Inquilab Logo Happiest Places to Work

سونیترا پوار نے سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل کو عہدوں سے ہٹایا؟

Updated: April 02, 2026, 11:35 PM IST | Mumbai

الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے خط میںدونوں لیڈران کے نام کے آگے ان کے عہدے نہیں لکھے ، پارٹی میں دو گروہ، روہت پوار کا دعویٰ سچ ثابت ہونے لگا

Sunitra Pawar has started gaining control over the party (File photo)
سونیترا پوار نے پارٹی پر گرفت حاصل کرنی شروع کر دی ہے ( فائل فوٹو)

این سی پی (اجیت) میں ان دنوں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ روہت پوار یہ دعویٰ درست ثابت ہونے جا رہا ہے کہ سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل مل کر پارٹی پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور سونیترا پوار کو اس کا علم ہونے کے بعد انہوں نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ان دونوں سینئر لیڈروں کے پر کترنے کی کوشش کی تھی۔اب ایک اور خط کے تعلق سے انکشاف ہوا ہے جو سونیترا پوار نے الیکشن کمیشن کو لکھا ہے جس میں انہوں نے سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل کا نام تو لکھا ہے لیکن ان کے ناموں کے آگے ان کے عہدے نہیں لکھے ہیں۔ 
 یاد رہے کہ پارٹی کی صدارت سنبھالنے کےبعد الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر بتانا پڑتا ہے کہ آپ کی پارٹی میں آپ کے ماتحت کونسی ایگزیکٹیو کونسل ہے اور اس کے عہدیدار کون کون ہیں۔ اطلاع کے مطابق سونیترا پوار جنہوں نے ۲۶؍ فروری کو اپنے آنجہانی شوہر اجیت پوار کی جگہ این سی پی کی صدارت سنبھالی ہے نے بھی گزشتہ ۱۰؍ مارچ کو الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نےاپنے علاوہ ایگزیکٹیو کونسل کے ۱۴؍ اراکین کے نام درج کئے ہیں۔ ان ۱۴؍ ناموں میں سے انہوں نے صرف شیواجی رائو گرجے کے نام کے آگے ’خزانچی ‘ لکھا ہے ۔ باقی کسی کے نام کے آگے کوئی عہدہ نہیں درج ہے۔ ان میں سنیل تٹکرے، پرفل پٹیل ، چھگن بھجبل، خود سونیترا پوار کے دونوں بیٹے جے پوار اور پارتھ پوار بھی شامل ہیں۔ 
 یاد رہے کہ پرفل پٹیل این سی پی کے قومی کار گزار صدر ہیں جبکہ سنیل تٹکرے پارٹی کے ریاستی صدر ہیں۔ ان دونوں کو یہ عہدہ اجیت پوار نے تفویض کیا تھا جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ سونیترا پوار کے اس خط سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دونوں لیڈران اب ان عہدوں پر نہیں ہیں؟ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق سونیترا پوار نے ان دونوں لیڈران کو بغیر کچھ کہے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اب یا تو یہ دونوں پارٹی میں حاشئے پر رہیں یا پھر پارٹی چھوڑ کر چلے جائیں۔ اس بات کی بھی تصدیق ہوئی ہے کہ سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل نے ۱۶؍ فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ این سی پی کے آئین میں تبدیلی کی گئی ہے اور قومی کار گزار صدر کو کئی اہم اختیارات دیئے گئے ہیں۔ جب اس کی اطلاع سونیترا پوار کو ملی تو انہوں نے فوراً الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر درخواست کی کہ ۲۸؍ جنوری (ا جیت پوار کی موت) سے ۲۶؍ فروری ( جب سونیترا پوار نے صدارت کا عہدہ سنبھالا، تک اگر پارٹی کی جانب سے کوئی خط موصول ہوا ہو تواس خط میں لکھی باتوں پر عمل نہ کیا جائے ۔ یہی وجہ الزام ہے جو روہت پوار نے کچھ دنوں پہلے لگایا تھا اور کہا تھا کہ’’پرفل پٹیل اور سنیل تٹکرے دونوں این سی پی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘  سونیترا پوار نے صرف الیکشن کمیشن کو خط ہی نہیں لکھا ہے کہ سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل کے ذریعے پارٹی کی تشہیر کیلئے ’ ڈیزائن باکس‘ نامی کمپنی کو دیا  کانٹریکٹ بھی ختم کر دیا۔ یعنی وہ ان دونوں لیڈران کے کسی بھی اقدام کو جاری نہیں رکھنا چاہتیں۔ 
 سونیترا پوار کو صفائی نہیں دے سکے
 بات صرف اس خط تک محدود نہیں ہے۔سونیترا پوار کے اقدام کا علم ہوتے ہی پرفل پٹیل اور سنیل تٹکرے کو احساس ہوا کہ پارٹی میں ان کی پوزیشن خراب ہو رہی ہے۔ لہٰذا انہوں نے پیر کے روز چھگن بھجبل، حسن مشرف اور دھننجے منڈے کے ساتھ ممبئی کے باندرہ علاقے میں ایک میٹنگ بلائی۔ میٹنگ میں غور وخوض کے بعد طے کیا گیا کہ دونوں لیڈران سونیترا پوار سے ملاقات کریں اور اپنی طرف سے صفائی پیش کریں۔ منگل کے روز پرفل پٹیل اور سنیل تٹکرے سونیترا پوار سے ملنے پہنچے۔ نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ ان کے بیٹے پارتھ پوار بھی موجود تھے۔ دونوں نے سونیترا پوار کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ انہوں نے یہ اقدام کن حالات میں کیا تھا لیکن سونیترا پوار مطمئن نہیں ہو سکیں۔ بدھ کی رات وہ دہلی روانہ ہوئیں جہاں وہ جمعرات کو وزیر داخلہ امیت شاہ سمیت این ڈی اے کے کئی لیڈران سے ملاقات کرنے والی تھیں۔ امیت شاہ سے ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں ، یہ خبر لکھے جانے تک معلوم نہیں ہوسکا۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK