لازوال محبّت

Updated: October 03, 2020, 5:06 AM IST | M. K. Pasha | Mumbai

یہ کہانی دو دوست جمیل اور شہزاد کی ہے۔ جمیل اچھا بچہ ہے جبکہ شہزاد شرارتی۔ ایک مرتبہ جمیل، شہزاد کی غلطی کا الزام اپنے سر لے لیتا ہے۔ بعد میں شہزاد کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ آئندہ شرارت نہ کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے۔ پڑھئے دونوں کی دوستی کی کہانی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

لڑکوں کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ لڑکے چیخ چیخ کر کلاس کو سر پر اٹھائے ہوئے تھے۔ کوئی گزشتہ رات ٹی وی ڈرامے کا ذکر کر رہا تھا تو کوئی تازہ فلم کا.... کوئی کل والے میچ پر تبصرہ کر رہا تھا تو کوئی نئے ناول کی کہانی پہ بحث کر رہے تھا.... بعض آپس میں دھنگا مشتی میں مصروف تھے۔ اچھا خاصا کلاس روم پاگل خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔اسی لمحے باہر سے ایک چڑیا اڑتی ہوئی آئی اور وسط میں تار سے معلق بلب پر بیٹھ گئی۔ بلب جھولنے لگا۔ ابھی تک کلاس میں کسی لڑکے کی نظر چڑیا پر نہیں پڑی تھی۔’’شہزاد...‘‘ نوید کی آنکھوں میں چمک آگئی... ’’وہ بلب دیکھو....‘‘’’کیا ہے؟‘‘ شہزاد نے بلب کی سمت دیکھے بغیر چیخ کر پوچھا۔’’تم دیکھو تو سہی.....‘‘ نوید جھنجھلا اٹھا۔
 شہزادے نے بیزاری کے عالم میں بلب کی طرف نظر دوڑائی مگر چڑیا کو دیکھ کر وہ پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھوں میں مخصوص سی چمک آگئی تھی اس نے جیب سے غلیل نکالا اور پتھر تلاش کرنے کے لئے ادھر اُدھر دیکھنے لگا مگر لڑکوں کی دھنگا مشتی میں اسے سوائے دھول کے کیا نظر آتا۔ اسی اثنا میں اس کی نظریں جمیل کی دوات پر اٹک گئیں جو فرش پر گری پڑی تھیں ۔ پہلے تو اس نے محتاط نظروں سے ادھر اُدھر دیکھا مگر اپنی طرف کسی کو متوجہ نہ پاکر دوات اٹھائی اور جلدی سے پٹے میں چڑھا دی۔’’ٹھہرو.... شہزاد.... چڑیا....‘‘ غلیل کی سمت میں جمیل نے اچانک چڑیا کو دیکھ لیا تھا۔ اس نے چلّا کر روکنا چاہا مگر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے دوات غلیل سے ہدف کی طرف نکل گئی۔ بلب کے جھولنے کی وجہ سے چڑیا تو بچ گئی البتہ سامنے دیوار پر لگی سنہری فریم والی تصویر ایک زور دار چھناکے کے ساتھ زمین پر آن گری۔ چڑیا گھبرا کے اڑی اور کمرے میں ایک چکر کاٹنے کے بعد باہر نکل گئی۔
 چھناکے کے ساتھ ہی کمرے میں موت کی سی خاموشی چھا گئی تھی۔ تمام بچے خوفزدہ ہوکر اپنے اپنے ڈیسک میں دبک گئے۔ جمیل اور شہزاد اپنی جگہ سکتے کے عالم میں رہ گئے۔’’یا اللہ....‘‘ شہزاد پریشان ہو کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔’’مَیں نے تمہیں بتانا چاہا تھا مگر میری سنتے ہی کب ہو؟‘‘ جمیل پھٹ پڑا۔
 شہزاد کی حالت قابل رحم تھی۔ جمیل کو ترس آگیا ’’تم میرے دوست ہو.... لیکن تم شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ میرے سمجھانے کے باوجود....‘‘’’اب کیا ہوگا....‘‘ شہزاد تھوک نگل کر بولا۔’’وہی جو ماسٹر صاحب چاہیں گے وہ آنے والے ہی ہوں گے۔‘‘’’مَیں کیا کروں ؟‘‘’’مَیں کیا کرسکتا ہوں ؟‘‘’’بھاگ جاؤں ....‘‘’’ارے بیوقوف.... یہ کوئی اس کا حل ہے۔ اس سے تو معاملہ اور بھی بگڑ جائے گا۔‘‘ جمیل نے ڈانٹا۔
 اسی دوران ماسٹر صاحب بھی آگئے وہ بے حد سنجیدہ لگ رہے تھے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ آج ان کا موڈ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے سر کو تفہیمی جنبش دے کر لڑکوں کو بیٹھنے کے لئے کہا اور جونہی ان کی نظر فرش پر بکھری ہوئی کرچیوں پر پڑی تو ان کے چہرے پر حیرت پھیل گئی انہوں نے اوپر دیکھا۔ تصویر اپنی جگہ سے غائب تھی نیچے دیکھا تو ٹوٹا ہوا فریم دیوار کے ساتھ لٹکا ہوا تھا اور اردگرد کرچیاں ہی کرچیاں تھیں ۔’’ارے یہ کیا؟‘‘ وہ حیرت سے بولے پھر اچانک ان کے چہرے پر حیرت کی جگہ غصے نے لے لی۔’’ہائے اللہ مَیں کیا کروں ؟‘‘ شہزاد کپکپایا۔ ’’اب کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘ جمیل بڑبڑایا۔’’مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ مَیں آئندہ ایسی شرارتیں نہیں کروں گا۔‘‘’’وعدہ کرو...‘‘ جمیل دبی دبی آواز میں بولا۔’’وعدہ... پپ.... پپ.... پکا وعدہ....‘‘’’یہ تصویر کس نے توڑی ہے؟‘‘ ماسٹر صاحب کی پیشانی شک آلود ہوگئی۔ کمرے میں مکمل خاموشی چھا رہی تھی۔ ’’یقیناً یہ شہزاد کی شرارت ہوگی۔‘‘ ماسٹر صاحب نے شہزاد کو گھورا تو شہزاد بغلیں جھانکنے لگا۔’’نہیں ماسٹر جی.... یہ تصویر مَیں نے توڑی ہے۔‘‘ جمیل نے شہزاد کا جرم اپنے نام لے لیا۔ ایک لمحے کے لئے پوری کلاس ششدر رہ گئی۔’’تم نے....؟‘‘ ماسٹر صاحب کے لہجے میں غصے کے بجائے حیرت تھی۔’’مَیں چڑیا کو گرانا چاہتا تھا۔ شاید مجھے اس کی سزا ملی۔‘‘ جمیل نے جواب دیا۔’’مجھے تم سے یہ اُمید نہ تھی۔ مجھے خوشی ہے۔ شہزاد جیسا تمہارا دوست ہے اور ایک دن وہ آئے گا کہ جب شہزاد تمہارے نقش قدم پر چل پڑے گا مگر اب مجھے افسوس ہے کہ شہزاد تمہارا دوست ہے۔‘‘کلاس میں خاموشی چھا رہی تھی۔ ’’تم پریڈ کے دوران ڈیسک پر کھڑے رہو گے اور تم آئندہ ایسی حرکت نہیں کرو گے۔‘‘کلاس میں سے کوئی بھی نہیں بولا۔ وہ شہزاد اور جمیل کی دوستی سے واقف تھے۔ جمیل کم گو اور شریف لڑکا تھا جبکہ شہزاد ایک درجے کا شرارتی اور باتونی تھا۔
 جمیل خاموشی سے سر جھکائے ڈیسک پر کھڑا ہوگیا۔ ماسٹر صاحب نے پڑھانا شروع کر دیا مگر شہزاد کا دل ہی نہیں لگ رہا تھا۔ وہ بار بار جمیل کے سنجیدہ چہرے اور جھکے ہوئے سر کی طرف دیکھتا اسے ضمیر ملامت کر رہا تھا۔ غلطی تو اس نے کی تھی سزا بھی اس کو ملنی چاہئے مگر جمیل کو کیوں ناکردہ جرم کی سزا مل رہی ہے۔ کیا کیا.... اس لئے اس کا شہزاد جیسا دوست ہے؟’’شہزاد....‘‘ ماسٹر صاحب نے کمانی دار عینک کے پیچھے سے گھورا۔’’جج.... جج... جی....‘‘ شہزاد اچھل پڑا۔’’تمہاری توجہ کہیں اور ہے۔ تمہیں پتہ ہے کہ مَیں کیا پڑھا رہا ہوں ۔‘‘’’ماسٹر جی.... وہ.... مَیں .... شہزاد نے کپکپاتے ہوئے لہجے میں کہنا شروع کر دیا۔’’ہاں ... ہاں .... کہو.... کیا بات ہے.... تم بہت پریشان لگ رہے ہو؟‘‘ ماسٹر صاحب کا لہجہ نرم پڑگیا۔’’ماسٹر جی.... تت... تصویر جمیل نے نہیں توڑی۔‘‘’’جمیل نے نہیں توڑی....‘‘ ماسٹر صاحب حیرت سے بڑبڑائے، ’’تو پھر کس نے توڑی ہے....؟‘‘’’مم.... م.... مَیں نے....‘‘ شہزاد ہکلایا۔ ’’مگر.... وہ جمیل....‘‘ ماسٹر صاحب مزید کچھ نہ کہہ سکے۔’’ماسٹر جی.... وہ یہ بات میری محبت میں کر رہا ہے۔ اس نے میری آنکھوں سے پٹی اتار دی ہے۔ مَیں .... مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ مَیں آئندہ شرارتیں نہیں کروں گا۔‘‘ شہزاد کی آنکھوں میں نمی پھوٹ نکلی۔
 ماسٹر صاحب نے دونوں کو محبت میں بازوؤں میں لے لیا ’’تم شرارتیں ضرور کرو بچو.... شرارتیں تمہارا حق ہے۔ مگر ایسی شرارتیں ہرگز نہ کرو جس سے کسی دوسرے کو تکلیف ہو۔‘‘’’ہم آپ کی باتیں یاد رکھیں گے ماسٹر جی....‘‘ ’’اور مَیں تم دونوں کی لازوال محبت.... جاؤ.... شاباش....‘‘ماسٹر صاحب نے دونوں کو محبت سے تھپکی دی اور پڑھائی کی طرف متوجہ ہوگئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK