نئی جگہ پر نیند نہیں آتی، کیوں؟

Updated: March 05, 2020, 8:38 PM IST | Mumbai

جب آپ شہر سے باہر یا کسی کام کی وجہ سے کسی رشتہ دار یا دوست کے گھر جاتے ہیں اور وہاں آپ کو رات میں ٹھہرنا ہوتا ہے تو نیند نہیں آتی۔ اسی طرح جب آپ نئے گھر میں پہلی رات کو سونے کیلئے لیٹتے ہیں تو نیند آنکھوں سے غائب ہوجاتی ہے۔ اکثر افراد نے یہ بات محسوس کی ہوگی کہ کسی نئی جگہ پر پہلی رات نیند نہیں آتی۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

Can`t Sleep At A New Place- Picture INN
نئی جگہ پر نیند نہیں آتی۔ تصویر: آئی این این

جب آپ شہر سے باہر یا کسی کام کی وجہ سے کسی رشتہ دار یا دوست کے گھر جاتے ہیں اور وہاں آپ کو رات میں ٹھہرنا ہوتا ہے تو نیند نہیں آتی۔ اسی طرح جب آپ نئے گھر میں پہلی رات کو سونے کیلئے لیٹتے ہیں تو نیند آنکھوں سے غائب ہوجاتی ہے۔ اکثر افراد نے یہ بات محسوس کی ہوگی کہ کسی نئی جگہ پر پہلی رات نیند نہیں آتی۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جرنل کرنٹ بائیولوجی میگزین میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کسی نئی جگہ نیند نہ آنے کی وجہ چوکنا پن ہے۔آپ تصور کرسکتے ہیں کہ کسی خطرناک یا ناقابل یقین ماحول میں سونے کا موقع ملے تو ذہن کس حد تک ہوشیار اور چوکس ہوسکتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارا دماغ ہوٹل کے کمروں ، رشتے داروں یا دوستوں کے کمروں اور نئے گھر کو بھی اس خطرے میں شامل کردیتا ہے جس کی وجہ سے وہاں پہلی رات سونا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
 تحقیق کے دوران ۳۵؍ صحت مند افراد کی خدمات حاصل کی گئیں اور انہیں ایک سلیپ لیب میں ایک ہفتے کے فرق سے ۲؍ راتوں کو سونے کی ہدایت کی گئی۔ ان رضاکاروں کے ساتھ ایسی مشینیں بھی منسلک کی گئیں جو دل کی دھڑکنوں ، خون میں آکسیجن کی سطح، سانس، آنکھوں اور ٹانگوں کی حرکت کے ساتھ دماغ کے دونوں حصوں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کررہی تھیں ۔ سائنسدانوں نے زیادہ توجہ دماغ کے ایک ایسے رویے پر مرکوز کی جس سے عندیہ ملتا ہے کہ کوئی فرد کتنی گہری نیند سورہا ہے اور یہ بھی دیکھا کہ کمرے میں مداخلت نیند کی گہرائی کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔سائنسداں ، دماغ کے دونوں حصوں میں فرق کو نہیں دیکھ رہے تھے مگر انہوں نے اسے دریافت کیا۔ پہلی رات، نیند کے دوران رضاکاروں کے دماغ کے بائیں حصے میں زیادہ چوکنا پن نظر آیا۔
 ایسا کہا جاتا ہے کہ دماغ کا بایاں حصہ اجنبی آوازوں کے حوالے سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔ ایک ہفتے کے بعد رضاکار دوبارہ اس جگہ آئے اور دماغی سرگرمیوں سے عندیہ ملا کہ اب ان کے دماغ اس ماحول سے شناسا ہوچکے ہیں اور دونوں حصوں میں چوکنے پن کی سطح برابر تھی۔ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دماغ میں وہیلز اور ڈولفن جیسا سسٹم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر شہر یا ملک سے باہر جانے والے افراد لاشعوری طور پر اپنے دماغوں کو اس اثر سے بچانے کی تربیت دیتے ہیں کیونکہ ہمارا دماغ بہت لچکدار ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK