EPAPER
Updated: March 03, 2023, 2:35 PM IST | Shahebaz khan | Mumbai
تعلیمی زندگی میں طلبہ کو متعدد قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ان سے چھٹکاراممکن ہے، ہر قسم کے دباؤ سے محفوظ رہنا بہت ضروری ہے، اس کے خوش آئند اثرات آپ کی آئندہ زندگی پر بھی نظر آئینگے
طالب علمی کا دور بہت خوبصورت ہوتا ہے لیکن بعض طلبہ اس کی خوبصورتی کو محسوس نہیں کر پاتے بلکہ متعدد دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں، خاص طور پر امتحان کے دنوں میں۔ یہ دباؤ ذہنی ہوتا ہے، نفسیاتی ہوتا ہے، سماجی ہوتا ہے، جذباتی ہوتا ہے اور ماحولیاتی بھی ہوتا ہے۔ اگر طلبہ کم عمری ہی میں دباؤ کی ان اقسام میں الجھ جائیں گے تو انہیں آئندہ زندگی میں بھی مختلف قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خیال رہے کہ زندگی کے ہر شعبہ حیات میں کام کرنے پر آپ کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ اس سے بچ نہیں سکتے ہیںلیکن دباؤ کو ہینڈل ضرور کرسکتے ہیں۔ ابتدائی عمر ہی سے اس جانب توجہ دیجئے لہٰذا بعد کی زندگی میں آپ میں خوشگوار تبدیلی آئے گی اور آپ بڑی سے بڑی پریشانی کا آسانی سے سامنا کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔
امتحانات کے دور میں، پروجیکٹ یا اسائنمنٹ بناتے اور انہیں جمع کرواتے وقت، پڑھائی کا دباؤ، نتائج کا ٹینشن، ہوم ورک وقت پر مکمل کرنا، کلاس میں استاد کے سوال کا جواب دینا یا نہ دینا، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا، گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر جانا، ٹیوشن جانا، گھر پر پڑھائی کرنا، نوٹس بنانا حتیٰ کہ طالب علمی کے دور سے جڑی ہر سرگرمی طالب علم کے ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے۔امتحانات کے دنوں میں بعض طلبہ ان چیزوں کو اپنے ذہن پر اس قدر سوار کرلیتے ہیں کہ ذہنی، نفسیاتی، سماجی اور جذباتی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں وہ اچھی طرح پڑھائی نہیں کرپاتے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا رزلٹ توقعات سے کم آتا ہے۔ نتائج کا اعلان ہوجانے کے بعد وہ مزید دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک طالب علم کی زندگی میں تعلیم سے جڑے مختلف مسائل ہوتے ہیں مگر جو طالب علم انہیں ہینڈل کرلیتا ہے یا انہیں ہینڈل کرنے کا ہنر جانتا ہے، وہ دیگر طلبہ میں ممتاز ہوتا ہے۔ان کالموں میں ہم بتائینگے کہ امتحانات کے دنوں میں آپ ذہنی، نفسیاتی اور سماجی دباؤ سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ذہنی دباؤ/تناؤ کیا ہے؟
تناؤ یہ ہے کہ ہم دباؤ یا کسی پریشانی میں کیسا محسوس کرتے ہیں اور اس کا سامنا کرنے کیلئے کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب ہم ایسی صورتحال میں ہوتے ہیں جس کے متعلق ہمیں سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے کیسے کنٹرول کریں۔ ذہنی دباؤ اس وقت ہوتا ہے کہ جب آپ بہت سی ذمہ داریاں سنبھالنے کی جدوجہد کرتے ہیں، اور ان میں سے بیشتر میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ بعض ذہنی دباؤ ایک مخصوص مدت میں ختم ہوجاتے ہیں، مثلاً آپ کو ایک پروجیکٹ ۳؍ مارچ کو صبح ۱۰؍ بجے جمع کروانا ہے، جب تک وہ پروجیکٹ استاد کی میز پر نہ پہنچ جائے تب تک آپ ذہنی دباؤ کا شکار رہیں گے۔
نفسیاتی دباؤ کیا ہے؟
نفسیاتی دباؤ ، نفسیات میں بوجھ اور دباؤ کا احساس ہے۔ یہ تناؤ قلیل مدتی بھی ہوتا ہے جسے ماہرین صحت مند قرار دیتے ہیں۔ یہ اگر مثبت ہو تو انسان کی کار کردگی مزید بہتر ہوتی ہے۔ اس سے حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ لیکن اگر یہ منفی ہے تو ذہنی اور جسمانی طور پر آپ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ مختلف بیماریوں کا سبب بن جاتا ہے۔ انسان جب تناؤ کے بارے میں سوچتا ہے تو ممکنہ طور پر ایسے حالات کے بارے میں سوچتا ہے جو اسے بے چین یا پریشان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر عوام کے سامنے تقریر کرنا، مسلسل مصروف رہنا، یا اپنی صحت کو نظر انداز کرکے دوسروں کی صحت کا خیال رکھنا، یہ تمام نفسیاتی دباؤ کی مثالیں ہیں۔
سماجی دباؤ کیا ہے؟
اگر کسی شخص پر معاشرے کے دیگر افراد اور سماجی ماحول کے سبب دباؤ پڑتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ سماجی دباؤ کا شکار ہے۔ انسانی معاشرے میں فکری انتشار اور سماجی دباؤ، رواداری اور بھائی چارے کے فقدان کے باعث پیدا ہوتا ہے۔سماجی تناؤ کے اثرات کسی بھی فرد کے جسمانی، دماغی اور مجموعی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔ سماجی دباؤ دو افراد یا کسی گروہ میں عدم اتفاق کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے سماج کے مختلف طبقات میں لڑائی جھگڑے ہو سکتے ہیں۔ ملک اور دنیا میں بد امنی پیدا ہو سکتی ہے۔ سماجی تناؤ کا تدارک آپسی سوجھ بوجھ میں اضافہ، مفاہمت اور ناخوشگوار واقعات سے آگے بڑھ کر مثبت راہ پر گامزن ہونے کی کوشش کرنا ہے۔
دباؤ/ تناؤ کی علامات
(۱) اگر آپ چڑچڑے ہوگئے ہیں تو یقینی طور پر کسی نہ کسی قسم کے دباؤ کا شکار ہیں۔
(۲) جس سرگرمی میں مصروف ہیں یا جس میں حصہ لے رہے ہیں، اس سے لطف اندوز نہ ہونا۔
(۳) ہر وقت بے چین اور پریشان نظر آنا۔
(۴) نیند کا شیڈول درست نہیں ہے، یا نیند نہ آنا۔
(۵) ذہنی یکسوئی نہیں ہے
(۶) کسی بھی چیز پر بلا وجہ غصے کا اظہار کرنا۔
(۷) بعض معاملات میں سانس لینے میں معمولی دشواری یا تیزی سے سانس لینا۔
(۸) کسی بھی معاملے میں زیادہ فکرمند ہوجانا۔
(۹) غیر اضطراری طور پر اپنا ناخن چبانا، جلد کھرچنا، کھجلانا، پاؤں ہلانا یا یا دانت پیسنا۔
(۱۰) کم کھانا کھانا اور کم پانی پینا۔
(۱۱) حد سے زیادہ پسینہ آنا۔
(۱۲) سردرد یا بدن درد کی شکایت ہونا۔
دباؤ سے کیسے محفوظ رہیں؟
دور حاضر میں انسان کو بہت سی سہولیات حاصل ہیں لیکن اسے متعدد مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے۔ بعض دفعہ اسے شدید تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طلبہ امتحان کے دنوں میں دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ذیل میں دیئے گئے مشوروں پر عمل کرکے ہر قسم کے تناؤ سے کافی حد تک محفوظ رہا جاسکتا ہے:
وقت بہت قیمتی ہے، اسے دانش مندی سے استعمال کریں۔ کھانا مخصوص وقت پر کھائیں اور روزانہ ایک ہی وقت پر سونے کی کوشش کریں۔ کم از کم سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند لیں۔
اپنی جسمانی اور جذباتی صحت کا خیال رکھیں۔ اتنا ہی کھائیں جتنا ضروری ہو۔ اگر تناؤ کا شکار ہیں تو میٹھا کھانے سے پرہیز کریں۔ صحتمند وزن برقرار رکھیں۔
امتحان کے دنوں میں صبح جلدی اٹھیں۔ اٹھتے ہی نہار منہ جتنا پانی پی سکتے ہیں پی لیں اور صبح کی سیر کیلئے نکل جائیں، اس دوران پڑھا ہوا ذہن میں دہرائیں بھی۔
اپنی زندگی میں ترتیب لانے کی کوشش کریں۔ ایک اچھا ذاتی ٹائم ٹیبل بنائیں اور اس پر سختی سے عمل کریں۔ روزانہ ورزش کی عادت اپنائیں۔
آپ جو کام خود سے نہیں کرسکتے، اس میں دوسروں کی مدد لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح بڑے کاموں کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے انہیں مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ رات سونے سے پہلے اگلے دن کرنے والے کاموں کی ایک فہرست بنا لیں۔ جو کام آج کر سکتے ہیں، اسے آج ہی کریں۔
اپنی زندگی کے اہداف طے کریں، اور انہیں مہینوں اور برسوں میں تقسیم کریں اور روزانہ کی بنیاد پر انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
اپنی یادداشت پر بھروسہ کریں لیکن چیزوں کو لکھ لینے میں عافیت ہے۔ اکثر ہم اہم باتیں بھول جاتے ہیں۔
منفی خیالات رکھنے والوں سے دور رہیں کیونکہ ان کی صحبت آپ کو ذہنی پریشانی کا شکار کر دے گی۔ اگر آپ میں کوئی بری عادت لی ہے تو اسے ترک کردیں۔
آپ کا کم از کم ایک ایسا دوست ہونا چاہئے جس سے آپ اپنے دل کی بات کر سکیں۔ اسی طرح دوسروں کی باتیں بھی سنیں۔ اگر کوئی دوست ٹھیک سے کوئی کام نہیں کرتا تو اس پر تنقید سے بچیں۔
اپنے کمرے سے غیر ضروری اشیا ء نکال دیں۔
میدان میں فٹ بال یا کرکٹ کھیلیں۔ اور کھیل کو خوب انجوائے کریں۔ لوگوں سے بات چیت کریں۔
یہ نکات بھی ذہن میں رکھیں
آہستہ آہستہ سانس لینے کی مشق کریں۔ اپنی ذاتی خوبصورتی پر توجہ دیں۔ خود پر یقین رکھیں۔
’’نہ‘‘ کہنے کی عادت ڈالیں۔ آپ ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے۔ اپنی خوشیوں کو نظر انداز نہ کریں۔
اپنے اہم کاغذات (شناختی کارڈ، پاسپورٹ، تعلیمی اسناد وغیرہ) کی فوٹو کاپی بنا کر اپنے ای میل پر ایک فولڈر میں محفوظ کرلیں تا کہ جب چاہیں، انہیں استعمال کر سکیں۔ اکثر طلبہ ان کے وقت پر نہ ملنے سے پریشان ہوجاتے ہیں۔
لوگوں پر خواہ مخواہ تنقید نہ کریں۔ ان کا اور اپنا حوصلہ بڑھاتے رہیں۔ اس حقیقت کو قبول کرلیں کہ ہم کام میں بہترین ہوسکتے ہیں۔
اپنے قریبی لوگوں، پسندیدہ مقامات اور چیزوں کا ایک نیٹ ورک بنائیں جسے قائم رکھنے کی کوشش کریں۔
ہمیشہ مسکرائیں، بچوں کے ساتھ کھیلیں، پالتو جانور رکھیں، آسمان اورستاروں کو دیکھیں، شاعری پڑھیں، اچھی کتابیں پڑھیں، خوشبو سونگھیں، پکنک پر جائیں، درخت لگائیں اور پرندوں کو دانہ ڈالیں۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ زندگی ایک خوبصورت تحفہ ہے۔ اپنی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیوں کو مزید خوبصورت بنانے کی کوشش کریں۔ خود بھی خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رہنا سکھائیں۔