EPAPER
Updated: August 04, 2025, 4:37 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai
وہ ایک ہمہ جہت سائنسداں تھےجنہوں نے عملی میدان میں سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے کام نے جدید فوٹوگرافی اورآپٹکس کی بنیاد رکھی۔
گیبرئیل لیپ مین (Gabriel Lippmann) فرانسیسی طبیعیات داں، موجد اور سائنسی مفکر تھے جنہوں نے انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز میں طبیعیات، خاص طور پر آپٹکس اور فوٹوگرافی میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
گیبرئیل۱۶؍ اگست۱۸۴۵ءکو گرینڈ ڈچی آف لکسمبرگ کے شہر ہولوچ میں پیدا ہوئے تھے۔ جلد ہی ان کا خاندان فرانس منتقل ہوگیا جہاں انہوں نے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ انہوں نے مشہور سائنسی ادارے ہائر نارمل اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں ساربون یونیورسٹی،پیرس سے منسلک ہوگئے جہاں وہ تعلیم و تحقیق کے شعبوں سے وابستہ رہے۔
گیبرئیل لیپ مین کی سب سے اہم اور معروف ایجاد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے انہوں نے ۱۸۹۱ءمیں پہلی بار قدرتی رنگوں میں فوٹوگراف لینے کا کامیاب تجربہ کیا۔ اس طریقے کو ’’لیپ مین انٹرفیرنس فوٹو گرافی‘‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اس عمل میں روشنی کی مداخلت کا استعمال کرتے ہوئے ایسی تصویریں بنائیں جن میں کسی قسم کا رنگ نہیں ڈالا جاتا تھا بلکہ رنگ روشنی کی لہر کی خاصیت سے ابھرتے تھے۔ اس کیلئے لیپ مین نے ایک خاص شیشے کی پلیٹ تیار کی جس کے پیچھے پارہ (Mercury) کی پتلی تہہ ہوتی تھی جو عکس کو منعکس کرتی تھی اور روشنی کی لہریں ایک دوسرے کے ساتھ مداخلت کرکے مستقل تصویر بنا دیتی تھیں۔ یہ طریقہ سست تھا اور عام فوٹوگرافی کیلئے قابل عمل نہ بن سکا مگر اس نے رنگوں کی تصویری ثبت کے اصولوں میں ایک زبردست نظریاتی پیش رفت کی۔اس انقلابی ایجاد پر۱۹۰۸ء میں گیبرئیل لیپ مین کو نوبیل انعام برائے طبیعیات سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز اس بات کا اعتراف تھا کہ انہوں نے طبیعیات کے شعبے میں نہایت اہم، جدید اور بنیادی نوعیت کا کام کیا تھا جس سے سائنسی دنیا کو روشنی، رنگ اور تصویر کے درمیان تعلقات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔
لیپ مین صرف فوٹوگرافی تک محدود نہ رہے۔ انہوں نے الیکٹروکیمسٹری میں بھی کام کیا اور الیکٹروکیپلیریٹی کے موضوع پر تحقیقی مقالے لکھے جس میں برقی رو کی موجودگی میں مائع سطح کے تناؤ میں تبدیلیوں کا مطالعہ شامل تھا۔ انہوں نے ’’لیپ مین الیکٹرومیٹر‘‘ بھی ایجاد کیا تھاجو برقی وولٹیج کی انتہائی معمولی تبدیلیوں کو ناپنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
لیپ مین۸؍ فروری۱۸۸۶ء سے لے کر اپنی وفات تک اکیڈمی آف سائنسز کے رکن رہےاور ۱۹۱۲ء میں اس کے صدر منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ رائل سوسائٹی آف لندن کے رکن، بیورو دی لونگتیوڈکے رکن اور گرینڈ ڈوکل انسٹی ٹیوٹ آف لکسمبرگ کے رکن بھی تھے۔ لیپ مین انسٹی ٹیوٹ آف تھیورٹیکل اینڈ اپلائیڈ آپٹکس کے بانی ارکان میں شامل تھے نیز انہوں نے ۱۹۰۳ء سے ۱۹۰۴ء تک فرانسیسی فلکیاتی سوسائٹی کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
گیبرئیل لیپ مین کی زندگی کا مقصد قدرتی مظاہر کو نہایت باریکی سے سمجھنا اور سادہ اشیاء کے پیچھے چھپے اصولوں کو دریافت کرنا تھا۔ ان کی سائنسی جستجو نے آپٹکس، تصویری تجزیہ، رنگوں کی فزکس اور الیکٹروکیمسٹری جیسے شعبوں میں نئی راہیں کھولیں۔ آج بھی اُن کی ایجاد کردہ ’’لیپ مین فوٹوگرافی‘‘ کو ایک نظریاتی سنگ میل سمجھا جاتا ہے جس نے جدید ڈجیٹل اور ہولوگرافک امیجنگ کی بنیاد رکھنے میں مدد دی۔گیبرئیللیپ مین سائنسی تحقیق کے آخری لمحے تک سرگرم رہے۔ان کا انتقال ۱۲؍ جولائی ۱۹۲۱ء کو ہوا تھا۔