عید کا جوڑا

Updated: April 30, 2022, 11:57 AM IST | Anwar Farhad | Mumbai

عید کی صبح عنادل کے گھر پر ایک غریب میاں بیوی اپنی بچیوں کے ساتھ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کچھ لینے نہیں دینے آئے ہیں۔ یہ سن کر سب چونک جاتے ہیں۔ آنے والا غریب شخص ایک پیکٹ نکال کر عنادل کے دادا کی جانب بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ عید کا جوڑا ہے.... پڑھئے پوری کہانی:

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

جیسے جیسے روزے کم ہوتے جا رہے تھے، عید کا دن قریب آتا جا رہا تھا، مگر عنادل فاطمہ کے لئے تو رمضان کا ایک ایک دن اتنا بڑا، اتنا لمبا ہوتا تھا کہ کاٹے نہیں کٹتا تھا۔ ’’یا اللہ! یہ رمضان کے دن اتنے بڑے کیوں ہوجاتے ہیں؟‘‘ ’’ارے بیٹا! رمضان کے دن بھی اتنے ہی بڑے ہوتے ہیں، جتنے عام دنوں کے۔‘‘ یہ جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا تھا، یہ تو عنادل کے دادا جان کی آواز تھی۔ انہوں نے اس کے بڑبڑانے کی آواز سن لی تھی اور اب وہی بول رہے تھے، ’’رمضان کے دن بڑے اور لمبے اس لئے محسوس ہوتے ہیں کہ روزے دار صبح ہی سے شام کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔‘‘ ہاں! ایسا تو ہے۔ اس نے سوچا، صبح سے ہی شام کا خیال آنے لگتا ہے اور پھر جیسے جیسے بھوک اور پیاس بڑھتی جاتی ہے، انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی جاتی ہیں اور افطار کے وقت تک تو بدن میں جیسے جان ہی نہیں رہتی۔ عنادل فاطمہ تو دو چار روزے ہی رکھتی تھی اور وہ بھی بڑی ضد کرکے، مگر گھر کے بڑے لوگ رمضان کے پورے روزے رکھتے تھے۔ ایک دن اس نے دادا جان سے پوچھا، ’’دادا جان! روزہ رکھ کر آپ کو بھوک پیاس نہیں لگتی؟‘‘ ’’بھوک بھی لگتی ہے اور پیاس بھی۔‘‘ ’’پھر کیا ضرورت ہے روزے رکھنے کی؟ ایک دو دن اپنا شوق پورا کرکے کھانا پینا شروع کر دیجئے۔‘‘ دادا جان پہلے ہنسے پھر بولے، ’’ہم بڑے چھوٹوں کی طرح شوق پورا کرنے کیلئے روزے نہیں رکھتے۔‘‘ ’’پھر کیوں رکھتے ہیں؟‘‘
 ’’اللہ کا حکم ہے، اس لئے رکھتے ہیں۔ اللہ کا حکم بجا لانا عبادت ہے۔ نماز کی طرح روزے رکھنا بھی ہر بالغ شخص کیلئے فرض ہے۔ روزے رکھنے والوں کو ثواب اور نہ رکھنے والوں کو عذاب ملتا ہے۔‘‘ عنادل فاطمہ سوچ میں پڑ گئی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کیسا حکم ہے؟ روزے رکھوا کر بندوں کو تکلیف میں مبتلا کرنا، کیا یہ اچھی بات ہے؟ امی جان تو کہتی ہیں اللہ بڑا رحیم و کریم ہے، رحم کرنے والا ہے۔ ’’کیا سوچنے لگی ہو، عنادل بیٹا؟‘‘ دادا جان نے اسے ٹوکا۔ عنادل فاطمہ نے اپنی سوچ سے دادا جان کو آگاہ کر دیا۔ دادا جان اس کی بات سن کر بولے، ’’بے شک اللہ تعالیٰ بڑے رحیم و کریم ہیں، وہ اپنے ہر بندے سے بے پناہ محبّت کرتے ہیں اور اسی محبّت کا نتیجہ ہے کہ ہر مومن مسلمان پر روزے فرض کئے ہیں۔ کوئی چاہے کتنا ہی بڑا، کتنا ہی امیر کبیر ہو، بادشاہ ہی کیوں نہ ہو، اس کے لئے روزے رکھنا لازمی قرار دیا ہے۔‘‘ عنادل فاطمہ بولی، ’’دادا جان! جس طرح روزے رکھ کر بھوک پیاس مجھے لگتی ہے، آپ کو بھی لگتی ہوگی اور دوسروں کو بھی اسی طرح لگتی ہوگی؟ پھر اللہ تعالیٰ بھوک پیاس کی یہ تکلیف اپنے بندوں کو کیوں دیتے ہیں؟ مَیں اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچاؤں تو کیا آپ مجھے رحم دل کہیں گے؟‘‘
 ’’شاباش! تم نے بہت اچھا سوال کیا ہے۔ مَیں تمہارے سوال سے تمہیں جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ اگر تم مجھے کوئی تکلیف پہنچاؤ اور تمہارے ابّو تمہیں وہی تکلیف پہنچائیں، جو تم نے مجھے پہنچائی ہے تو تمہیں اندازہ ہو جائے گا کہ تم نے دادا جان کو کتنی تکلیف پہنچائی ہے، کتنا دکھ دیا ہے۔ ہے نا؟‘‘ ’’جی ہاں! ایسا ہی ہوگا۔‘‘
 ’’بس یہی جواب ہے تمہارے اس سوال کا کہ اللہ تبارک اپنے بندوں کو بھوک پیاس کی تکلیف کیوں دیتا ہے؟ اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہوتے ہیں، جنہیں سال بھر تک پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ کوئی لوگوں کو تو دو وقت روکھی سوکھی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی جبکہ بہت سے خوشحال لوگوں کو دنیا کی ہر نعمت حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے ہر شخص پر اس لئے فرض کئے ہیں کہ اسے احساس ہو کہ اللہ کے ایسے بھی بندے ہیں جو سال بھر تک ایسی ہی بھوک پیاس کی اذیت برداشت کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے دل میں رحم کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ حسب ِ توفیق ان کی مدد اور اعانت کرتے ہیں۔‘‘
 ’’اوہ..... یہ تو.... یہ تو....‘‘ کہتے ہوئے عنادل فاطمہ کسی خیال میں گم ہوگئی.... پھر اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ اس کے بعد دادا جان کی طرف ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی، ’’دادا جان! مَیں تو ایک دو روزے رکھ کر ہی اس طرح نڈھال ہو جاتی ہوں اور وہ لوگ جو سال بھر ایسی بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں، جنہیں ایسی تکلیف سہنا پڑتی ہے، سوچنے کی بات ہے، ان کا کیا حال ہوتا ہوگا؟‘‘ ’’اب تو تمہاری سمجھ میں آگیا نا کہ روزے کا مطلب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس مہینے اپنے بندوں سے روزے کیوں رکھواتے ہیں؟‘‘ شام کو مغرب کی اذان سے کچھ پہلے عنادل فاطمہ نے اپنی دادی جان سے کہا، ’’دادا جان! آج میرے حصے کی افطاری ایک الگ پلیٹ میں دے دیں۔‘‘ ’’کیوں.... کیا آج تم ہم لوگوں کے ساتھ افطار نہیں کرو گی؟‘‘ ’’بھئی، دے دو نا۔‘‘ اس سے پہلے دادا جان بول پڑے، ’’یہ ہمارے ساتھ افطار کرے نہ کرے، اس کی مرضی۔‘‘ اور دادی جان نے ایک پلیٹ میں خوب ٹھیک ٹھاک افطاری سجا کر اپنی لاڈلی پوتی کو دے دی۔ وہ کچھ دیر پلیٹ کو سامنے لئے بیٹھی رہی، پھر ایک آواز پر چونکی اور پلیٹ لے کر دورازے کی طرف لپکی۔ دورازہ کھولا تو دو غریب بچیاں پھٹے پرانے لباس میں نظر آئیں۔ عنادل نے اپنے حصے کی افطاری ان کی جھولی میں ڈال دی اور خالی پلیٹ لے کر واپس آگئی۔ اس کے چہرے پر ایسا نور تھا، جسے سب نے محسوس کیا۔ ’’اے ہے! مانگنے والوں ہی کو دینا تھا تو پہلے ہی بتا دیا ہوتا۔‘‘ دادی جان چیخیں۔ ’’تاکہ دو نمبر پلیٹ تیار کرتیں۔‘‘ پوتی کے بجائے دادا جان نے جواب دیا۔ دادی جان نے دادا جان کی بات نظر انداز کرتے ہوئے کہا، ’’ارے بیٹا! ہم تو تقریباً روز ہی مسجد یا اڑوس پڑوس میں افطاری بھجواتے ہیں۔‘‘ ’’مگر دادی جان! پڑوسیوں اور مسجد والوں سے زیادہ حقدار وہ لوگ ہیں جو بے چارے ان نعمتوں سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں روزے اسے لئے رکھواتے ہیں کہ ہم اپنے غریب بھائی بہنوں کے دکھ درد کو سمجھیں، ان کا سہارا بنیں، ان کے کام آئیں۔‘‘
 ’’دادی جان نے عنادل کو کھینچ کر اپنے گلے سے لگا لیا، ’’اللہ تجھے نظر بد سے بچائے۔ اب تو تُو بڑی بوڑھیوں کی طرح باتیں کرنے لگی ہے۔‘‘
 اب یہ عنادل فاطمہ کا روز کا معمول بن گیا۔ وہ اپنے حصے کی افطاری، افطار کے وقت سے ذرا پہلے صدا لگانے والی دو غریب بچیوں کو دے دیا کرتی تھی اور انہیں کل پھر آنے کو کہتی۔ دونوں لڑکیوں لگ بھگ اس کی عمر اور قد کاٹھ کی تھیں۔ دونوں آپس میں بہنیں تھیں۔ جب وہ ان کو افطار دیتی تو وہ مسکرا دیتی تھیں اور ان کے چہرے پر ایک چمک سی نمودار ہوتی تھی۔ عنادل یہ دیکھ کر بہت خوش ہوتی۔
 دن گزرتے جا رہے تھے اور عید کا دن قریب ہوتا جا رہا تھا۔ ابھی عید کو ساتھ آٹھ دن باقی تھے کہ دادی جان نے عنادل فاطمہ کے لئے ایک بہت ہی پیارا اور قیمتی عید کا جوڑا خریدا، جو عنادل سمیت سب گھر والوں کو بہت پسند آیا۔ پھر دو دن بعد اس کی امی اور اس کے ابّو بھی ایسا ہی ایک قیمتی اور خوبصورت جوڑا بازار سے خرید لائے۔ عنادل کی خوشیوں کا تو کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ وہ ہر چھوٹے بڑے کو اپنے عید کے ان جوڑوں کے بارے میں بتاتی اور اپنی ہمجولیوں اور سہیلیوں سے پوچھتی، ’’تمہارا عید کا جوڑا آگیا ہے۔‘‘
 دوسروں کی طرح اس نے ان دو بہنوں سے بھی یہی سوال پوچھ لیا، ’’تمہارے امّی ابّو تم لوگوں کے عید کے جوڑے لے آئے؟‘‘
 ’’نہیں....!‘‘ اس جواب کے ساتھ ان کے چہرے بالکل مرجھا گئے تھے۔ ’’تو پھر کیا چاند رات کو لائیں گے؟‘‘ ’’جی نہیں....‘‘ ’’تو کیا تم لوگ عید کے جوڑوں کے بغیر عید منا لیتی ہو؟‘‘ اس بار دونوں نے اپنی گردن ہلا کر ہاں میں جواب دیا۔ دونوں بہنیں افطاری لے کر چلی گئیں، مگر عنادل فاطمہ دیر تک سوچتی رہی۔ اسے تعجب بھی ہو رہا تھا اور افسوس بھی۔ شاید ان کے ابّو امّی کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ یہ باتیں سوچتے ہوئے ان کا اداس چہرہ اس کی نگاہوں کے سامنے آجاتا اور وہ خود بھی اداس ہو جاتی۔ اور پھر عید کا دن اپنی تمام تر خوشیوں کے ساتھ آگیا۔ دادی جان کے ساتھ عنادل کی امی جان بھی تقریباً تمام رات عید کی تیاریوں میں مصروف رہی تھیں۔ فجر کی نماز پڑھ کر عنادل کی امّی نے جلدی جلدی اپنے، عنادل اور عنادل کے ابو کے جوڑے نکالنا شروع کئے، کیونکہ مردوں کو نہا دھو کر عید کی نماز پڑھنے عیدگاہ جانا ہے۔ عورتیں نہا کر دھو کر گھر پر ہی نماز عید ادا کریں گی۔ پھر عنادل کی امی ایک دم پریشان ہوگئیں۔ سب کے عید کے جوڑے تو مل گئے تھے مگر عنادل کے دونوں جوڑے نہیں مل رہے تھے۔ آخر گئے کہاں؟ رکھے تو سارے کپڑے ساتھ ہی تھے۔ وہ اس وقت اس گمشدگی کے بارے میں کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتی تھیں۔ عنادل کے ابّو قیامت کھڑی کر دیتے۔ خود ہی چیزیں رکھتی ہو، خود ہی بھول جاتی ہو، تمہارا دل دماغ کہاں رہتا ہے؟ ہزاروں ایسی ہی باتیں سوچ کر وہ گھبراہٹ کے عالم میں الماری کے کپڑوں کو بار بار الٹ پلٹ رہی تھیں کہ گھنٹی کی مترنم آواز اچانک سنائی دی۔ ’’یہ اس وقت کون آگیا؟‘‘ کہتی ہوئی وہ دروازے کی طرف لپکیں۔ عنادل کے ابّو اور دادا جان بھی دروازے کی طرف گئے کہ اتنے سویرے کون آگیا۔ دروازہ کھلا تو سامنے پھٹے پرانے کپڑوں میں ایک میاں بیوی اور ان کی دو بچیاں کھڑی تھیں۔ ’’ارے بھئی! اتنے سویرے تم لوگ.... دن کو آنا، ہم تمہارا حصہ تمہیں ضرور دیں گے۔‘‘ دادا جان نے نرم لہجے میں کہا۔ ’’صاحب جی! ہم اس وقت کچھ لینے نہیں دینے آئے ہیں۔‘‘ ’’دینے آئے ہیں؟‘‘ کسی کی سمجھ میں ان کی یہ بات نہیں آئی۔آنے والے مرد نے ایک پیکٹ نکال کر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا، ’’یہ آپ کی بچی کے عید کے جوڑے ہیں، جو اس نیک دل بچی نے کل شام کو ہماری بچیوں کو دیئے تھے۔ صبح ہمیں ان جوڑوں کے بارے میں معلوم ہوا تو ہم انہیں لوٹانے آئے ہیں کہ اس بچی نے یقیناً آپ لوگوں سے پوچھے بغیر....‘‘ عنادل کی امی کے چہرے پر ایک دم رونق آگئی تھی اور وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھانے ہی والی تھیں کہ دادا جان بول پڑے، ’’محبّت اور خلوص سے دیا ہوا تحفہ لوٹایا نہیں جاتا۔ آپ لوگ اسے قبول نہیں کریں گے تو ہماری پوتی عنادل فاطمہ کا دل ٹوٹ جائے گا۔‘‘ پھر ایک لمحہ رک کر انہوں نے جیب سے سو روپے کا نوٹ نکال کر بڑھاتے ہوئے کہا، ’’ہماری طرف سے دونوں بچیوں کی عیدی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK