کہانی کسان کی

Updated: November 21, 2020, 3:12 AM IST | Nuzhat Shakeel Ahmed Shaikh | Mumbai

یہ واقعہ بہت پرانا ہے۔ ایک غریب کسان ایک دیہات میں رہا کرتا تھا۔ اس کا چھوٹا سا ایک کھیت تھا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

یہ واقعہ بہت پرانا ہے۔ ایک غریب کسان ایک دیہات میں رہا کرتا تھا۔ اس کا چھوٹا سا ایک کھیت تھا۔ جس میں وہ اکثر چھوٹی موٹی فصلیں ا ور سبزی ترکاری اُگایا کرتا تھا۔ جس سے اُس کا اور گھر بار کا بڑی مشکل سےگزارا ہوتا تھا۔ چھوٹا سا کھیت ہی اُس کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھا۔کسان کو ہمیشہ ہی روپیوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اُس کی طبیعت اور خصلت حاسدانہ تھی۔ جس سے اُس کے پڑوسی، دوست احباب اور رشتہ دارروں سے اُس کے تعلقات خراب ہوا کرتے تھے۔ دن بہ دن وہ بوڑھا ہوتا جا رہا تھا جس کی وجہ سے کھیت میں کام کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ اُس کے پاس کھیت جوتنے کے لئے بیل بھی نہیں تھے نہ ہی اُس کے کھیت کے آس پاس کسی کی باؤلی یا کنواں بھی نہیں جس میں سے پانی لے کر اپنی فصل کو دے سکے۔ اُس کا پانی کا واحد ذریعہ بارش پر منحصر تھا۔
 ایک دفعہ شام کو وہ تھکا ماندہ اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ اُس وقت اُس کی ملاقات ایک سفید داڑھی والے بزرگ سے ہوئی جو کہ حبہ پہنے ہوئے تھا۔ اُسکے ساتھ ایک بیل بھی تھا۔ بوڑھے بزرگ نے کسان سے پوچھا ’’کیا بات ہے؟ تم بالکل اداس اور نااُمید سے نظر آرہے ہو؟‘‘اس پر کسان بولا ’’مَیں کیسے اپنی پریشانیاں بیان کروں بزرگ صاحب! مَیں بہت ہی غریب ہوں ۔ ایک آدھا بیل بھی میرے پاس نہیں ہے جس کے ذریعے ہل چلا کر کھیت میں آسانی سے فصلیں اُگا سکوں ۔‘‘ اس پر بزرگ شخص نے کہا ’’اگر تمہیں ایک بیل مل گیا تو حقیقی مانو میں تم اُس کا کیا کرو گے؟‘‘اس پر کسان بولا ’’اگر ایسا ہوا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ ہوگی میری کھیتی کا کام آسان ہوگا میری کمائی میں اضافہ ہوگا گھر کا خرچ آسانی چلا سکوں گا.... لیکن مَیں بیل کہاں سے پاسکتا ہوں اور نہ ہی اتنی رقم ہے کہ کوئی بیل خرید سکوں ۔‘‘بزرگ شخص نے کہا ’’مَیں تمہیں بیل دوں گا، یہ لو میرا بیل....‘‘ بزرگ نے اپنے پیچھے کھڑے ہوئے بیل کی رسّی کو کسان کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے آگے بولے ’’ہاں اور ایک بات جب تم گھر پہنچ جاؤ گے تو تمہارے پڑوسی کو میرے پاس بھیج دینا۔‘‘ کسان خوش ہوتے ہوئے کہا ’’مَیں بہت خوش ہوں صاحب جی کہ آپ نے اپنا بیل مجھے دیا، لیکن آپ میرے پڑوسی سے کیوں ملنا چاہتے ہو؟‘‘ بزرگ نے جواب دیا ’’تمہارے پڑوسی سے کہو کہ وہ میرے پاس سے دو بیل لے جائے۔‘‘ اتنا سنتے ہی کسان کو غصہ آگیا۔ غصے سے لال ہو کر خشک لہجے میں بزرگ سے کہا ’’تم نہیں جانتے، میرے پڑوسی کے پاس سب کچھ ہے، اگر تم اُسے دو بیل دینا چاہتے ہو تو مجھے تم سے یہ ایک بیل بھی نہیں چاہئے۔‘‘ کسان نے بزرگ کے ہاتھ میں رسّی تھما دی۔ بوڑھے شخص نے رسّی کو پکڑتے ہوئے درد بھری آواز میں کہا ’’کیا تم جانتے ہو تمہاری بدنصیبی اور غریبی کی وجہ کیا ہے؟ تمہاری پریشانی اور بدنصیبی کی وجہ تمہارا حاسدانہ جذبہ ہے۔ اگر تم پڑوسی، دوست رشتہ داروں کی چیزوں کو دیکھ کر جلتے، حسد کرتے رہو گے تو تم کبھی بھی خوش نصیب آدمی نہیں بن پاؤ گے اور نہ ہی خوش رہ سکو گے۔‘‘اتنا کہہ کر بزرگ شخص جنگل میں غائب ہوگیا۔ کسان اپنی حاسدانہ طبیعت کی وجہ سے ہاتھ آئے بیل کو کھو دیا۔ اس لئے کسی سے حسد نہیں کرنی چاہئے۔
سرسیّد کالج، روشن گیٹ، اورنگ آباد

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK