• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

تین تتلیاں

Updated: December 02, 2023, 11:20 AM IST | Hina Khan Sartaj Ahmad | Maniklan, Jaunpur

’’کیا ہو رہا ہے؟ تم لوگوں کی شرارتیں بڑھتی جا رہی ہیں ؟‘‘ حنا میم نے آدھے گھنٹے میں تقریباً پندرہویں بار آواز لگائی تھی لیکن ان تینوں پر کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

’’کیا ہو رہا ہے؟ تم لوگوں کی شرارتیں بڑھتی جا رہی ہیں ؟‘‘ حنا میم نے آدھے گھنٹے میں تقریباً پندرہویں بار آواز لگائی تھی لیکن ان تینوں پر کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔
 ’’میم اس ہانی کو دیکھئے وہ مجھے پریشان کر رہی ہے۔‘‘ اریبہ نے شکایت کی۔
 ’’نہیں میم، پہلے اس نے میرے بال کھینچے۔‘‘ ہانی نے کہا۔
 ’’عالیہ بتاؤ سب سے پہلے شرارت کس نے کی؟‘‘ میم نے عالیہ سے پوچھا۔
 ’’میم یہ دونوں ....‘‘ یہ کہتے ہی وہ بھی ہنسنے لگی۔
 ’’تم تینوں ایک جیسی ہو۔ تم لوگوں سے کچھ پوچھنا ہی بیکار ہے۔‘‘ اور وہ تینوں میم کے جھنجھلانے پر بھی ہنس پڑی۔
 ’’میم، کیا میں ایک شاعری کہوں ؟‘‘ اریبہ نے پیشکش کی۔
 ’’ٹھیک ہے آپ لوگ خاموش رہیں گے نہیں ۔ لڑنے اور شرارت کرنے سے شعر کہنا بہتر ہے۔‘‘
’’زندگی میں سب کچھ مل جائے گا تو تمنّا کس کی کروگے؟
کچھ ادھوری خواہشیں تو زندگی جینے کا مزہ دیتی ہیں !‘‘
 ’’زبردست! تمہیں تو بہت اچھی شاعری بھی آتی ہے۔‘‘ حنا میم نے تعریف کی۔
 اور اس پر بھی تینوں ہنس پڑے۔
 ’’اب اس میں اتنا هنسنے والی کیا بات ہے؟‘‘
 ’’میم، اس نے مجھے ہنسایا....‘‘
 ’’نہیں میم، اس نے مجھے ہنسایا....‘‘
 ’’نہیں میم، عالیہ نے کیا...‘‘ تینوں پھر سے بحث کرنے لگے۔ تبھی گھنٹی کی آواز سنائی دیتی۔
 میم جانے کے لئے اٹھیں لیکن بار بار ان تینوں کی شرارتوں ، باتوں اور اشعار انہیں روک رہی تھیں ۔ وہ اُن پر ناراض ہو سکتی تھیں ۔ لیکن سچ پوچھیں تو اُنہیں خود بھی ان تینوں کی لڑائی جھگڑا، مذاق اور شرارتیں پسند تھیں ۔
 اُنہیں اپنے سہیلیوں کی کمی محسوس ہوتی۔ انجم، زینب، ماریہ، الفیہ، ہاجرہ اور صابرہ سب بہت پیاری تھیں ۔ ان کی سہیلیاں بھی ایسی ہی تھیں ، وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتیں ، ہنستے ہنساتے ایک دوسرے کو برا بھلا کہتی تھیں کہ سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ خوش ہوں یا ناراض۔ بہت مزہ آتا تھا۔
 ’’کیا ہوا میم؟‘‘ ہانی کی آواز پر وہ خیالوں کی دنیا سے باہر نکل آئی۔ دوستوں کی یادوں سے اس کی آنکھیں نم تھیں ۔ آج ہمیں ایک دوسرے کو دیکھے اور باتیں کئے ہوئے اتنا وقت گزر گیا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے ہم صدیوں سے جدا ہوئے ہوں ۔
 اسکول سے فارغ ہونے کے بعد، ملنے کی کوئی وجہ یا بہانہ نہیں تھا۔ شاید اسی لئے وہ اپنی سہیلیوں کی شرارتیں ان تینوں میں ڈھونڈتی رہتی۔ اور عالیہ، اریبہ، امیہانی کو بھی ’’تین تتلیو ں ‘‘ کا دل ہی دل میں خطاب دے دیا تھا۔
 یہ سہیلیاں تتلیاں ہی تو ہیں ، ساتھ اٹھنا، ساتھ بیٹھنا، کھانا پینا، لڑنا، جھگڑنا، شرارتیں کرنا اور جب یہ سب چیزو ں کی قدر اور خواہش تب ہوتی ہے جب ہم ایک دوسرے سے بہت دور چلے جاتے ہیں تو ملنا چاہتے ہیں ۔ لیکن چاہ کے بھی ملنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے میرے دوست کی قدر کرنا چاہئے۔ اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہوکر دوستوں کو بھول جانا اچھی بات نہیں ہے۔ کبھی کبھی دوستوں کے لئے وقت نکالنا چاہئے اور پرانے دنوں کو یاد کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK