یوم ماحولیات: تحفظِ ماحول کیلئے جاری شدہ ۵؍ اہم تحریکیں

Updated: June 04, 2021, 7:45 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

کل یعنی ۵؍ جون کو ’’ورلڈ اِنوائرنمنٹ ڈے‘‘کی مناسبت سے ہم ۵؍ ایسی تحریکات کی تفصیل پیش کررہے ہیں جن کا مقصد تحفظ ماحول ہے اور جن کا جاننا طلبہ کیلئے ضروری ہے ۔

Symbolic Image. Photo: INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ہر زمانے میں ماحول کیلئے فکر مند افراد موجود رہے ہیں جو ماحولیات کے تئیں اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اسے نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہیں ۔ ہندوستان ہو یا کوئی دوسرا ملک، ماحولیات کی حفاظت کیلئے تحریکیں جاری رہتی ہیں جن سے لاکھوں افراد وابستہ ہوتے رہتے ہیں ۔ برسوں سے ماحول کو بچانے کیلئے آوازیں بلند ہورہی ہیں ، جانئے دنیا میں جاری ایسی ہی ۵؍ اہم تحریکوں کے بارے میں ۔
چپکوتحریک
 چپکو تحریک کو چپکو آندولن بھی کہا جاتا تھا۔یہ جنگلات کے تحفظ کی ایک تحریک تھی جو ۱۹۷۳ء میں اتراکھنڈ کے چمولی ضلع کے رینی گاؤں سے شروع ہوئی تھی۔ یہ تحریک آگے چل کر مستقبل کی دیگر عالمی تحریکوں کی داعی بنی۔ یہ عدم تشدد پر مبنی تحریک تھی جس میں اتراکھنڈ کے گورا دیوی، سُدیشا دیوی، بچنی دیوی اور چنڈی پرساد بھٹ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم، اس تحریک کی کلیدی کردار خواتین تھیں ۔ اس دور میں جب لوگ درختوں کو کاٹنے کیلئے آتے تھے تو خواتین گھروں سے نکل کر درختوں سے چپک کر کھڑی ہوجاتی تھیں اور لوگ انہیں کاٹنے سے قاصر رہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس تحریک کو چپکو کا نام دیا گیا تھا۔ چپکو طرز کی تحریک کی تاریخ۱۷۳۰ء تک پہنچتی ہے جب راجستھان کے کچھ لوگوں نے درختوں کو بچانے کیلئے اپنی زندگی کی قربانی دی تھی۔
فرائیڈے فار فیوچر
 ماحولیات کی حفاظت کیلئے اسکول کی اس ہڑتال کو ’’یوتھ اسٹرائیک‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ اسکولی طلبہ کی ایک بین الاقوامی تحریک ہے جس میں مظاہرین کو جمعہ کی کلاسیس چھوڑ کر ہڑتال پر بیٹھنا ہوتا ہے۔ اس تحریک میں ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے اور فوسیل ایندھن کی صنعت کو قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کیلئے اقدامات کرنے کیلئے سیاسی لیڈران سے کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یہ تحریک اس وقت مشہور ہوئی تھی جب سویڈن کی ایک ۱۵؍ سالہ طالبہ گریٹا تھنبرگ نے اگست ۲۰۱۸ء میں سویڈن کی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کیا تھا۔ یہ تحریک اب بھی جاری ہے جس میں ۱۲۵؍ ممالک کے طلبہ حصہ لے رہے ہیں ۔
کنکٹ فار کلائمیٹ
 اس تحریک کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر ماحولیات کی حفاظت کے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ قابل تجدید توانائی کو فروغ دیں اور صنعتی کچرے کو کم کریں ۔یہ تحریک ستمبر ۲۰۱۱ء میں شروع ہوئی تھی جس میں افریقی نوجوانوں کو ماحولیاتی تبدیلی کے متعلق تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے اپنی کہانی شیئر کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔ یہاں سے اس تحریک کو شہرت ملی تھی۔ اس پر ۲۰۱۱ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی بحث کی گئی تھی۔ آج بھی یہ تحریک جاری ہے جس سے لاکھوں افراد وابستہ ہیں ۔
نرمدا بچاؤ آندولن
 نرمدا بچاؤ آندولن ایک سماجی تحریک ہے جس کا آغاز۱۹۸۵ء میں ہوا تھا۔ اس میں میں آدی واسی، کسان، مچھیرے، مزدور اور دیگر لوگ جو نرمدا وادی میں ہیں اور دانشور بشمول ماہرین ماحولیات، انسانی حقوق کے کارکن، سائنسداں ، مدرسین، فنکار جو منصفانہ اور پائیدار ترقی کے حامی تھے، شامل ہوئے۔ گجرات کا سردار سروور ڈیم نرمدا پر سب سے بڑا ڈیم ہے۔اس منصوبے کی وجہ سے لاکھوں افراد کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ سردار سروور ڈیم سے بے گھر ہوئے ۴۰؍ ہزار خاندان آج بھی بغیر بازآبادکاری کی زندگی جی رہے ہیں ۔ یہ آندولن۱۹۹۲ء سے جیون شالائیں چلا رہا ہے جن سے۵؍ ہزار طلبہ فارغ التحصیل ہو چکے ہیں ۔ یہ تحریک آج بھی جاری ہے۔
دی گریٹ گلوبل کلین اَپ
 یہ تحریک ۲۰۲۰ء میں ’’ارتھ ڈے‘‘ کے موقع پر شروع کی گئی تھی جس سے چند ہی دنوں میں دنیا بھر کے کروڑوں افراد وابستہ ہوگئے تھے۔ اس کا مقصد دنیا بھر کے دریا، پارکس، باغات، ساحل، شہر اور کینل نیز اپنے اطراف سے کئی بلین ٹن کچرا صاف کرنا ہے۔ یہ تحریک اس مقصد سے شروع کی گئی تھی کہ اگر کسی بھی شخص کو اپنے اطراف میں کچرا نظر آتا ہے تو وہ فوری طور پر اسے صاف کرنے کیلئے تیار ہوجائے۔ اسی طرح پارکس وغیرہ کی صفائی کیلئے لوگ گروپ کی شکل میں اکٹھے ہوئے اور ان مقامات کو صاف کردیا۔ یہ ایک ایسا چیلنج تھا جس میں مارچ کے محض ایک ہفتے میں دنیا بھر میں کچرے کا ایک بلین ٹکڑا جمع کرنا تھا۔ اس میں نہ صرف لوگ کامیاب ہوئے بلکہ اس تحریک نے اپنے لانچ کے محض چند دنوں میں عالمی سطح پر شہرت حاصل کرلی۔ اس سے دنیا کی مشہور شخصیات بھی وابستہ ہیں جن میں بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کے کئی ستارے بھی شامل ہیں ۔اس تحریک سے بچے بھی منسلک ہیں اور بوڑھے بھی۔ دراصل یہ دنیا کے ہر شہری کیلئے ہے۔ ہر شہری اگر کچرا صاف کرنے کیلئے آگے آئے تو دنیا کو بہت ہی کم وقت میں آلودگی اور کچرے سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، اب بھی کروڑوں افراد اس مہم سے وابستہ نہیں ہوئے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK