم کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد قوم سے خطاب بھی کیا جسے فن لینڈ کے سرکاری ٹویٹر ہینڈلر سے نشر بھی کیا گیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’’صنفی امتیازات کی وجہ سے ہم لڑکیوں کو زندگی کے ہر شعبے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہم محض ’’مظلوم‘‘ نہیں ہیں ۔ ہماری مدد سے کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔‘‘ایوا مورتو نے لڑکیوں کے ساتھ آن لائن فورمز پر ہراسانی کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’صنفی عدم مساوات کو دور کرنے کیلئے لڑکیوں کو ٹیکنالوجی تک رسائی اور یکساں مواقع فراہم کرنے سہوں گے۔‘‘ایک دن کیلئے وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز ہونے والی ایوا مورتو نے کوئی سرکاری حکم نامہ یا قانون تو جاری نہیں کیا۔ تاہم، انہوں نے ٹیکنالوجی کے میدان میں لڑکیوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کیلئے اہم ملاقاتیں کیں ۔ واضح رہےکہ’’ گرلزٹیک اوور‘‘ کے اس مہم کے تحت ہر سال مختلف ممالک میں لڑکیوں کو ایک دن کیلئے مختلف سرکاری اور نجی اداروں کا کوئی اہم عہدہ دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد لڑکیوں کو بااثر بنانا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ ہر شعبے میں آگے بڑھ سکیں ۔
ریاست چھتیس گڑھ کا ایک دن کا وزیر اعلیٰ

 یہ واقعہ ایوا مورتو اور فن لینڈ کا تھا۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ سال ستمبر میں ہماری ریاست مہاراشٹر کے ایک نوجوان کو چھتیس گڑھ کا ایک دن کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا؟ بیشتر افراد اس بات سے واقف نہیں ہوں گے مگر یہ حقیقت ہے۔ اگست ۲۰۱۹ء میں وہاٹس ایپ پر ایک پیغام گردش کررہا تھا جس میں درج تھا کہ یوتھ کانگریس، پنجاب، راجستھان اور چھتیس گڑھ کی ریاستی حکومتیں مشترکہ طور پر ’’ویک اَپ مہاراشٹر‘‘ نامی ایک مقابلے کا انعقاد کررہی ہے جس کے تحت ٹاپ ۱۰؍ میں جگہ بنانے والوں کو مذکورہ ریاستوں کا ایک دن کا وزیر اعلیٰ بننے کا موقع دیا جائے گا۔ یہ مقابلہ۴؍ مرحلے میں ہونا طے پایا تھا۔ 
 یہ پیغام ہزاروں نوجوانوں تک پہنچا، انہی میں سے ایک شہباز منیار بھی تھے جن کا تعلق امبا جوگئی ضلع بیڑ سے ہے اور جنہیں چھتیس گڑھ کا ایک دن کا وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔ اس تعلق سے تعلیمی انقلاب نے شہباز سے بات چیت کی تاکہ ان کی زندگی کا یہ اہم واقعہ پڑھ کر طلبہ تحریک حاصل کریں ۔ 
 شہباز نے بتایا کہ ’’پہلے مرحلے میں نوجوانوں کو کہا گیا تھا کہ وہ ایک منٹ کے ویڈیو کے ذریعے مہاراشٹر کے تعلق سے اپنا ویژن پیش کریں ۔ یہ ویڈیو امیدوار کسی بھی زبان میں بنا سکتا تھا۔ مہاراشٹر کے متعدد علاقوں سے ہزاروں انٹریز موصول ہوئیں ۔ پہلے مرحلے میں جن شرکاء کے ویڈیوز منتخب کئے گئے انہیں دوسرے مرحلہ کیلئے اسی ویڈیو کی مدد سے ایک پریزنٹیشن بنانا تھا اور ججوں کے ایک پینل کے سامنے ۲؍ منٹ میں پریزنٹیشن دینا تھا، بعد میں وہی پینل امیدوار کا انٹرویو لیتا۔‘‘ شہباز کا ایک منٹ کا ویڈیو منتخب کرلیا گیا اور ان کے پریزنٹیشن کو بہت سراہا گیا اور بغیر انٹرویو ہی کے تیسرے مرحلے کیلئے ان کا انتخاب کرلیا گیا۔اپنے ۲؍ منٹ کے پریزنٹیشن میں انہوں نے مہاراشٹر کے مسائل کے علاوہ ان کے حل بھی بتائے تھے۔ اس مرحلے میں کل ۶۳؍ نوجوانوں کو منتخب کیا گیا تھا اور ان تمام کو بامبے اسٹاک ایکسچینج کے سینٹر ہال میں بالکل ویسے ہی منظر میں بٹھایا گیا تھا جیسا مہاراشٹر اسٹیٹ اسمبلی کا ہوتا ہے۔ اس اسمبلی میں شہباز کو آزار رکن اسمبلی کا کردار نبھانا تھا، چنانچہ انہوں نے حکومت میں نے بیٹھتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دی تاکہ حکومت کے سامنے اپنا نقطہ بہترین انداز میں پیش کرسکیں ۔ وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ چوتھے مرحلے میں منتخب ہونے والے امیدواروں کوعوام سے ووٹ کی اپیل کرنی تھی۔ امیدواروں نے ۴؍ دنوں تک یہ مہم چلائی، اور سوشل میڈیا پر فعال نہ ہونے کے باوجود سب سے زیادہ ووٹ شہباز کو ملے اور یوں انہیں چھتیس گڑھ کا ایک دن کا وزیر اعلیٰ بننے کا موقع ملا۔ ۲۴؍ ستمبر ۲۰۱۹ء کو وہ ایک دن کے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔
 وزیر اعلیٰ بننے کے اپنے تجربات کے متعلق شہباز کہتے ہیں کہ’’مسائل ہر ریاست میں ہوتے ہیں ، چھتیس گڑھ میں بھی ہیں مگر ہمارے لئے اہم یہ ہے کہ ہم دستیاب ذرائع کی مناسبت سے ان کے بہترین حل نکالیں ۔ ایک دن کا وزیر اعلیٰ بننے پر میں نے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے ساتھ کافی وقت گزارا۔ اس دوران میں نے انہیں چھتیس گڑھ کے مسائل کے متعلق مشورے بھی دیئے جن کی انہوں نے پذیرائی کی۔ مجھے کابینہ کی میٹنگ میں بھی شامل کیا گیا جو میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔ اگلے دن میں نے ایک گھنٹہ ریاستی چیف سیکریٹری سے گفتگو کی جس میں مَیں نے مشورہ دیا کہ عوامی تقسیم کاری نظام، صحت عامہ اور تعلیم کے شعبے میں کیا کیا جانا چاہئے۔ یہ ۲؍ دن مجھے ہمیشہ یاد رہیں گے۔‘‘اس واقعے کے بعد سے اُن کے والدین کو وزیر اعلیٰ کے والد اور وزیر اعلیٰ کی والدہ کہہ کر بلایا جانے لگا ہے۔
 شہباز نے انجینئرنگ کی تعلیم سانگلی اور پونے سے حاصل کی ہے جبکہ حال ہی میں انہوں نے یو پی ایس سی کا امتحان دیا ہے۔ وہ پی ایچ ڈی کرنے کے بھی خواہشمند ہیں ۔ طلبہ کیلئے شہباز کا پیغام ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور وقت ضائع کرنے کے بجائے اسے بہتر کاموں میں لگائیں ۔ چونکہ موجودہ دور ٹیکنالوجی کا ہے، اسلئے ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اس میدان میں آگے بڑھیں اور اس کے ماہر بنیں ۔ آنے والا دور ٹیکنالوجی ہی کا ہوگا اس لئے اس کے متعدد شعبوں جیسے روبوٹکس اور اے آئی وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ نوجوان شمولیت اختیار کریں ۔ اس سے وہ نہ صرف اپنی قوم بلکہ ملک کا نام بھی روشن کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK