• Thu, 01 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایمی نوتھر کا شمار بیسویں صدی کے مشہور ریاضی دانوں میں ہوتا ہے

Updated: December 26, 2025, 4:48 PM IST | Mumbai

Emmy Noether خواتین کیلئے علم اور تحقیق کی دنیا میں جدوجہد، استقامت اور ذہنی آزادی کی ایک روشن علامت سمجھی جاتی ہیں۔

Albert Einstein called Emmy Noether a great mathematician. Photo: INN
البرٹ آئنسٹائن نے ایمی نوتھر کو عظیم ریاضی داں کہا تھا۔ تصویر: آئی این این

ایمی نوتھر بیسویں صدی کی عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار کی جاتی ہیں اور انہیں جدید تجریدی الجبرا (Abstract Algebra) اور تھیورٹکل طبیعیات (Theoretical Physics) کی بنیاد رکھنے والی شخصیات میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ 
ایمی نوتھر۲۳؍ مارچ۱۸۸۲ء کو جرمنی کے شہر ایئرلانگن میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد میکس نوتھر خود ایک ممتاز ریاضی داں اور ایئرلانگن یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ ابتدا میں ایمی کی دلچسپی زبانوں میں تھی اور انہوں نے فرانسیسی اور انگریزی پڑھانے کا ارادہ کیا لیکن بعد میں ریاضی کی طرف ان کا رجحان بڑھا۔ اس زمانے میں جرمنی کی یونیورسٹیز میں خواتین کیلئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل تھا، چنانچہ ایمی نوتھر کو باقاعدہ طالبہ کے طور پر داخلہ نہیں ملتا تھا اور وہ محض سامعہ (Guest Student) کے طور پر لیکچرز میں شرکت کرتی تھیں۔ تمام سماجی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے غیر معمولی محنت اور ذہانت کے ذریعے ۱۹۰۷ءمیں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی جو اس دور میں کسی خاتون کیلئے ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔ 
تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی ایمی نوتھر کو طویل عرصے تک کسی جامعہ میں باقاعدہ تدریسی عہدہ نہیں دیا گیا۔ وہ کئی برس تک بغیر تنخواہ کے پڑھاتی رہیں اور ان کا کام اکثر ان کے مرد ساتھیوں کے نام سے پیش کیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے تحقیق کا سلسلہ نہیں چھوڑا۔ ۱۹۱۵ءمیں انہیں گوٹنگن یونیورسٹی مدعو کیا گیا جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ریاضیاتی مرکز سمجھا جاتا تھا۔ یہاں انہوں نے عظیم سائنسدانوں جیسے ڈیوڈ ہلبرٹ اور فیلکس کلائن کے ساتھ کام کیا۔ اسی دوران ایمی نوتھر نے وہ انقلابی کام انجام دیا جس نے ریاضی اور طبیعیات دونوں کی سمت بدل دی۔ ان کا سب سے مشہور کارنامہ ’’نوتھرز تھیورم‘‘(Noether’s Theorem) ہے جو۱۹۱۸ء میں پیش کیا گیا۔ اس قضیے میں بتائے گئے اصول جدید طبیعیات، خصوصاً نظریہ اضافیت اور کوانٹم میکینکس کی بنیاد بن گئے اور آج بھی فزکس کے اہم ترین اصولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 
ریاضی کے میدان میں ایمی نوتھر کی خدمات نہایت گہری اور دیرپا ہیں۔ انہوں نے الجبرا کو حسابی مثالوں سے نکال کر ایک تجریدی اور منظم ڈھانچے میں ڈھالا۔ ان کے کام نے’’رِنگ تھیوری‘‘، آئیڈیلز، اور الجبری ساختوں کو ایک نئی سمت دی۔ ’’نوتھرین رِنگز‘‘ کا تصور ان ہی سے منسوب ہے جو آج الجبرا اور الجبری ہندسہ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایمی نوتھر کا تدریسی انداز بھی بے حد مؤثر تھا؛ وہ اپنے طلبہ کو آزادانہ سوچنے اور نئے سوالات اٹھانے کی ترغیب دیتی تھیں۔ 
۱۹۳۳ءمیں جب نازی حکومت نے جرمنی میں اقتدار سنبھالا تو یہودی ہونے کی وجہ سے ایمی کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد وہ امریکہ چلی گئیں جہاں ان کا انتقال ۱۴؍ اپریل ۱۹۳۵ء کو ہوا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK