جانئے اُن ۶؍ کامیاب افراد کے بارے میں جو کبھی بے گھر تھے

Updated: January 15, 2021, 3:22 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

کامیاب افراد اور امیروں کی زندگی دیکھ کر بیشتر لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ ’’کاش ہماری زندگی بھی ایسی ہوتی!‘‘ لیکن لوگ یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے یہ کامیابی کتنی جدوجہد کے بعد حاصل کی ہے۔ دنیا میں ایسے کئی افراد ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، اور آج لوگ ان کی کامیابی کی کہانیاں جاننا چاہتے ہیں جن سے نہ صرف انہیں تحریک بلکہ ذہن میں مثبت سوچ کو جگہ بھی ملتی ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کامیاب افراد اور امیروں کی زندگی دیکھ کر بیشتر لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ ’’کاش ہماری زندگی بھی ایسی ہوتی!‘‘ لیکن لوگ یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے یہ کامیابی کتنی جدوجہد کے بعد حاصل کی ہے۔ دنیا میں ایسے کئی افراد ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، اور آج لوگ ان کی کامیابی کی کہانیاں جاننا چاہتے ہیں جن سے نہ صرف انہیں تحریک بلکہ ذہن میں مثبت سوچ کو جگہ بھی ملتی ہے۔
 ان کی کہانیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ زندگی میں حالات چاہے کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ، ہمیں ثابت قدمی سے اپنے مقصد کی جانب بڑھتے رہنا چاہئے۔ طلبہ کیلئے کامیاب افراد کی کہانیاں جاننا ضروری ہے تاکہ انہیں بھی تحریک ملے، اور وہ زندگی میں کبھی نا امید نہ ہوں ۔ خیال رہے کہ مضبوط ارادوں سے کچھ بھی پانا ممکن ہے۔ ان کی کہانیاں ارادوں کو مضبوط کرتی ہیں ۔ لیکن ان تمام افراد نے پہلے ہی اپنا ہدف طے کرلیا تھا جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہدف پہلے طے کرلینا چاہئے۔ 
 اگر آپ نے اپنا ہدف طے کرلیا تو آپ کو وہاں تک پہنچنے کیلئے راہ بنانی ہوگی جس میں یقیناً دشواریاں پیش آئیں گی مگر آپ کو ان سے گھبرانا نہیں ہے بلکہ ان کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا ہے۔ جانئے اِن ۶؍ افراد کی کامیابی کی کہانیاں جن کے پاس رہنے کیلئے گھر بھی نہیں تھا لیکن انہوں نے اپنی محنت سے سب کچھ پالیا۔ 
چارلی چیپلن
 اپنی مزاحیہ اداکاری سے دنیا بھر میں مشہور چارلی چیپلن کے والد کے انتقال کے بعد ان کی ماں ذہنی توازن کھو بیٹھی تھیں اس لئے انہیں پاگل خانے بھیج دیا گیا تھا۔ اس وقت چارلی کی عمر صرف ۱۰؍ سال تھی۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ لندن کی سڑکوں پر سوتے، اور وہیں رہتے تھے۔ اس وقت ان کے ذہن میں یہی تھا کہ وہ کون سا کام کریں جس سے ان کے مالی حالات بہتر ہوجائیں ۔ چونکہ ان کے والدین شو بزنس سے وابستہ تھے اس لئے چارلی اور ان کے بھائی نے اسی شعبے میں کریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ آج چارلی چیپلن کا شمار دنیا کے مشہور اور عظیم ترین اداکاروں میں ہوتا ہے۔
اسٹیو جابس
 دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل انکارپوریٹڈ کے شریک بانی اسٹیو جابس سے سبھی واقف ہیں ۔۲۰۱۱ء میں کینسر کے عارضے کے سبب ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ ان کا تعلق امیر گھرانے سے نہیں تھا۔ نوجوانی میں وہ اپنے دوستوں کے کمروں میں زمین پر چادر بچھا کر سوتے تھے، ۵؍سینٹ میں کوک کی بوتلیں فروخت کرکے اپنے لئے کھانا خریدتے تھے اور جب انہیں اچھا کھانا کھانے کی خواہش ہوتی تھی تو وہ ہرے کرشنا مندر پیدل جاتے تھے کیونکہ وہاں کھانا مفت ملتا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہی شخص ایک دن دنیا کی مشہور ترین کمپنی ایپل کا مالک ہوگا۔آج اس کمپنی کی مالیت ۲؍ کھرب ڈالرس ہے۔
سیلویسٹر اسٹالون
 ہالی ووڈ کے سپر اسٹار سیلویسٹر اسٹالون کی ابتدائی زندگی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے گزری ہے۔ ایک مرتبہ کھانا کھانے کیلئے انہوں نے اپنا پالتو کتا محض ۵؍ ڈالرس میں فروخت کردیا تھا۔وقت پر کرایہ نہ ادا کرنے پر مکان مالک نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا۔ انہوں نے تقریباً ۳؍ ہفتے نیویارک سٹی کے بس اسٹاپ پر گزارے تھے۔ تاہم، پھر انہیں ایک فلم میں چھوٹا سا رول ملا۔ انہوں نے جدوجہد کرنے والے ایک باکسر ’’راکی‘‘ کی کہانی لکھی تھی جس پر بعد میں فلم بنائی گئی جو باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ بعد میں انہوں نے اپنا کتا اسی شخص سے ۳؍ ہزار ڈالرس میں خریدا تھا۔
کرس گارڈنر
 امریکہ کے مشہور بزنس مین اور ترغیبی مقرر نے اپنے ایک چھوٹے بیٹے کے ساتھ برسوں سڑکوں پر گزارے ہیں ۔اس وقت وہ ایک کمپنی میں ملازم تھے لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ کرس جہاں رہتے تھےوہاں بچوں کو رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ دوسری جگہ رہائش اختیار کریں اس لئے وہ بیٹے کے ساتھ سڑکوں پر گھومتے رہتے تھے۔ پھر ایک دن انہیں بیئر اسٹیرنس اینڈ کمپنی کی جانب سے ملازمت کی پیشکش ہوئی اور ان کی زندگی بدل گئی۔ اب ان کی اپنی بروکریج فرم ہے۔ ان کی زندگی پر ہالی ووڈ کی فلم ’’دی پرسوئیٹ آف ہیپی نیس‘‘ بنائی گئی تھی۔
جیمس کیمرون
 ’’دی ٹرمینیٹر‘‘، ’’ٹائی ٹینک‘‘ اور ’’اوتار‘‘ جیسی فلمیں بنانے والے ہدایتکار جب ’’دی ٹرمینیٹر‘‘ کی اسکرپٹ لکھ رہے تھے تو وہ بمشکل اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کر پاتے تھے۔ ان کے پاس کھانے کے پیسے تھے نہ رہنے کیلئے مکان۔ وہ اپنی کار میں سوتے تھے۔ فلم کی کہانی پروڈکشن کمپنیز کو پسند آتی لیکن وہ جیمس کو ہدایتکار بنانے کے حق میں نہیں تھیں ۔ کافی عرصہ بعد انہوں نے گیل این ہرڈ کے ساتھ پارٹنرشپ کی اور ایک ڈالر میں اپنی فلم کے حقوق فروخت کردیئے۔ اس کے بدلے میں انہیں ہدایتکار نامزد کیا گیا تھا۔ اس فلم نے باکس آفس پر ۷۸؍ ملین ڈالرز کا کاروبار کیا تھا۔ 
اسٹیو ہاروی
 امریکی ٹی وی پریزینٹر، اداکار،مصنف، کامیڈین، گیم شو کے میزبان اور بزنس مین جو اپنے شو ’’دی اسٹیو ہاروی مارننگ شو‘‘ کیلئے مشہور ہیں ، کو ان کا پہلا بریک ملنے سے قبل وہ تین سال تک اپنی فورڈ کار میں سوتے اور رہتے تھے۔ وہ ہائے ویز پر موجود ہوٹلوں ، گیس اسٹیشنز اور سوئمنگ پول کے باتھ روم میں نہایا کرتے تھے۔ وہ چھوٹے چھوٹے کلب میں اسٹینڈ اپ کامیڈی کرتے تھے جس کے انہیں بہت کم پیسے ملتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے ’’شوٹائم ایٹ دی اپولو‘‘ کی میزبانی کی تو ناظرین نے انہیں بہت پسند کیا، اور پھر ان کی زندگی بدل گئی۔ آج ان کے اثاثوں کی مالیت ۲۰۰؍ ملین ڈالرس ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK