Updated: February 15, 2026, 10:07 PM IST
| Mumbai
بھومی پیڈنیکر کی پاورفل پرفارمنس والی سیریز ’’دلدل ‘‘ نے ریلیز ہوتے ہی ناظرین کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے۔ لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس سائیکولوجیکل کرائم تھرلر کے مداحوں کے لیے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے۔ سیریز کے میکر سریش تروینی نے دوسرے سیزن کے بارے میں ایک بڑا اشارہ دیا ہے۔
بھومی پیڈنیکر۔ تصویر:آئی این این
بالی وو ڈ اداکارہ بھومی پیڈنیکر کی نئی سیریز ’دلدل‘ اپنی شاندار کہانی اور سنسنی کے باعث ناظرین کے درمیان چھائی ہوئی ہے۔ مداح کی اسی دیوانگی کے درمیان اب اس کے دوسرے سیزن کے حوالے سے بحث زور پکڑ گئی ہے۔ سیریز بنانے والے سریش تروینی نے حال ہی میں اشارہ دیا ہے کہ وہ اس سائیکولوجیکل کرائم تھرلر کی کہانی کو آگے لے جانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
انہوں نے مڈڈے کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ ہم دوسرے سیزن کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ہماری رائٹرز کی ٹیم پچھلے تین چار برسوں سے اس شو پر کام کر رہی ہے اور وہ آگے بڑھنے کے لیے کافی پرجوش ہیں۔‘‘سریش تروینی نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پاس کہانی کو آگے لے جانے کے لیے کچھ بہترین آئیڈیاز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم سیزن وَن کو ملنے والے فیڈبیک پر بھی دھیان دے رہے ہیں۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا، تو ہم جلد ہی اس کے بارے میں صحیح فیصلہ لیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:محمد صلاح کو سعودی کلبوں کو فروخت کرنے کی تیاری
دلدل کے سیزن ۲؍ کا اشارہ
سریش تروینی نے بتایا کہ کہانی میں اتنی گنجائش ہے کہ اس کا دوسرا سیزن آسانی سے بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سیزن ۲؍ کے لیے بس کچھ چیزوں کا صحیح ہونا ضروری ہے، جیسے میری دستیابی، ایک مضبوط اسکرپٹ اور امیزون پرائم ویڈیو کی ہری جھنڈی۔ ہم اس کہانی کو آگے لے جانے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کیا امتیاز علی کی ’’ہیر رانجھا‘‘ میں روہت سراف ہیرو ہوں گے؟
دلدل سیریز کی کہانی
سیریز کی کہانی ریٹا (بھومی پیڈنیکر) کے گرد گھومتی ہے، جو ایک خوفناک سیریل کلر کی تلاش میں ہے۔ لیکن یہ جنگ صرف باہر نہیں بلکہ اس کے اندر بھی جاری ہے۔ ریٹا اپنے پرانے ذہنی صدمے اور ذاتی پچھتاوے سے جدوجہد کر رہی ہے، ساتھ ہی اسے پولیس ڈپارٹمنٹ میں امتیاز کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ تفتیش کے دوران اس کا سامنا سائیکو کلر سے ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ کیس ایک ایسی ہائی سٹیک جنگ بن جاتا ہے، جہاں ریٹا کو ایک بے رحم مجرم کے ساتھ ساتھ اپنے ہی خوف سے بھی لڑنا پڑتا ہے۔