چغل خوری کا انجام

Updated: March 14, 2020, 12:02 PM IST | Mohsin Anjum Bhiwandwi | Mumbai

شیر لومڑی کی باتوں میں آگیا۔ اُس نے غصہ سے آگ بگولہ ہو کر ایلچی خرگوش کو حکم دیا کہ جاؤ اور اسی وقت بندر سے کہو کہ مابدولت کا حکم ہے کہ فوراً حاضر ہو جاؤ ورنہ تمہاری خیر نہیں۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کسی جنگل میں ایک شہر رہا کرتا تھا۔ پورے جنگل پر اُسی کی حکومت تھی۔ تمام جنگلی جانور اس شیر سے بہت ڈرتے تھے۔ ایک دفعہ شیر بہت بیمار ہوگیا اور اُس کی بیماری کی خبر پورے جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ تمام جانور چونکہ شیر سے ڈرتے تھے اس لئے انہوں نے سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ اگر وہ عیادت کے لئے نہ جائیں تو شیر انہیں مار ڈالے اس لئے جنگل کے تمام جانور عیادت کے لئے آئے۔ وزیر لومڑی نے ایک نظر حاضرین پر ڈالیں اُسے سب جانور نظر آئے لیکن بندر کہیں دکھائی نہ دیا۔ بندر سے لومڑی کی پرانی دشمنی تھی اور ہر وقت لومڑی کو بندر کے مقابلہ میں منہ کی کھانی پڑتی تھی۔ جب لومڑی نے دیکھا کہ بندر غائب ہے تو اس نے شیر سے کہا ’’بادشاہ سلامت! آپ کی بیماری کی خبر سن کر جنگل کے تمام جانور عیادت کے لئے آئے لیکن بندر نہیں آیا۔ وہ دو دن قبل مجھے ندی کے کنارے ملا تھا۔ مَیں نے اُسے آپ کی بیماری کی اطلاع دی تو اس نے خوش ہو کر کہا تھا کہ ’’چلو اچھا ہوا، خدا کرے کہ یہ آفت ہمیشہ کے لئے ہمارے سر سے ٹل جائے۔ سرکار! یہ اسی کی بددعا کا اثر ہے کہ آپ کی بیماری میں اور اضافہ ہوا ہے۔ حضور! یہ بندر نہایت ہی نالائق اور غدار ہے۔ اسے جنگل میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ شیر لومڑی کی باتوں میں آگیا۔ اُس نے غصہ سے آگ بگولہ ہو کر ایلچی خرگوش کو حکم دیا کہ جاؤ اور اسی وقت بندر سے کہو کہ مابدولت کا حکم ہے کہ فوراً حاضر ہو جاؤ ورنہ تمہاری خیر نہیں ۔
 خرگوش اچھلتا کودتا ہوا بندر کے پاس گیا اور پوری کہانی سنا کر کہا کہ ’’یہ سب شرارت لومڑی کی ہے۔ اُس نے تم سے بدلہ لینے کے لئے یہ جال بچھایا ہے۔ تم فوراً دربار میں جاؤ شیر بادشاہ تم سے بہت ناراض ہیں ۔‘‘ بندر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’شکریہ بھائی خرگوش! مجھے لومڑی سے بالکل ڈر نہیں لگتا۔ میری سمجھ میں ایک ترکیب آگئی ہے۔ چلو ہم ساتھ ہی ساتھ بادشاہ سلامت کے دربار میں چلیں ۔‘‘ چنانچہ خرگوش اور بندر چل پڑے۔ دربار میں پہنچ کر بندر نے بادشاہ شیر کو جھک کر سلام کیا۔ شیر نے غصہ سے گرج کر کہا ’’میری عیادت کے لئے جنگل کے تمام جانور آئے لیکن تم کیوں نہیں آئے، اس کی وجہ کیا ہے؟‘‘ بندر نے نہایت ادب سے جھک کر کہا ’’بادشاہ سلامت! مَیں نے آپ کی بیماری کی خبر لومڑی بہن سے پرسوں ہی سن لی تھی۔ یہ سن کر مجھے بہت افسوس ہوا۔ مَیں فوراً دوسرے جنگل کے ایک نہایت مشہور طبیب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے مجھے ایک نہایت آسان اور مفید دوا بتا دی ہے۔ ابھی ابھی میں جنگل سے واپس لوٹ کر گھر آیا تھا اُسی وقت خرگوش بھائی نے آپ کا حکم سنایا اور مَیں فوراً یہاں پہنچ گیا۔‘‘ ’’شاباش! بندر میاں !‘‘ بادشاہ شیر نے خوش ہو کر کہا ’’تم نے بہت اچھا کام کیا.... اچھا اب جلدی سے بتاؤ کہ حکیم نے میرے لئے کون سی دوا تجویز کی ہے۔‘‘ بندر نے آہستہ سے جواب دیا ’’حضور حکیم نے کہا تھا کہ لومڑی کا جگر کھانے سے آپ کی بیماری دور ہوسکتی ہے۔‘‘ چنانچہ یہ سنتے ہی بادشاہ شیر کا پنجہ وزیر لومڑی کی طرف بڑھا اور اس سے قبل کہ لومڑی کچھ کہتی یا اپنی جگہ سے حرکت کرتی، شیر کا پنجہ اُس کے سینے پر پڑا اور لومڑی بے جان ہو کر گر پڑی۔
 بچّو! تم نے دیکھا کہ چغل خوری کا کتنا بھیانک انجام ہوتا ہے۔ اس لئے تم کبھی اس بُری عادت کو مت اپنانا ورنہ نتیجہ خطرناک ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK