جو کچھ پڑھا ، اسے یاد رکھنے کیلئے اپنائیں یہ پانچ طریقے

Updated: March 26, 2021, 6:30 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

سالانہ امتحانات میں کچھ دن ہی رہ گئے ہیں ۔ آئندہ ماہ سے یہ شروع ہوجائینگے جبکہ دسویں اور بارہویں کے طلبہ کے امتحان کے متعلق تاریخوں کا اعلان نہیں ہوا ہے لیکن وہ اپریل کے وسط یا آخر میں منعقد ہوں گے۔ اس لئے پڑھائی شروع کرنے کا یہی صحیح وقت ہے۔ بیشتر طلبہ نے پڑھائی شروع کردی ہوگی، اور اب وہ اعادہ میں مصروف ہوں گے۔

Representation Purpose Only- Picture iStock
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی اسٹاک

سالانہ امتحانات میں کچھ دن ہی رہ گئے ہیں ۔ آئندہ ماہ سے یہ شروع ہوجائینگے جبکہ دسویں اور بارہویں کے طلبہ کے امتحان کے متعلق تاریخوں کا اعلان نہیں ہوا ہے لیکن وہ اپریل کے وسط یا آخر میں منعقد ہوں گے۔ اس لئے پڑھائی شروع کرنے کا یہی صحیح وقت ہے۔ بیشتر طلبہ نے پڑھائی شروع کردی ہوگی، اور اب وہ اعادہ میں مصروف ہوں گے۔ تاہم،اکثر طلبہ کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ وہ محنت سے پڑھائی تو کرتے ہیں ، اور باتیں یاد رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں مگر وہ زیادہ دیر تک اپنے ذہن میں معلومات محفوظ نہیں رکھ پاتے، اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پرچہ ہاتھ میں آتے ہی وہ بہت سے سوالات کے جوابات بھول جاتے ہیں ۔ اگر آپ کچھ سیکھنے جارہے ہیں تو اس سے پہلے آپ کو ۲؍ باتوں کا خیال رکھنا ہوگا:جس مضمون کا مطالعہ کررہے ہیں ، اس کی معلومات ہونی چاہئیں جیسے ریاضی ، تاریخ یا سائنس وغیرہ۔ مطالعہ سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ مضمون کو کیسے یاد رکھا جائے۔ان ۵؍ حکمت عملیوں پر عمل کرکے آپ پڑھی ہوئی چیزیں یاد رکھ سکتے ہیں ۔
جو پڑھا ہے، اسے یاد کرنے کیلئےاپنے آپ کو مجبور کریں 
 کوئی بھی مضمون بہتر طریقے سے یاد کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کا مطالعہ کرتے وقت ذہنی یکسوئی رہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ طریقہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آپ جو کچھ سیکھ رہے ہیں یا پڑھ رہے ہیں ، وہ آپ کو ذہن نشین ہوتا جائے۔ کہتے ہیں کہ اپنی طاقت سے زیادہ وزن اٹھانے سے انسان مزید مضبوط ہوتا ہے۔ اس لئے ذہنی یکسوئی کیلئے آپ کو توجہ کی ضرورت ہوگی لیکن اگر آپ نے اس میں مہارت حاصل کرلی تو آپ پڑھا ہوا کبھی بھول نہیں سکیں گے۔ اس کا ایک آسان طریقہ ہے کہ آپ جب کچھ یاد کرنے کیلئے ذہن پر زور ڈالتے ہیں تو اسے اسی طریقے سے یاد کیجئے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جب آپ کوئی بات یاد کرنے کیلئے ذہن پر زور ڈالتے ہیں تو آپ اپنے بھول جانے کے عمل میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ۔ اس طرح آپ کی یادداشت مستحکم ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ طریقہ صرف ۱۱؍ فیصد طلبہ ہی اپناتے ہیں ۔
اپنے آپ کو سہولت نہ دیں 
 ایک مضمون کے بیک وقت کئی اسباق کا مطالعہ کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ چیز آپ کے دماغ کو مضبوط کرتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ریاضی کا مطالعہ کررہے ہیں توایک سبق کے سوالات حل کرنے کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے سبق پر نہ جائیں بلکہ تمام اسباق کے سوالات کو ایک ساتھ ملا کر حل کریں ۔ یاد رکھیں امتحان میں جو پرچہ آپ کے ہاتھ میں آتا ہے وہ تمام اسباق کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب آپ یہ طریقہ اپناتے ہیں تو آپ کا ذہن تیزی سے کام کرتا ہے، اور ہر سوال کے بعد آپ کے سوچنے کے انداز میں تبدیلی آتی ہے۔ ایک تحقیق میں یہ واضح ہوا ہے کہ یہ حکمت عملی اپنانے والا طالب علم دیگر طلبہ کے مقابلے میں بہتر طریقے سے پرچہ حل کرتا ہے۔اس لئے ہر مضمون کو اسی طرح یاد کرنے کی کوشش کریں ۔ اگر آپ ایک ایک کرکے اسباق یاد کریں گے تو اس بات کے امکانات زیادہ ہوں گے کہ وہ آپ چند دنوں میں بھول جائیں لیکن اس عمل میں ایسا نہیں ہوگا۔ 
ذہن پر زور ڈالیں 
 طلبہ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ آسانی سے یاد ہوجانے والی چیز ہمیشہ آسان نہیں ہوتی بلکہ یہ زیادہ آسانی سے بھول جاتی ہے۔ اور کئی مرتبہ یہ ہمیں یاد نہیں آتی۔ مثال کے طور پر آپ نے پڑھا کہ: ملک کے پہلے وزیر اعظم کون تھے؟ آ پ کا جواب ہے: پنڈت جواہر لعل نہرو۔ آپ نے سوچا یہ آسان ہے، اور پھر دوسرے کاموں میں لگ گئے۔ کچھ دیر بعد اگر آپ یاد کریں گے کہ ملک کا پہلا وزیر اعظم کون تھا؟ تو اس بات کا ۷۰؍ فیصد امکان ہے کہ آپ صحیح جواب بھول جائیں ۔ اس لئے آسان نظر آنے والے سوالات کو یاد کرنے کے بعد، تھوڑی دیر پرسکون بیٹھیں ۔ اور پھر اپنے آپ سے وہی سوال پوچھیں ، اور اس کا جواب دیں ۔ یقین مانئے آپ کو وہ جواب ہمیشہ کیلئے یاد ہوجائے گا۔ایک تحقیق کے ذریعے یہ ثابت ہوا کہ جب لوگ کوئی چیز سرسری انداز میں پڑھتے ہوئے یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اسے اتنی ہی تیزی سے بھول جاتے ہیں ۔ پڑھنے کے بعد اپنے آپ سے سوال پوچھنا، بہتر طریقہ ہے۔ 
نئی چیزوں کو پرانی چیزوں سے جوڑیں 
 نئی جماعت میں جانے اور نئی چیزیں پڑھنے کے بعد انہیں پرانی جماعت کے نصاب سے جوڑنے کی کوشش کریں ۔ یہ چیزوں کو یاد رکھنے کا بہترین عمل ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس میں آپ کو پرانی باتوں کے ساتھ نئی باتیں بھی یاد ہوتی جائینگی یعنی آپ نے پچھلی جماعت میں جو پڑھا تھا، وہ بھی یاد رہے گا، اور نئی جماعت میں جو پڑھ رہے ہیں وہ بھی یاد ہوگا۔جب آپ پرانی چیزوں کو نئی چیزوں سے جوڑ رہے ہوتے ہیں تو آپ ایک لنک بنا رہے ہوتے ہیں جو آپ کو بعد میں اسی لنک کی وجہ سے یاد آئینگی۔ مثلاً آپ نے سائنس میں پڑھا کہ حرارت منتقل ہوتی ہے۔ یہ چیز آپ نےیاد کرلی۔ کچھ دیر بعد آپ نے ایک گرم کپ چائے پینے کا ارادہ کیا۔ جب آپ نے کپ اپنے ہاتھوں میں لیا تو آپ کی ہتھیلیاں گرم ہوگئیں ، جو گرم کپ سے منتقل ہونے والی حرارت کی وجہ سے ہوا۔ اس طرح آپ نے سائنس کے ایک کانسپٹ کو روزمرہ کے ایک کام سے جوڑ دیا۔اسکے بعد آپ جب بھی چائے پئیں گے آپ کو یہ یاد آئے گا۔
غور کریں ، خاموش اعادہ
 ہارورڈ بزنس اسکول کی ایک تحقیق کے مطابق جب آپ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد خاموش بیٹھ کر اس بات پر غور کرتے ہیں کہ آپ نے کیا پڑھا ہے تو دراصل آپ خاموش اعادہ کررہے ہوتے ہیں ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پڑھائی کے فوراً بعد کتابیں اٹھا کر رکھ دینے کے بجائے کچھ دیر بیٹھ کر پڑھی ہوئی چیزوں پر غور کریں ۔ کوئی چیز اگر یاد نہیں آرہی ہے تو پہلی حکمت عملی اپنائیں (یعنی ذہن پر زور ڈال کر یاد کرنے کی)، اس سے یقیناً آپ کو پڑھی ہوئی چیز یاد آجائےگی۔ خیال رہے کہ پڑھائی کے فوراً بعد خاموش اعادہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جو طلبہ پڑھائی کے فوراً بعد خاموش اعادہ کی ترکیب اپناتے ہیں وہ امتحان کے دوران ان طلبہ سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو اس حکمت عملی کو نہیں اپناتے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ غور کرنے کی عادت ذہن کو سکون بخشتی ہے اور دماغ کو مستحکم کرتی ہے۔ دن بھر آپ نے کون کون سے کام کئے ہیں ، رات میں ان پر بھی غور کریں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK