Inquilab Logo Happiest Places to Work

ابرار احمد کی دی ہنڈریڈ میں شمولیت پر سنیل گاوسکر کی سن رائزرز پر شدید ناراضگی

Updated: March 18, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai

سن رائزرز نے پاکستانی اسپنر ابرار احمد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے، جس پر گاوسکر کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹر پر لگایا گیا پیسہ بالواسطہ طور پر ہندوستانی جوانوں اور عام شہریوں کی جان لینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

Sunil Gavaskar.Photo:INN
سنیل گاوسکر۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کے سابق کپتان سنیل گاوسکر نے دی ہنڈریڈ کے اگلے سیزن کے لیے سن رائزرز لیڈز کے ایک فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سن رائزرز نے پاکستانی اسپنر ابرار احمد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے، جس پر گاوسکر کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹر پر لگایا گیا پیسہ بالواسطہ طور پر ہندوستانی جوانوں اور عام شہریوں کی جان لینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ہیڈنگلے کی اس فرنچائز کی ملکیت سن گروپ  کے پاس ہے، جو آئی پی ایل میں سن رائزرز حیدرآباد کی ٹیم بھی چلاتا ہے۔ اس ٹیم کو پہلے ناردرن سپر چارجرز کے نام سے جانا جاتا تھا۔گزشتہ ہفتے ہونے والی نیلامی میں ابرار احمد کو تقریباً ۲؍ کروڑ ۳۴؍لاکھ روپے کی خطیر رقم کے عوض سائن کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیکھنے کو ملا، خاص طور پر مئی ۲۰۲۵ء میں ہونے والے چار روزہ فوجی تصادم کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تلخی آئی ہے۔ یاد رہے کہ  ۲۰۰۹ء سے پاکستانی کھلاڑی آئی پی ایل سے باہر ہیں اور۱۳۔۲۰۱۲ءکے بعد سے کوئی دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کنگ کے بعد شاہ رخ خان رومانوی فلم میں نظر آئیں گے

گاوسکر نے اخبار مڈ ڈے میں اپنے کالم میں لکھاکہ ’’ایک ہندوستانی مالک کی جانب سے پاکستانی کھلاڑی کو خریدنے پر ہونے والا تنازع حیران کن نہیں ہے۔ نومبر ۲۰۰۸ء کے ممبئی حملوں کے بعد سے ہندوستانی فرنچائز مالکان نے پاکستانی کھلاڑیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا’’پاکستانی کھلاڑی کو دی گئی فیس، جو بعد میں ٹیکس کی صورت میں ان کے ملک کو جاتی ہے اور جس سے ہتھیار خریدے جاتے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر ہندوستانی فوجیوں اور شہریوں کی موت کا سبب بنتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:فلسطینیوں سے ہمدردی، اسرائیل سے نفرت میں تیزی سے اضافہ: امریکی سروے

سن گروپ ایک میڈیا ادارہ ہے جس کے بانی کلانیدھی مارن ہیں اور نیلامی کے وقت ان کی بیٹی کاویہ مارن موجود تھیں۔ اگرچہ ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری نے کہا کہ انہیں کسی خاص کھلاڑی پر بولی لگانے سے نہیں روکا گیا تھا، لیکن گاوسکر کا ماننا ہے کہ مالکان کی جانب سے واضح ہدایات ہونی چاہیے تھیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’چاہے ادائیگی ہندوستانی ادارے کی طرف سے ہو یا اس کی غیر ملکی شاخ کی طرف سے، اگر مالک ہندوستانی ہے تو وہ ہندوستانی جانی نقصان میں حصہ دار بن رہا ہے۔ یہ اتنی ہی سیدھی بات ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:کنگ کے بعد شاہ رخ خان رومانوی فلم میں نظر آئیں گے


واضح رہے کہ دی ہنڈریڈ کی نیلامی میں کل ۷؍ پاکستانی کھلاڑی شامل تھے، جن میں دو خاتون کھلاڑی فاطمہ ثناء اور سعدیہ اقبال بھی تھیں، لیکن انہیں نہیں خریدا گیا۔ مرد کھلاڑیوں میں صرف عثمان طارق کو برمنگھم فینکس  نے سائن کیا، جس کی ملکیت امریکی سرمایہ کاری فنڈ کے پاس ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK