کورونا کی قسم ڈیلٹا تیزی سے پھیلتی ہے، تشخیص جلدی ہوتی ہے، کیوں ؟

Updated: September 17, 2021, 7:00 AM IST | Mumbai

کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا سے متاثر افراد میں ممکنہ طور پر ہزاروں گنا زیادہ وائرل ذرات ہوتے ہیں اور بیماری کی تشخیص کورونا کووڈ ۱۹؍  کی اصل قسم کے مقابلے میں ۲؍ دن پہلے ہوسکتی ہے۔

Symbolic image. Photo: INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا سے متاثر افراد میں ممکنہ طور پر ہزاروں گنا زیادہ وائرل ذرات ہوتے ہیں اور بیماری کی تشخیص کورونا کووڈ ۱۹؍  کی اصل قسم کے مقابلے میں ۲؍ دن پہلے ہوسکتی ہے۔یہ دعویٰ چین میں ہونے والی ایک ابتدائی تحقیق میں کیا گیا ہے۔
 ۱۰۰؍ سے زائد ممالک میں پھیل جانے والی کورونا کی یہ قسم وائرس کی اوریجنل قسم سے دگنا زیادہ جبکہ ایلفا قسم سے ۶۰؍ فیصد زیادہ متعدی تصور کی جارہی ہے۔یہ تیزی سے کیوں پھیل رہی ہے اس کے متعلق جاننے کیلئے چین کے ماہرین نے تحقیق شروع کی جس میں ۲۱؍ مئی کو چین میں ڈیلٹا کے پہلے مقامی کیس کا جائزہ لیا گیا کہ ڈیلٹا قسم کیسے اس سے پھیلی۔گوانگ ڈونگ اور دیگر مقامی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی جانب سے ڈیلٹا سے متاثر افراد اور ان کے قریب رہنے والوں کی نگرانی اور اسکریننگ کی گئی۔
 مریضوں کے قریبی افراد کو قرنطینہ کرکے ان کے روزانہ پی سی آر ٹیسٹ کئے گئے اور اس طرح پہلے مقامی کیس کے بعد مزید۱۶۷؍  مقامی معاملات کو شناخت کیا گیا۔اس ڈیٹا کا موازنہ چین میں وبا کے آغاز کے ڈیٹا سے کیا گیا۔محققین نے دریافت کیا کہ کسی مریض میں پی سی آر ٹیسٹ سے بیماری کی تشخیص کا اوسط وقت (یعنی وائرس کی اتنی مقدار کی موجودگی جو ٹیسٹ کو مثبت بنانے کیلئے کافی ہوتی ہے) وبا کے آغاز میں ۵ء۶۱؍ دن تھا جبکہ ڈیلٹا قسم کے مریضوں میں ۳ء۱۷؍ دن۔ محققین کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کا بیماری کا شکار ہونے کے بعد ایک ایسے وقت سے گزرتے ہیں جب علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور وائرس کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ اسے پکڑا نہیں جاسکتا، یہ وائرل لوڈ بتدریج پکڑے جانے کی سطح پر پہنچتا ہے اور متعدی بن جاتا ہے۔
 انہوں نے بتایا کہ یہ جاننا کہ ایک فرد کب وائرس کو آگے پھیلا سکتا ہے، بیماری کی روک تھام کی حکمت عملیوں کیلئےاہمیت رکھتا ہے، مگر ڈیلٹا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے برق رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وقت بہت کم ہوتا ہے۔یہ بھی دریافت کیا گیا کہ پی سی آر ٹیسٹ میں ڈیلٹا کے مریضوں میں وائرل لوڈ وائرس کی اصل قسم کے مریضوں کے مقابلے میں ۱۲۶۰؍ گنا زیادہ ہوتا ہے۔اس طرح یہ نئی قسم تیزی سے جسم میں پھیلتی ہے۔ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیلٹا کے مریض بیماری کے ابتدائی مرحلے میں زیادہ متعدی ہوتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK