شیر اور چالاک لومڑی

Updated: November 21, 2020, 3:10 AM IST | Md Saquib Raza Sagheer Anwar | Mumbai

ایک جنگل میں شیر، گیدڑ، لومڑی، ہرن اور بہت سے دوسرے جانور رہتے تھے۔ شیر خود کو جنگل کا سب سے بڑا جانور سمجھتا تھا اور جنگل کا ’بادشاہ‘ کہلانے پر فخر محسوس کرتا تھا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک جنگل میں شیر، گیدڑ، لومڑی، ہرن اور بہت سے دوسرے جانور رہتے تھے۔ شیر خود کو جنگل کا سب سے بڑا جانور سمجھتا تھا اور جنگل کا ’بادشاہ‘ کہلانے پر فخر محسوس کرتا تھا۔ وہ جب اور جس وقت چاہتا کسی نہ کسی جانور کو جھپٹتا اور اس کو کھا جاتا۔ سارے جانوروں کو ہر وقت اپنی جان کا خطرہ لگا رہتا تھا کہ نہ جانے کب اور کس وقت کس کی باری آجائے۔ایک دن کئی جانور مل کر شیر کے پاس گئے اور باری باری کہنے لگے ’’بادشاہ شیر تم واقعی ہمارے بادشاہ ہو اور ہم تمہاری رعایا، لیکن اگر تم ہم سب کو ایک ایک کرکے کھا جاؤگے تو تمہاری رعایا ختم ہو جائے گی پھر تم کس پر اپنی حکومت کرو گے؟‘‘ شیر نے دہاڑتے ہوئے کہا ’’ارے بیوقوفو! اگر اس جنگل میں جانور ختم ہوگئے تو مَیں کسی اور جنگل میں چلا جاؤں گا۔ ابھی مجھے ایسی کوئی فکر نہیں کیونکہ فی الحال اس جنگل میں بے شمار جانور ہیں جنہیں کھا کر میں کئی برس گزار سکتا ہوں ۔‘‘‎یہ کہہ کر وہ ایک مرتبہ اپنی خوفناک آواز میں دہاڑا اور ان جانوروں میں سے ایک کو دبوچ کر کھا گیا۔
 باقی جانور جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان جانوروں کو راستے میں لومڑی مل گئی اور انہوں نے لومڑی سے کہا ’’بی لومڑی! فوراً یہاں سے بھاگ جاؤ ورنہ بادشاہ شیر تمہیں بھی کھا جائے گا۔‘‘ لومڑی بولی ’’بھائیو! گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں نے ایک ترکیب سوچی ہے اور مجھے پکا یقین ہے کہ مَیں اپنی اس ترکیب پر عمل کرکے اپنی اور تم سب کی جان اس نامراد سے بچا لوں گی۔‎ہم سب کو اس مردود سے نجات مل جائے گی۔‘‘ اگلے روز لومڑی شیر کے پاس پہنچی سلام کیا اور شیر کا حال پوچھا۔ شیراس وقت بہت بھوکا تھا لومڑی کو دیکھ کے اس کے منہ میں پانی بھر آیا کیونکہ وہ لومڑی بہت موٹی تازی تھی۔ اس نے لومڑی سے کہا ’’اچھا ہوا تم خود ہی چلی آئی ہوں ورنہ آج میں تمہاری تلاش میں جانے والا تھا۔ میری کئی روز سے تم پر نظر تھی اور تمہارا گوشت کھانے کی تمنا تھی۔‘‘ چالاک لومڑی نے جواب دیا ’’شیر بادشاہ میں بہت پہلے تمہارے پاس آ جاتی لیکن جب میں اس طرف آ رہی تھی تو راستے میں ایک اور شیر مجھے مل گیا اور کہنے لگا کہ میں جنگل کا بادشاہ ہوں ۔ مَیں نے اس سے کہا کہ نہیں ہم ایک شیر کو اپنا بادشاہ سمجھتے ہیں تو وہ دہاڑ کر بولا، کون ہے وہ مَیں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ میں بھاگ کھڑی ہوئی اور کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچی تاکہ تمہیں یہ خبر سنا دوں کہ اس جنگل میں ایک اور بادشاہ پیدا ہو گیا ہے۔‘‘ لومڑی کی زبانی کسی اور شیر کے متعلق سن کر اس شیر کو بڑا غصہ آیا۔ نتھنے پھلا کر کہا ’’کہاں ہے وہ بدمعاش؟ مَیں ابھی اس کو اس کی گستاخی کی سزا دیتا ہوں ۔‘‘ لومڑی نے بتایا وہ شیر ایک میل دور پہاڑی کے پاس کنویں کی منڈیر پر بیٹھا ہوا ہے اور اسی جگہ رہتا ہے۔ ’’شیر نے کہا مجھے وہاں لے چلو تاکہ مَیں ابھی اور اسی وقت اس گستاخ کو مزہ چکھا دوں ۔‘‘ لومڑی بولی ’’ہاں .... ہاں .... شیربادشاہ میرے ساتھ چلئے۔‘‘چنانچہ چالاک لومڑی اس کو اپنے ہمراہ لے کر اس طرف کو چل دی۔ راستے میں وہ شیر کے ساتھ باتیں کرتی جارہی تھی اور اس کی خوب تعریفیں کرتی جارہی تھی۔ بالآخر ایک کنویں کے پاس پہنچ کر بولی ’’شیر بادشاہ کنویں کی منڈیر پر چڑھ جاؤ دوسرا شیر تمہیں ضرور نظر آ جائےگا۔‘‘شیر کنویں کی دیوار پر چڑھ گیا۔ کنویں کے اندر پانی تھا اور پانی میں اس کو اپنا عکس دکھائی دیا تو اس کو وہ دوسرا شیر سمجھ بیٹھا۔ ‎دوسرے شیر کو دیکھتے ہی غصے میں برا حال ہوگیا اور وہ اپنی خوفناک اور گرجدار آواز میں دہاڑا۔ قدرتی طور پر عکس کے اندر بھی شیر دہاڑا جس کو وہ اپنا دشمن سمجھتا تھا۔ دو تین مرتبہ یہی تماشا ہوا آخر شیر نے شدید غصے کی حالت میں عکس والے شیر پر حملہ کرنے کے خیال سے کنویں میں چھلانگ لگادی۔ کنواں کافی گہرا اور گدلے پانی سے بھرا ہوا تھا۔ بالآخر شیر کنویں کے اندر ڈوب کر مرگیا۔
 لومڑی خوشی خوشی اپنے دوست جانوروں کے پاس پہنچی اور انہیں خوشخبری سنائی ’’مَیں شیر بادشاہ کو ختم کر آئی ہوں ، اب ہم سب کی جان محفوظ رہے گی۔‘‘ سب جانوروں نے لومڑی کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اس کی بہت تعریف کی اور کہا کہ ’’خدا نے تمہیں سب سے زیادہ عقل ہو سمجھ دی ہے۔‘‘ سب جانوروں نے ایک جگہ جمع ہو کر خوب جشن منایا۔ واقعی لومڑی ایک بہت چالاک جانور ہے۔
دارالعلوم ہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK