EPAPER
Updated: December 11, 2020, 5:45 PM IST | Mumbai
ہم میں سے بیشتر افراد تقریباً روزانہ ہی کی بورڈ کا استعمال کرتے ہیں ، اب چاہے وہ دفتر کے کمپیوٹر کا کی بورڈ ہو یا اسمارٹ فون کا۔ اب بیشتر بچے بھی اسمارٹ فون پر کئی گھنٹے گزارتے ہیں ، اس لئے ان کا کی بورڈ استعمال کرنا لازمی ہوتا ہے۔
ہم میں سے بیشتر افراد تقریباً روزانہ ہی کی بورڈ کا استعمال کرتے ہیں ، اب چاہے وہ دفتر کے کمپیوٹر کا کی بورڈ ہو یا اسمارٹ فون کا۔ اب بیشتر بچے بھی اسمارٹ فون پر کئی گھنٹے گزارتے ہیں ، اس لئے ان کا کی بورڈ استعمال کرنا لازمی ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کی وباء کے دوران چونکہ آن لائن تعلیم جاری ہے اس لئے طلبہ کا بھی سابقہ کی بورڈ سے روز ہ پڑ رہا ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے کبھی کی بورڈ پر غور کیا ہے؟ کی بورڈ پر غور کرنے کے بعد آپ کے ذہن میں یہ سوال آیا کہ آخر اس پر درج انگریزی کے حروف تہجی ایک ترتیب سے کیوں نہیں ہیں ؟ یعنی ایک لائن میں اے بی سی ڈی، ای ، وغیرہ جبکہ دوسری لائن میں اس کے آگے کے حروف تہجی اور تیسری لائن میں اس کے بھی آگے کے حروف تہجی۔
ہوسکتا ہے آپ کو علم ہو یا نہ ہو مگر موجودہ کی بورڈ کو کوویرٹی کہا جاتا ہے جو کی بورڈ کی اوپری لائن کی بائیں جانب کے چھ حروف تہجی سے بنا ہے۔ اس کی بورڈ کو۱۸۷۰ء کی دہائی میں اصل ٹائپ رائٹرز کے بانیوں میں سے ایک کرسٹوفر لیتھم شولز نے ایجاد کیا تھا۔ لیکن انہوں نے انگریزی کے تمام حروف تہجی کو بے ترتیب کیوں رکھا؟ یا کی بورڈ کا ایسا بے ترتیب لے آؤٹ کیوں بنایا؟
دنیا کے پہلے کی بورڈ کا پیٹنٹ ۱۸۶۸ء میں درج کروایا گیا تھا جس کا کی بورڈ پیانو کی کیز کی طرح انگریزی حروف تہجی کے مطابق تھا۔ مگر اس کی بورڈ کی کیز اکثر منجمد یا جام ہوجاتی تھیں جس کی وجہ یہ تھی کہ بہت زیادہ استعمال ہونے والے حروف ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب تھے۔ تمام حروف تہجی ترتیب میں ہونے کے سبب ٹائپسٹ انتہائی تیزی سے ٹائپنگ کرتے تھے جس کی وجہ سے زیادہ استعمال ہونے والے حروف تہجی اور ان کے بازو کی کیز جلد خراب ہوجاتی تھیں ۔ لہٰذا یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس مشکل کو دیکھتے ہوئے کرسٹوفرشولز نے ’’کوویرٹی‘‘کی بورڈ تیار کیا جس میں زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ کو مختلف جگہوں پر منتقل کردیا گیا تاکہ میکینکل مسائل سے بچا جاسکے۔ شولز نے اس زمانے میں ایک کمپنی ریمنگٹن کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس نے اس کی بورڈ کو اپنے مقبول ٹائپ رائٹر ریمنگٹن نمبر ٹو کا حصہ بنایا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حروف تہجی کو بے ترتیب کرنے کی ایک وجہ ٹائپنگ کی رفتار کم بھی کرنا تھی۔
تاہم، ۲؍ محققین موجودہ کی بورڈ کے حوالے سے ایک مختلف خیال پیش کرتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ شروع میں ٹائپ رائٹرز کو ٹیلی گراف آپریٹرز استعمال کرتے تھے جو مورس کوڈ میں موصول پیغام کو تحریر کرتے ہوئے درست حروف تہجی پر مبنی کی بورڈ پر ٹائپ کرتے ہوئے الجھن کا شکار ہوجاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ کی بورڈ کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا۔ تاہم، اب یہ ترتیب ہر جگہ رائج ہے۔