اُردو زبان کے بارے میں یہ ۹؍ باتیں کیا آپ جانتے ہیں؟

Updated: November 12, 2021, 7:00 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ماہرین لسانیات اردو زبان کو دنیا کی خوبصورت اور مہذب زبان قرار دیتے ہیں ۔ ان کے مطابق جذبات کا جتنی آسانی سے اظہار اس زبان میں ممکن ہے، دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں ۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

اُردو ہماری مادری زبان ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ زبان ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، مشرقی وسطیٰ کے چند علاقوں یا پھر ایسی جگہوں پر بولی جاتی ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی ہوتی ہے یا جہاں وہ ایک کمیونٹی کی صورت میں رہتے ہیں ۔ یہ بات ۱۰۰؍ فیصد درست ہے کہ اردو زبان زیادہ تر انہی علاقوں میں بولی جاتی ہے لیکن اس کی اپنی ایک بین الاقوامی اہمیت بھی ہے۔ یہ زبان صرف ان علاقوں تک نہیں پھیلی ہوئی ہے بلکہ ایسے کئی ممالک ہیں جہاں اردو زبان بولی، پڑھی، لکھی اور سنی جاتی ہے۔ ’’بیبل ڈاٹ کام‘‘ کی جون ۲۰۲۱ء کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں اردو ۱۰؍ ویں نمبر پر ہے ۔ ۲۰۱۸ء اور ۲۰۱۹ء میں یہ ۱۱؍ ویں نمبر پر تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اردو بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے ۲۳۰؍ ملین افراد اردو زبان بولتے ہیں ۔ماہرین لسانیات اردو زبان کو دنیا کی شائستہ ترین زبان قرار دیتے ہیں ۔ ان کے مطابق جس قدر احساسات اور جذبات کا اظہار اس زبان میں ممکن ہے، دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں ۔ اس زبان کے متعلق ہم بہت سی باتیں جانتے ہیں لیکن اس کے بارے میں چند باتیں شاید آپ کو معلوم نہ ہوں ۔
ماریشس میں اُردو ریڈیو
 مؤرخین کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک کے ایسے افراد، خاص طور پر برصغیر کے مسلمان جو اردو بولتے تھے، انہوں نے برسوں پہلے ماریشس میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ اس طرح ان کے ذریعے یہ زبان اس ملک میں بھی بولی جانے لگی۔ آج اس ملک کے متعدد ریڈیو چینلز میں سے ایک ایسا بھی ہے جو خالص اردو پروگرامز کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اس چینل کے دلچسپ پروگرام ماریشس کی ایک بڑی آبادی سنتی ہے۔ یہاں پر مساجد ضرور ہیں لیکن اسی چینل کے ذریعے دن میں ۵؍ مرتبہ اذان بھی دی جاتی ہے تاکہ ریڈیو سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے۔
بین الاقوامی انگریزی میڈیا ادارے اردو میں 
 دنیا میں ایسے کئی میڈیا ادارے ہیں جن کے مشمولات (خبریں اور فیچرس) انگریزی میں شائع یا نشر ہوتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ ایسے مشہور ادارے بھی ہیں جو انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی اپنے مشمولات شائع کرتے ہیں ۔ ان میں بی بی سی اور دی انڈیپینڈنٹ کے نام قابل ذکر ہیں ۔ انڈیپینڈنٹ نے حال ہی میں اپنی اردو ویب سائٹ لانچ کی ہے۔ ہر چند کہ اردو بولنے والوں کی تعداد کم ہے لیکن اس زبان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اب متعدد میڈیا ادارے اردو بولنے اور پڑھنے والوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ، اور ان کیلئے مشمولات شائع کررہے ہیں ۔ 
ترکی میں واقع ایک شہر کا نام ’’اردو‘‘ ہے
 اردو جسے ترکی زبان میں ’’اوردو‘‘ کہتے ہیں بحیرۂ اسود کے ساحل پر ایک شہر ہے۔ خیال رہے کہ لفظ اردو ترک زبان کے لفظ ’’اوردو‘‘ (جس کا معنی لشکر ، فوج ہے) یا ’’اوردا‘‘ سے نکلا ہے۔ تاہم، ترک زبان سے اردو میں کم ہی الفاظ آئے ہیں ۔سلطنت عثمانیہ میں اس شہر کو ’’اوردو‘‘ (لشکر) کا نام دیا گیا تھا کیونکہ یہاں اس حکومت کی فوجیں آباد تھیں اور یہ ایک ایسی زبان بولتے تھے جو مختلف زبانوں جیسے فارسی، عربی، سنسکرت، ہندی، ترکی اور مزید چند زبانوں کا مجموعہ تھی۔ اردو زبان کی ابتداء یہی سے ہوئی، اور پھر یہ آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیل گئی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی اہم زبانوں میں 
 اردو، امریکی محکمہ خارجہ کی مرتب کردہ اہم زبانوں کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ امریکہ میں اردو بولنے والوں کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے، ریاستی محکموں اور دیگر ایجنسیوں اور اداروں نے اپنی ویب سائٹس پر اردو زبان کا آپشن بھی رکھا ہے جسے مسلسل اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں اردو بولنے والوں کی تعداد صرف ۳؍ لاکھ ہے۔ یہ ادارے اردو بولنے والے طلبہ کو بیرون ملک اسکالر شپ وغیرہ کی سہولیات فراہم کرتے ہیں ۔اس کا مقصد ہر زبان کے بولنے والے کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔
اردو بولنے والے پاکستان سے زیادہ ہندوستان میں ہیں 
 مردم شماری ۲۰۱۱ء کے مطابق ہندوستان میں ۵۰ء۸؍ ملین افراد کی مادری زبان اردو ہے۔ ملک کی مجموعی آبادی کا ۴ء۳۴؍ فیصد حصہ اردو زبان بولتا، پڑھتا، لکھتا یا سمجھتا ہے۔ ۲۰۰۶ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اردو زبان بولنے والوں کی تعداد ۱۶؍ ملین ہے۔ پاکستان کی مجموعی آبادی کے صرف ۷؍ فیصد حصے کی مادری زبان اردو ہے۔ یعنی ہندوستان میں اردو بولنے والے پاکستان سے ۳؍ گنا زیادہ ہیں جبکہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی علاقے کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ، برصغیر میں ہندی اور بنگالی کے بعد سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اردو ہے جس کے بولنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
دی کینیڈا اردو اسوسی ایشن
 ۱۹۵۰ء کی دہائی میں کینیڈا میں ایک اردو سوسائٹی شروع کی گئی جس کے تمام ممبران اردو زبان بولتے ہیں ۔ یہی سوسائٹی اب ’’دی کینیڈا اردو اسوسی ایشن‘‘ بن گئی ہے۔ اس کا مقصد کینیڈا میں تیسری دنیا کے مسائل پر بحث کرنا اوران کا حل نکالنے کی کوشش کرنا ہے۔ اسی طرح یہ سوسائٹی کینیڈامیں رونما ہونے والے متعدد واقعات پر اظہار خیال کرتی ہے۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی میں یہاں اردو کی ادبی نشستوں کا بھی اہتمام کیا جانے لگا، اور اب مہینے میں ۲؍ مرتبہ ایسی نشستوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ارو زبان کو فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بیشتر لوگوں کی پسندیدہ زبان
 شعر و شاعری یا خوبصورت الفاظ کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لحاظ سے اردو بیشتر لوگوں کی پسندیدہ زبان ہے۔ دنیاکے ایسے افراد جو اُردو، سمجھتے، بولتے، پڑھتے یا لکھتے ہیں ، یا جنہوں نے زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ اردو سنی ہو یا اس زبان پر تبادلہ خیال کیا ہو، اسے ایک پر کشش زبان قرار دیتے ہیں ۔ دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری یعنی بالی ووڈ کے نغموں میں ۹۰؍ فیصد سے زائد اردو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ۔ اسی طرح پارلیمنٹ میں یا کسی بھی تقریب میں لیڈران یا مقررین اپنی تقریر کو بااثر بنانے یادوسروں سے زیادہ فصیح نظر آنے کیلئے اردو الفاظ یا شعر کا استعمال کرتے ہیں ۔ مؤرخین کے مطابق ۱۸۰۰ء کی دہائی کے آخر میں ، جب ناخواندگی ایک اندازے کے مطابق۹۷؍ فیصد تھی، ملک میں انتظامی، عدالتی اور دیگر تمام سرکاری کام اردو میں کئے جاتے تھے۔ اس وقت اردو کو پڑھے لکھے اشرافیہ کی ملکیت سمجھا جاتا تھا۔
ایسے ممالک جہاں اردو بولنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیاد ہے
 ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان، سعودی عربیہ، نیپال، برطانیہ، امریکہ، بنگلہ دیش، کینیڈا اور قطر میں ہے جبکہ عمان، ایران، بحرین، ناروے، ترکی اور جرمنی میں بھی یہ زبان بولی جاتی ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی ۵؍ زبانیں 
 ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۵۰ء تک دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی ۵؍ زبانوں میں اردو / ہندی دوسرے نمبر پر ہوگی۔ پہلے نمبر پر چینی، تیسرے نمبر پر انگریزی، چوتھے نمبر پر ہسپانوی اور پانچویں نمبر پر عربی ہوگی۔ تاہم، ۱۰۰؍ سال بعد دنیا میں بولی جانے والی ۷؍ ہزار زبانوں میں سے ۹۰؍ فیصد ختم ہوجائیں گی یا انہیں بولنے والے بہت کم ہوں گے جبکہ چینی، ہسپانوی اور انگریزی زبانیں عالمی تجارت کی ۳؍ بڑی زبانیں ہوں گی۔اسی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا کی بہت سی زبانیں اب ختم ہوگئی ہیں ، اور ہمیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے کہ کتنی زبانیں اور بولیاں ہم کھو چکے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK