اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا کامیابی کی کلید ہےمگر انہیں پہچانیں کیسے؟

Updated: September 10, 2022, 11:44 AM IST | Shahbaz Khan | Mumbai

طلبہ کو چاہئے کہ زمانۂ طالب علمی ہی میں اپنی صلاحیتوں کے متعلق جاننے کی کوشش کریں، اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ سے مشورہ کریں اور جن صلاحیتوں کی نشاندہی ہو اُنہیںبروئے کار لاتے رہیں

Students can also try to identify their talents with the help of their hobbies.Picture:INN
طلبہ اپنے مشاغل کی مدد سے بھی اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ تصویر:آئی این این

ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی یا صلاحیت ضرور ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہےکہ کچھ لوگ اپنی خوبیوں کو کم عمری ہی میں پہچان لیتے ہیں جبکہ بیشتر ایسے ہوتے ہیں جو ابتدائی عمر میں اس جانب توجہ نہیں دیتے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کا احساس ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص کو کم عمری ہی میں یہ معلوم ہوجائے کہ اس کے اندر کون سی خوبیاں یا صلاحیتیں ہیں تو وہ انہیں چند عرصے میں مستحکم کرکے، مزید صلاحیتوں کو اپنانے کی کوشش کرے گا یا پھر انہیں کو مزید نکھارے گا۔ بعض طلبہ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو بہت جلدی پہچان لیتے ہیں جبکہ دوسرے اس صلاحیت کو پہچاننے کیلئے جدوجہد کرتے رہتے ہیں جس میں وہ غیر معمولی طور پر اچھے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی صلاحیتوں کو ابتداء ہی میں دریافت کرلیتا ہے تو دیگر کے مقابلے میں اس کے کامیابی حاصل کرنے کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔ صلاحیتیں مستحکم ہوجائیں تو ایک باصلاحیت شخص معاشرے کیلئے اچھا کام کرنے کی جانب توجہ دیتا ہے اور دیگر کیلئےتحریک کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ طلبہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کیلئے اپنے طور پر کوشش کرسکتے ہیں جو اُن کی ہمہ جہت ترقی میں یقیناً معاون ثابت ہوں گے۔ لہٰذا جو طالب علم اپنی صلاحیتوں سے نا واقف ہیں یا انہیں جاننے کی کوشش کررہے ہیں، ان کی رہنمائی کیلئے چند نکات پیش ہیں۔

اپنے مشغلے کا مشاہدہ کریں
 ہر شخص کو کم از کم کوئی ایک کام کرنا پسند ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی صلاحیت کو جاننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے مشغلے کا مشاہدہ کیجئے کہ خالی اوقات میں آپ کو سب سے زیادہ کیا کرنا پسند ہے۔ لوگ عام طور پر ان مشاغل کو بطور کریئر اپناتے ہیں جن میں وہ باصلاحیت ہوتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ طلبہ اپنی صلاحیتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کریئر کے ان آپشن کی جانب توجہ دینے لگتے ہیں جو انہیں ان کے بڑے بتاتے ہیں لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ ان کی دلچسپی اس میں سے ختم ہوجاتی ہے۔ اس لئے جب طلبہ اپنے مشغلے کو سمجھ لیں تو اسے صحیح سمت دینے کی کوشش کریں۔
اپنے شوق اور دلچسپیوں پر توجہ
 متعدد طلبہ اپنے شوق اور دلچسپیوں کی بنیاد پر اپنی صلاحیتوں کا اندازہ لگا لیتے ہیں لیکن جو طلبہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کس طرح اپنے شوق اور دلچسپی کی بنیاد پر اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، وہ اپنے بڑوں سے اس تعلق سے بات چیت کریں۔ اگر طلبہ اپنی پسندیدہ سرگرمی میں مگن ہوتے ہیں تو انہیں وقت کے گزرنے کا احساس نہیں ہوتا۔ اگر آپ کسی ایسی سرگرمی کا حصہ ہیں تو کوشش کیجئے کہ اس کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیں۔
مقابلوں میں حصہ لیں
 آپ ایک اچھے مقرر ہیں، یہ بات آپ کو کیسے معلوم ہوگی؟ یہ آپ اسی وقت اچھی طرح جان سکیں گے جب آپ کسی تقریری مقابلے میں حصہ لیں گے۔ اسکول اور کالج وغیرہ کے علاوہ ریاستی اور ملکی سطح پر بھی ہونے والے مختلف مقابلوں میں حصہ لیجئے۔ چاہے وہ کوئز مقابلے ہوں، اسپورٹس کے مقابلے ہوں یا کوئی اور مقابلہ۔ ان میں حصہ لینے کے بعد ہی آپ سمجھ سکیں گے آپ کون سا کام بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم، ان مقابلوں میں حصہ لیتے وقت آپ کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ آپ اپنی مخفی صلاحیتوں کو پہچانیں گے۔ اسی طرح طلبہ کو نمائش میں بھی حصہ لینا چاہئے، جیسے سائنسی نمائش، آرٹس اور دستکاری کی نمائش وغیرہ۔ ان کے ذریعے طلبہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔
اظہار خیال کی آزادی
 کم عمری میں بچے بے ساختہ ہوتے ہیں، یعنی کسی بھی بات یا عمل پر فوری رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ طلبہ کو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک گروپ تشکیل دینا چاہئے اور پھر کسی بھی موضوع پر بات چیت کرنا چاہئے۔ جب ایک طالب علم کو آزادی سے اظہار خیال کا موقع ملتا ہے تو وہ اپنے دل و دماغ کی باتیں کھل کر بتاتا ہے۔ طلبہ اگر اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو دریافت کرنا چاہتے ہیں تو وہ اظہار خیال کا موقع کبھی نہ جانے دیں۔ اس سے ان کا ذہن بھی روشن ہوگا۔ 
اپنے مضبوط پہلوؤں پر غور کریں
 دن میں کم از کم ایک گھنٹہ صرف یہ سوچنے پر غور کریں کہ آپ کے مضبوط پہلو کون سے ہیں۔ کیا آپ پڑھائی میں اچھے ہیں، اسپورٹس پسند ہے، ٹیکنالوجی استعمال کرنے میں ماہر ہیں، وغیرہ۔ جب آپ اپنے مضبوط پہلوؤں پر غور کرلیں گے تو اس کی بنیاد پر طے کرسکتے ہیں کہ آپ میں کون سی صلاحیتیں ہیں۔
سب سے زیادہ پیسے کس چیز پر خرچ کرتے ہیں
 یہ جاننے کی بھی کوشش کریں کہ آپ سب سے زیادہ پیسے کس چیز پر خرچ کرتے ہیں: کتابوں ، ویڈیو گیم، کھانے پینے کی اشیاء، تکنیکی آلات یا کسی اور چیز پر۔ ایک تحقیق کہتی ہے کہ آپ جن چیزوں پر زیادہ خرچ کرتے ہیں ، وہ آپ کی مخفی صلاحیتوں کو نکھارنے یا ان کی شناخت کرنے میں کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کتابیں زیادہ پڑھتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو کہانیاں وغیرہ لکھنے میں دلچسپی ہومگر آپ اسے سمجھ نہ پارہےہوں۔ ایک تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا ہے کہ بیشتر ناول نگاروں اور قلمکاروں کو بچپن ہی سے کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اس لئے انہوں نے بعد میں اپنی تحریری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کتابیں لکھیں، اور کامیابی حاصل کی۔
دوستوں کی مدد لیں
 اپنی خوبیوں، صلاحیتوں اور خامیوں کے متعلق دوستوں کی رائے لیں۔ آپ کے دوست آپ کو بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً ان سے پوچھیں کہ میری خوبیاں کیا ہیں، میں کون سا کام بہتر طریقے سے انجام دیتا ہوں۔ دوست آپ کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں اس لئے وہ بلاشبہ جانتے ہیں کہ آپ کے شوق اور دلچسپیاں کیا ہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ آپ کو بتا سکتے ہیں کہ آپ کس چیز میں اچھے ہیں۔وہ کام یا چیزیں جن میں آپ ماہر ہیں، وہ آپ کی صلاحیتیں ہیں۔ انہیں نکھارنے کی پوری کوشش کیجئے لیکن اگر دوست خامیاں بتائیں تو ان سے ناراض ہونے کے بجائے ان خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ تبھی آپ ایک باصلاحیت اور باکمال شخص بن سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK