نئی شرارت

Updated: February 01, 2020, 3:26 PM IST | Mayal Khairabadi

حامد اور محمود تھے تو دونوں سگے بھائی مگر دونوں میں بڑا ہی فرق تھا۔ بڑا بھائی حامد بڑا سمجھدار اور بھولا لڑکا تھا۔ لیکن محمود جتنا چھوٹا تھا اتنا ہی کھوٹا۔ بڑا نٹ کھٹ اور بڑا شریر۔ حامد اپنے چھوٹے بھائی کو سمجھایا کرتا اور شرارت کے کاموں سے منع کیا کرتا تھا۔

نئی شرارت
علامتی تصویر۔

حامد اور محمود تھے تو دونوں سگے بھائی مگر دونوں میں بڑا ہی فرق تھا۔ بڑا بھائی حامد بڑا سمجھدار اور بھولا لڑکا تھا۔ لیکن محمود جتنا چھوٹا تھا اتنا ہی کھوٹا۔ بڑا نٹ کھٹ اور بڑا شریر۔ حامد اپنے چھوٹے بھائی کو سمجھایا کرتا اور شرارت کے کاموں سے منع کیا کرتا تھا۔
 ایک بار دونوں ساتھ ساتھ جا رہے تھے۔ راستے میں ایک بزرگ لکڑہارے کو دیکھا۔ لکڑہارا بازار سے آرہا تھا۔ لکڑیوں کا گٹھر ا س کے سر پر تھا اور وہ دھیرے دھیرے اس طرح بڑبڑا رہا تھا ’’آج بڑی مشکل ہوگی۔ لکڑیاں بکیں نہیں۔ گھر کھانے کو دانہ نہیں۔ میرا تو کچھ نہیں، مَیں تو بھوکا ہی پڑا رہوں گا لیکن ننھا اور اس کی بیمار ماں کا کیا ہوگا۔ ننھے کو دودھ نہ ملا تو....؟‘‘
 لکڑہارے نے گٹھر ایک پیڑ کے نیچے ڈال دیا۔ اور سوچنے لگا کیا کرے؟ پھر اسے رفع حاجت محسوس ہوئی وہ راستے سے دور ایک کھائی میں چلا گیا۔ اسے دور اور آڑ میں دیکھ کر محمود کی پسلی پھڑکی۔ اس نے حامد سے کہا ’’بھائی جان! آہا بڑا مزہ آئے گا، آؤ اس کا گٹھر کھول دیں اور لکڑیاں اِدھر اُدھر بکھیر دیں اور چھپ کر تماشا دیکھیں۔ لکڑہارا خوب پریشان ہوگا۔‘‘
 حامد نے محمود سے کہا ’’مَیں اس سے اچھی شرارت بتاؤں۔ وہ نئے قسم کی شرارت ہے۔ اس میں بہت ہی مزہ آئے گا۔‘‘
 محمود نے پوچھا ’’کیا؟‘‘
 حامد نے بتایا ’’آؤ! اس کے گٹھر کے دو چھوٹے چھوٹے گٹھر بنائیں اور ایک ایک لاد لیں۔ اس کے گھر پہنچا دیں اور پھر چھپ کر لکڑہارے کا تماشا دیکھیں وہ بے چارہ تھکا بھی ہے اور پریشان بھی، لکڑیوں کا گٹھر نہ دیکھے گا تو بڑبڑاتا گھر جائے گا اور جب وہاں لکڑیاں دیکھے گا تو کتنا خوش ہوگا۔ شرارت کی شرارت، اور نیکی کی نیکی۔ اور اگر ہم تم یہ شرارت، ارے شرارت نہیں.... نیکی اللہ کو خوش کرنے کیلئے کریں اور لکڑہارے کو معلوم نہ ہوسکے تو کیا کہنا؟‘‘
 محمود بھی اس نئے قسم کی شرارت کو سمجھ گیا۔ دونوں نے جھٹ پٹ لکڑیوں کے دو چھوٹے چھوٹے گٹھر بنائے اور اٹھا کر بھاگے۔ لکڑہارے کے گھر پہنچا آئے اور پھر بھاگ کر وہیں پہنچنے جہاں لکڑہارے نے گٹھر ڈالا تھا۔
 وہاں لکڑہارا حاجت سے فارغ ہوکر آچکا تھا۔ لکڑیاں نہ دیکھ کر بہت پریشان ہوا۔ ادھر اُدھر دیکھا اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اب وہ پھر بڑبڑاتا گھر کو چلا ’’ہائے اللہ! یہ نئی مصیبت پڑی۔ غریبی میں آٹا گیلا۔ ایک تو ویسے ہی کچھ کھانے کو نہیں۔ پھر لکڑیوں کا کچھ سہارا تھا۔ سوچا تھا کہ گھر چل کر کسی کو اونے پونے دے دوں گا ننھے اور اس کی ماں کے لئے کچھ کھانے کو لاؤں گا۔ یہ تو وہی مثل ہوئی کہ ’’ایک تو دبلی دوسرے بھوکی!‘‘ یا اللہ اب کیا ہوگا....‘‘
 آگے آگے لکڑہارا اسی طرح بڑبڑاتا جا رہا تھا۔ پیچھے پیچھے حامد اور محمود ذرا فاصلے سے چل رہے تھے۔ بڑا مزہ آرہا تھا اور حامد اس سے کہہ رہا تھا ’’محمود اب جب لکڑہارا گھر پہنچے گا تو اس کی یہ ساری پریشانی دور ہوجائے گی۔ مگر آؤ اب ہم تم گھر چلیں، نہیں تو لکڑہارا ضرور سمجھ جائے گا۔‘‘
 حامد اور محمود اپنے گھر گئے۔ محمود جب اس نئی شرارت کو سوچتا تو اسے مزہ بھی آتا اور خوشی بھی ہوئی اس کو اپنی پچھلی شرارتوں میں مزہ تو آتا تھا مگر خوشی نہیں ہوتی تھی۔ اب اس نے دل میں ٹھان لیا کہ اگر شرارت کو جی چاہے گا تو ایسی ہی شرارت کر لے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK